உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    میڈیا میں اسلام کو نشانہ بنائے جانے کی وجہ سے یونیفارم سول کوڈ کو لبکر فیروز بخت نے داخل کی عرضی

    Youtube Video

    فیروز بخت احمد نے وضاحت دیتے ہوئے نیوز 18 سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسلمانوں سے متعلق معاملات میڈیا میں آنے سے پریشان ہوں، ان کا ماننا ہے کہ اسلام ایک سائنسی مذہب ہے، لیکن اس کو مسلمانوں نے بگاڑ د

    • Share this:
    مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے سابق چانسلر فیروز بخت احمد یکساں سول کوڈ کو لے کر سپریم کورٹ پہنچ گئے، 3 ماہ میں جوڈیشل کمیشن بنانے اور ڈرافٹ بنایے جانےکا مطالبہ کیا ہے۔تاہم اس پورے معاملے پر فیروز بخت احمد کو ملی تنظیموں کی جانب سے نشانے پر لیا گیا اور ان کی نیت پر سوال اٹھایا گیا یا جس سے پورا ایک تنازع کھڑا ہو گیا اس تنازع کے بعد فیروز بخت احمد نے وضاحت دیتے ہوئے نیوز 18 سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسلمانوں سے متعلق معاملات میڈیا میں آنے سے پریشان ہوں، ان کا ماننا ہے کہ اسلام ایک سائنسی مذہب ہے، لیکن اس کو مسلمانوں نے بگاڑ دیا۔ فیروز بخت احمد نے کہا کہ شیخ بیرون ملک سے آکر لڑکیوں کو کم عمری میں بیاہ کر لے جاتے تھے، اسلام میں چار شادیوں کو لے کر بھی نشانہ بنایا جاتا ہے۔

    فیروز بخت احمد نے کہا اس کے علاوہ لڑکیوں کو وراثت میں جائیداد میں حصہ نہیں دیا جاتا فیروز بخت احمد نے کہا کہ مرکزی حکومت اور وزیر اعظم نریندر مودی نے تین طلاق کے مسئلہ کو سدھار دیا ہے حالانکہ حکومت کی طرف سے اس پر قانون بنایا گیا لیکن اب بہت زیادہ طلاق کے معاملات سامنے نہیں آرہے ہیں۔ ان تمام باتوں کے پیش نظر ہم نے 2019 میں دہلی ہائی کورٹ میں عرضی داخل کی تھی جس کو اب سپریم کورٹ میں ٹرانسفر کیا گیا ہے جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ انہوں نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی، فیروز بخت احمد نے کہا تمام مذاہب کے اچھے نکات کو یکساں سول کوڈ کے تحت لیا جائے، بین الاقوامی کنونشن ہیں، انہیں سامنے رکھا جائے فیروز بخت نے کہا کہ ہم نے 3 ماہ میں کمیشن بنا کر ڈرافٹ لوگوں کے سامنے لانے کا مطالبہ کیا ہے۔

    فیروز بخت نے کہا کہ ان کی درخواست کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں، میں چاہتا ہوں کہ ملک اچھا رہے، فیروز بخت نے کہا کہ اس ملک میں نہ تو شرعی قانون ہے اور نہ ہی سناتن دھرم، بلکہ ملک کا آئین سپریم ہے۔ فیروز بخت احمد نے کہا انہیں ہیں کسی عہدے کا کوئی علاج نہیں ہے اور نہ ہی کسی خاص پارٹی کو فائدہ پہنچانا چاہتے ہیں بلکہ وہ اللہ کی نظر میں سرخ رو ہونا چاہتے ہیں۔

    Published by:Sana Naeem
    First published: