اپنا ضلع منتخب کریں۔

    جمعیۃ علماء ہند کے امن وایکتا سمیلن میں موب لنچنگ کے خلاف موثر قانون بنانے کا مطالبہ

    امن و ایکتا سمیلن سے خطاب کرتے ہوئے مولانا محمود مدنی

    امن و ایکتا سمیلن سے خطاب کرتے ہوئے مولانا محمود مدنی

    جمعیتہ علماء ہند کے جنرل سکریٹری اور اس سمیلن کے آرگنائزر مولانا محمود مدنی نے امن و یکتا سمیلن اعلامیہ کا متن پڑھتے ہوئے کہا کہ یہ ملک ہمارا ہے، اس کو نفرت کی آندھیوں سے بچانے کی ذمہ داری ہم سب پر عائد ہوتی ہے۔

    • Share this:
      ملک میں جاری موب لنچنگ کے انسانیت سوز واقعات اور فرقہ پرستی کے بڑھتے قدم کو روکنے کے لیے آج یہاں جمعیۃ علماء ہند کے زیر اہتمام تالکٹورہ انڈوراسٹیڈیم، نئی دہلی میں امن و یکتا سمیلن منعقد ہوا جس میں ہند و، مسلم ، سکھ ، عیسائی اور بودھ سمیت سبھی مذاہب کے با اثر رہنمائوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر ایک مشترکہ اعلامیہ پڑھا گیا جس کی تائید مسلم رہنماؤں کے علاوہ سوامی چدا نند سرسوتی مہاراج، جین رہ نما ڈاکٹر اچاریہ لوکیش منی ، بدھشٹ رہ نما لاما لو بزانگ اور مسیحی آرک بشپ انل جوجف تھومس کوٹو ، گیانی رنجیت سنگھ گرودوارہ بنگلہ صاحب نے ہاتھ اٹھا کر کی ۔
      جمعیتہ علماء ہند کے جنرل سکریٹری اور اس سمیلن کے آرگنائزر مولانا محمود مدنی نے امن و یکتا سمیلن اعلامیہ کا متن پڑھتے ہوئے کہا کہ یہ ملک ہمارا ہے، اس کو نفرت کی آندھیوں سے بچانے کی ذمہ داری ہم سب پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسی احساس ذمہ داری کے تحت جمعیۃ علماء ہند نے مستقبل میں ذمہ داری نبھانے فیصلہ کیا ہے۔ چنانچہ  اعلامیہ میں یہ شامل کیا گیا کہ ملک کے ماحول کو سازگار بنائے رکھنے کے لیے ہر ضلع اور شہر میں ’جمعیۃ سدبھاؤنا منچ‘ قائم کیے جائیں جس میں ہر طبقہ اور ہر مذہب کے امن پسند شہریوں کو شامل کیا جائے اور اس منچ کی طرف سے موقع بموقع مشترکہ میٹنگیں اور پروگرام منعقد کیے جائیں تاکہ آپس میں اعتماد کی بحالی میں مدد مل سکے۔ مولانا مدنی نے اشعار کے ذریعہ اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج کے اجلاس میں پورا ہندوستان جمع ہے، لہذا یہ مطالبہ ہندوستان کے سبھی طبقات کی طرف سے ہے۔
      وہیں، معروف عالم دین اور صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ جمعیۃ علماء ہند کے قیام کا مقصد ملک کے مختلف مذاہب کے درمیان امن و امان کا قیام ہے۔ 70 سال گزر جانے کے بعد بھی جمعیۃ اپنے اکابر کی راہ پر قائم ہے اور حالات چاہے جیسے بھی ہوں، ہم اس سے نہیں ہٹیں گے۔ میں مسلمانوں سے کہتا ہوں کہ وہ صبر کا دامن ہر گز نہ چھوڑیں، کیوں کہ ظالم بن کر زندہ رہنے سے مظلوم بن کر مرجانا بہتر ہے۔
      صدارتی خطاب میں جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا قاری سید محمد عثمان منصورپوری نے متحدہ قومیت کے عنوان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جمعیۃ علماء ہند ہمیشہ سے یہ کہتی رہی ہے کہ باشندگان ہند بحیثیت ہندستانی ایک قوم ہیں۔ جمعیۃ علماء ہند کے سابق صدر حضرت شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنیؒ متحدہ قومیت کے علم بردار تھے اور انھو ں نے اس نظریہ کو پیش کرکے قوموں کو جوڑنے اور ایک دھاگے میں باندھنے کی راہ دکھائی تھی۔
      اجلاس کے دوران متفقہ طور پر ایک اعلامیہ بھی منظور کیا گیا اور اعلامیہ میں خاص طور سے مذہب یا راشٹرواد کے نام پرنہتے اور کمزور لوگوں کو یکا دکا گھیر کر مار نے، جلانے، موت کے گھاٹ اتارنے اور سوشل میڈیا کے ذریعہ اس کی تشہیر کرنے اور عوام میں خوف وہراس پیدا کرنے کو نہایت گھناؤ نا اور قابل نفرت عمل قراردیتے ہوئے کہا گیا کہ یہ سب کسی بھی مہذب سماج میں برداشت نہیں کیا جاسکتا۔ ہم سب ہندستانی ایسے لوگوں سے اور ان کی انسان دشمن تحریکوں سے بیزاری کا اظہار کرتے ہیں اور ان کے خلاف موثر کارروائی کا پرزور مطالبہ کرتے ہیں۔
      First published: