உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اتر پردیش میں آئندہ اسمبلی الیکشن کے پیش نظر جمعیۃ علماء الیکشن اور اقلیتی بیداری

    علماء کرام مانتے ہیں کہ اگر اب بھی مسلمانوں نے ہوش کے ناخن نہیں لئے تو آنے والے وقت میں مسائل سنگین ہوجائیں گے لہٰذا مختلف محاذوں پر شعوری تدابیر کئے جانے کی ضرورت ہے۔

    علماء کرام مانتے ہیں کہ اگر اب بھی مسلمانوں نے ہوش کے ناخن نہیں لئے تو آنے والے وقت میں مسائل سنگین ہوجائیں گے لہٰذا مختلف محاذوں پر شعوری تدابیر کئے جانے کی ضرورت ہے۔

    علماء کرام مانتے ہیں کہ اگر اب بھی مسلمانوں نے ہوش کے ناخن نہیں لئے تو آنے والے وقت میں مسائل سنگین ہوجائیں گے لہٰذا مختلف محاذوں پر شعوری تدابیر کئے جانے کی ضرورت ہے۔

    • Share this:
    لکھنؤ: اتر پردیش میں ہونے والے آئندہ اسمبلی الیکشن کے پیش نظر ملک کی معروف تنظیم جمیۃ العلماء نے خصوصی کوششیں شروع کردی ہیں۔ اتر پردیش وسط زون کے صدر اور معروف سماجی و ملی رہنما سید محمد وزین کی قیادت میں اس بات کو واضح طور پر کہا گیا کہ ووٹروں کو ان کے جمہوری اور دستوری حقوق کے لیے بیدار کرنے اور سیاسی و جمہوری نظام کو مستحکم کرکے ملک کے اتحاد و اتفاق کو بچانے کی اشد ضرورت ہے۔ اس لئے جمیۃ العلماء کی جانب سے کچھ اہم اور خصوصی تحریکات کو عملی جامہ پہنانے کی کوششوں پر غور کیا جارہا ہے۔ سید محمد وزین کہتے ہیں کہ کسی بھی تحریک کے بہتر نتائج برآمد کرنے کے لئے لوگوں کا ملک کے موجودہ سیاسی سماجی معاشی و مذہبی حالات اور اقلیتوں کی صورت حال سے واقف ہونا بہت ضروری ہے جس کے تناظر میں مسائل کے تدارک کے لئے ایسی کوششیں ضروری ہیں جن کے ذریعے لوگوں کو بیدار بھی کیا جاسکے اور اس ملک کے سیاسی جمہوری اور دستوری نظام کو بھی مستحکم کیا جا سکے ۔۔جمعیۃ العلماء وسط ز ون کےصدر سید محمد وزین اور جنرل سکرٹری مفتی ظفر احمد قاسمی یہ بھی کہتے ہیں کہ جن لوگوں نے اس ملک کی آزادی سے تعمیر و تشکیل تک غیر معمولی قربانیاں پیش کیں اب انہی کو حاشیے پر دھکیل دیا گیا ہے۔

    ملک میں یوں تو سبھی اقلیتوں کے ساتھ غیر دستوری رویے اپنائے جارہے ہیں لیکن سب سے بڑی اقلیت کو ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت ہر محاذ پر ناکام و پسپا کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں ۔ ان کوششوں کے تدارک کے لئے نہایت سنجیدہ اور شعوری پیش رفت درکار ہے ۔۔اس پیش رفت کو یقینی بنانے کے لئے لکھنؤکے ممتاز کالج میں منعقدہ اجلاس میں سید محمد وزین کی قیادت و رہنمائی میں اہم تجویزات و نکات پر خصوصی تبادلہء خیال کیا گیا۔ اس اہم اجلاس میں جلسہ کے مہما نان خصوصی مولانا حکیم الدین قاسمی نے کہا کہ اگر اس وقت بھی لوگوں بالخصوص اقلیتوں نے اپنی دستوری وسماجی ذمہداریوں کے پیش نظر ووٹ کی اہمیت کو نہیں سمجھا تو آنے والے وقت میں ملک کی جمہوری اور دستوری قدروں کا تحفظ مزید دشوار ہو جائے گا۔

    اس اجلاس میں تقریباً 25, اضلاع کی مجلس منتظمہ کے اراکین نے شرکت کی تمام اراکین جمعیت کو ووٹر بیداری کے سلسلے میں پاور پرزنٹیشن کے ذریعے ماہرین ووٹر بیداری کے سلسلے میں تربیت کے نکات پیش کئے جس سے الیکش کمیشن آف انڈیا کی دی ہوی ہدایات کو زمینی سطح پر عملی جامہ پہنایا جاسکے ۔ صدر سید محمد وزین کے مطابق ملک کئی اعتبار سے نازک حالات سے گزر رہاہے جمعیۃ العلما ء نے ہمیشہ ملک و ملت کی تعمیر اور قومی یکجہتی کے لئے غیر معمولی قربانیاں پیش کی ہیں اور اس وقت بھی اسی مشن کو آگے بڑھانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

    جمعیۃ العلما۔ لکھنؤیونٹ کے جنرل سکرٹری معروف دانشور قدوس ہاشمی نے اظہار خیال کرتے ہوئے واضح کیا کہ سیاسی استحکام کے ذریعے ہی زندگی کے دوسرے شعبوں کو مستحکم کیا جاسکتا ہے اس لئے ووٹر بیداری مہم کے تحت لوگوں کو ان کے جمہوری حق اور ووٹ کی اہمیت کے تئیں بیدار کیا جائے گا یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ جس طرح ملک کے حالات تبدیل ہورہے ہیں اس میں اقلیتوں کو بالخصوص مسلمانوں کے بیدار رہنے کی ضرورت ہے غفلت سے بڑے نقصانات ہونے کے اندیشے ہیں کیونکہ اسلام مخالف طاقتیں اپنے سوچے سمجھے ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں سید محمد وزین کہتے ہیں کہ ملک کا دستور کسی بھی مذہب کے لوگوں کے ساتھ نا انصافی اور بد دیانتی کی اجازت نہیں دیتا لہٰذا جس طرح زرعی قوانین کی واپسی کو یقینی بنایا جارہاہے اسی طرح سی اے اے اور این آر سی کے لیے بھی حکومت کو پیش رفت کرنی چاہیے جس سے ملک کی اقلیتوں کا یقین بحال اور دستوری و جمہوری قدریں مضبوط ہوں ۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: