ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

گھٹتی اور مسلسل مہنگی ہوتی زمین کے پیش نظر اب قبرستان میں بھی کوٹہ کا عمل نافذ

نئی دہلی۔ گھٹتی اور مسلسل مہنگی ہوتی زمین نے اب قبرستان میں بھی کوٹہ لاگو کرنے کے لئے مجبور کر دیا ہے۔

  • IBN Khabar
  • Last Updated: Aug 24, 2016 04:29 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
گھٹتی اور مسلسل مہنگی ہوتی زمین کے پیش نظر اب قبرستان میں بھی کوٹہ کا عمل نافذ
نئی دہلی۔ گھٹتی اور مسلسل مہنگی ہوتی زمین نے اب قبرستان میں بھی کوٹہ لاگو کرنے کے لئے مجبور کر دیا ہے۔

نئی دہلی۔  گھٹتی اور مسلسل مہنگی ہوتی زمین نے اب قبرستان میں بھی کوٹہ لاگو کرنے کے لئے مجبور کر دیا ہے۔ جی ہاں، اب ہر ایک عیسائی خاندان کو قبرستان میں صرف ایک پلاٹ ملے گا۔ اس کے لئے باقاعدہ رجسٹریشن کرانا ہوگا۔ پلاٹ بھی چھ بائی چار کا ہوگا۔ اسی پلاٹ کو خاندان والے استعمال کر سکیں گے۔ بیشک سننے میں یہ بات ضرور اٹ پٹی سی لگ رہی ہو، لیکن یہ حقیقت ہے۔ سینٹ میری چرچ، آگرہ میں کیتھولک پادری فادر مون لاجرس نے چرچ میں اس کا اعلان کیا ہے۔ ضرورت کے مطابق زمین نہ ملنے پر یہ فیصلہ لیا گیا ہے۔


آگرہ مهادھرم  کے میڈیا انچارج فادر مون لاجرس کا کہنا ہے کہ ویسے تو ملک بھر میں ہمارے معاشرے کے قبرستان موجود ہیں۔ لیکن بڑا شہر ہو یا چھوٹا، ہر جگہ زمین کا ٹوٹا پڑ گیا ہے۔ اسی کو دیکھتے ہوئے قبرستان میں کوٹہ طے کیا گیا ہے۔ کوٹے کے مطابق چھوٹا ہو یا بڑا ہر ایک خاندان کو چھ بائی چار کا ایک پلاٹ ملے گا۔ جگہ کو لے کر کسی بھی خاندان کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ اس بات کا اعلان چرچ میں بھی کر دیا گیا ہے۔ اس کے لئے خاندانوں کا نام قبرستان کے ریکارڈ میں بھی درج کیا جائے گا۔


زمین کی اس پریشانی کو دیکھتے ہوئے سب سے پہلے ممبئی میں اس کی شروعات کی گئی ہے۔ اس نئی پہل سے لوگوں کو جوڑنے کے لئے انہیں بیدار بھی کیا جا رہا ہے۔ ہر اتوار کو چرچ میں دعا کے بعد لوگوں کو اس نئی پہل کے بارے میں معلومات دی جاتی ہے۔

First published: Aug 24, 2016 04:28 PM IST