உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Eid-Al-Adha: عیدالاضحیٰ حجاج کرام کی جانب سےادا کیےجانےوالےمناسک حج کی تکمیل کااظہار

    عید الاضحیٰ کی نماز ادا کرتے ہوئے

    عید الاضحیٰ کی نماز ادا کرتے ہوئے

    میدان عرفات کو جبل الرحمہ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے جس کا ترجمہ رحمت کا پہاڑ ہے۔ مکہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ذی الحجہ کے نویں دن حجاج کرام جبل الرحمہ پر نمازیں پڑھنے اور قرآن کی تلاوت کرنے کے لیے جمع ہوتے ہیں اور خوب دعائیں بھی کی جاتی ہیں۔

    • Share this:
      سعودی عرب میں 9 جولائی اور ہندوستان میں 10 جولائی بروز اتوار کو عید الاضحی (Eid-Al-Adha) کا شاندار پیمانے پر اہتمام کیا گیا۔ عید الاضحیٰ کو بقرعید بھی کہا جاتا ہے۔ یہ مناسک حج کی تکمیل کی علامت ہے۔ عید الاضحیٰ کی تقریبات یوم عرفات کے ایک دن بعد شروع ہوتی ہیں، اس دن سعودی عرب میں حجاج کرام میدان عرفات میں جمع ہوتے ہیں۔

      میدان عرفات کو جبل الرحمہ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے جس کا ترجمہ رحمت کا پہاڑ ہے۔ مکہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ذی الحجہ کے نویں دن حجاج کرام جبل الرحمہ پر نمازیں پڑھنے اور قرآن کی تلاوت کرنے کے لیے جمع ہوتے ہیں اور خوب دعائیں بھی کی جاتی ہیں۔

      اسلام تاریخ کے مطابق عرفات وہ جگہ ہے جہاں پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو آخری خطبہ دیا جو ان کے ساتھ حج کے لیے شریک تھے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبہ میں مسلمانوں کے درمیان اتحاد اور مساوات پر زور دیا اور اس طرح زائرین میدان عرفات میں جمع ہو کر آپ کو یاد کرتے ہیں۔

      حج کا اختتام عید الاضحی کے ساتھ ہوتا ہے۔ یہ عید حضرت ابراہیم علیہ السلام کی جانب سے دی جانے عظیم قربانی کو بھی یاد دلاتی ہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کا حکم دیا گیا تھا اور انہوں نے خوشی سے اس کے لیے پہل بھی کی تھی۔

      تاہم اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت جبرائیل علیہ السلام نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی چھری کے نیچے سے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ہٹا دیا اور فورا اسی جگہ ایک دنبہ کو رکھا دیا اور حضرت اسماعیل علیہ السلام صحیح سلامت تھے۔

      عیدالاضحیٰ سے متعلق آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی مسلمانوں سے اپیل:

      آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے اپنے صحافتی بیان میں کہا ہے کہ عید قرباں مسلمانوں کا نہایت اہم تہوار ہے، جو اللہ کے دو پیغمبروں حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی یاد دلاتا ہے اور ہمیں اس جانب متوجہ کرتا ہے کہ ہم اللہ کی رضا کی خاطر ہر طرح کی قربانی کے لئے تیار رہیں اور عقیدۂ توحید پرثابت قدم رہیں۔

      یہ بھی پڑھیں: ثنا خان کا حج کرنے کا خواب ہوا پورا، خوشی کے مارے چھلکے آنکھو سے آنسو
       آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے مزید کہا کہ اخلاق کے بھی اور قانون کے بھی، صحت کی حفاظت اور سماج کو بیماریوں سے بچانا سبھوں کی ذمہ داری ہے


      یہ بھی پڑھیں: Malaysia Masters Badminton:پی وی سندھو اور ایچ ایس پرانئے ملیشیا ماسٹرس کے دوسرے راؤنڈ میں، سائنا نہوال باہر



      اس موقع پرجانوروں کی قربانی بھی کی جاتی ہے، شریعت کا یہ حکم مالدار مسلمانوں سے متعلق ہے اور دنیا کے دوسرے مذاہب میں بھی اس کا تصور موجود ہے، لیکن قربانی کرتے ہوئے یہ بات ضروری ہے کہ ہم کوئی ایسا عمل نہ کریں جو دوسرے بھائیوں کے لئے دل آزاری کا سبب ہو، امن کو نقصان پہنچے، گندگی پھیلے، تعفن پیدا ہو، جانور کا متعفن حصہ سرِ راہ اور آبادیوں کے اندر پھینک دیا جائے، یہ ساری باتیں شریعت کے بھی خلاف ہیں۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: