ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

جموں و کشمیر: خراب موسم کی وجہ سے روک دی گئی سالانہ امرناتھ یاترا

سری نگر۔ جموں وکشمیر میں سالانہ امرناتھ یاترا شروع ہونے کے ایک دن بعد ہی شیو لنگم کے درشن کے لئے پہلگام اور بال تل پہنچنے والے ہزاروں یاتریوں کو ناساز گار موسم کی وجہ سے بیس کیمپوں میں ہی روک کر رکھا گیا ہے۔

  • UNI
  • Last Updated: Jun 28, 2018 10:32 AM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
جموں و کشمیر: خراب موسم کی وجہ سے روک دی گئی سالانہ امرناتھ یاترا
امرناتھ یاترا: فائل فوٹو۔

سری نگر۔ جموں وکشمیر میں سالانہ امرناتھ یاترا شروع ہونے کے ایک دن بعد ہی شیو لنگم کے درشن کے لئے پہلگام اور بال تل پہنچنے والے ہزاروں یاتریوں کو ناساز گار موسم کی وجہ سے بیس کیمپوں میں ہی روک کر رکھا گیا ہے۔ بتا دیں کہ دو مہینوں تک جاری رہنے والی سالانہ امرناتھ یاترا کا آج باقاعدہ آغازہونا تھا۔  سرکاری ذرائع نے یو این آئی کو بتایا کہ دونوں یاترا راستوں (روایتی پہلگام اور بال تل) پر جمعرات کی علی الصبح سے شدید بارشوں کا سلسلہ جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ احتیاطی طور پر یاتریوں کو بیس کیمپوں میں ہی روک کر رکھا گیا ہے۔


ذرائع نے بتایا کہ موسم میں بہتری آنے کے ساتھ ہی یاتریوں کو امرناتھ گھپا کی طرف جانے کی اجازت دی جائے گی۔ انہوں نے بتایا ’مختلف محکمے یاتریوں کی خدمت میں لگے ہوئے ہیں۔ ان کی سیفٹی ہماری بنیادی ترجیح ہے۔ جوں ہی موسم میں بہتری آئے گی، ہم یاتریوں کو پوتر گھپا کی طرف جانے کی اجازت دیں گے‘۔ سالانہ امرناتھ یاترا 26اگست کو رکھشا بندھن کے تہوار کے موقع پر خصوصی پوجا کے ساتھ اختتام پذیر ہوگی۔  واضح رہے کہ جنوبی کشمیر کے مشہور سیاحتی مقام پہلگام سے قریب 40 کلو میٹر دور پہاڑی گھپا میں بھگوان شیو سے منسوب برفانی عکس (شیولنگ)کے درشن کے لئے ہر سال لاکھوں کی تعداد میں شردھالو کشمیر آتے ہیں۔ قریب تین ہزار یاتری بدھ کے روز جموں کے بھگوتی نگر میں واقع یاتری نواسن بیس کیمپ سے روانہ ہوکر پہلگام اور بال تل پہنچے تھے۔ انہیں جموں وکشمیر کے چیف سکریٹری بی وی آر سبھرامنیم اور گورنر نریندر ناتھ ووہرا کے دو مشیروں بی بی ویاس اور وجے کمار نے جھنڈی دکھا کروادی کی طرف روانہ کیا تھا۔


سیکورٹی اداروں نے سالانہ امرناتھ یاترا کے سلسلے میں سیکورٹی کے مثالی انتظامات کئے ہیں۔ یاترا کی تاریخ میں پہلی بار یاتریوں کی گاڑیوں پر ٹریکنگ چپ نصب کئے جارہے ہیں جن کی مدد سے ان کی لوکیشن کا پتہ لگایا جارہا ہے۔ اس کے علاوہ یاترا راستوں بالخصوص کشمیر شاہراہ پر یاتریوں کے قافلوں کی مصنوعی سیاروں اور ڈرون کیمروں کے ذریعہ نگرانی کا عمل شروع کیا گیا ہے۔ یاتریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے جدید ٹیکنالوجی کے بھرپور استعمال کے علاوہ جموں وکشمیر کا گیٹ وے کہلائے جانے والے ’لکھن پور‘ سے لیکر امرناتھ گھپا تک ہزاروں کی تعداد میں سیکورٹی فورس اہلکار تعینات کئے گئے ہیں۔ یاترا کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے یاترا روٹوں پر قریب 500 سی سی ٹی وی کیمرے نصب کئے گئے ہیں۔ علاوہ ازیں سیکورٹی فورسز کی 240 اضافی کمپنیاں کام پر لگادی گئی ہیں۔ ہر کمپنی کم از کم ایک سو اہلکاروں پر مشتمل ہے۔


سیکورٹی ذرائع نے بتایا کہ ٹریکنگ چپ متعارف کرنے کا بنیادی مقصد گذشتہ برس 10 جولائی کو یاتریوں کی گاڑی پر پیش آئے حملے جیسے واقعات کو روکنا ہے۔ انہوں نے بتایا ’اس چپ کی بدولت نہ صرف یاتریوں کے تحفظ کو یقینی بنانا آسان ہوگا بلکہ امرناتھ یاتریوں کے لئے وضع کردہ قوانین کی خلاف ورزی کا سلسلہ بھی بند ہوگا‘۔ خیال رہے کہ ضلع اننت ناگ کے بٹنگو میں 10 جولائی 2017 ء کی رات جنگجوؤں اور سیکورٹی فورسز کے مابین فائرنگ کے تبادلے کے دوران ایک یاتری بس کے کراس فائرنگ کی زد میں آنے سے 7 امرناتھ یاتری ہلاک جبکہ کم از کم ڈیڑھ درجن دیگر زخمی ہوگئے تھے۔

First published: Jun 28, 2018 10:31 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading