உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مسلمان حکومت سے اپنی بات منوانے کے لئے احتجاج و مظاہرہ کی بجائے معیاری تعلیم پر توجہ دیں: عیدالفطر کے موقع پر مولانا محمد رحمانی کا خطاب

    نئی دہلی کے اوکھلا واقع جامعہ اسلامیہ سنابل میں عید الفطر کا خطبہ دیتے ہوئے مولانا محمد رحمانی سنابلی مدنی۔ فوٹو: نیوز 18، اردو۔

    نئی دہلی کے اوکھلا واقع جامعہ اسلامیہ سنابل میں عید الفطر کا خطبہ دیتے ہوئے مولانا محمد رحمانی سنابلی مدنی۔ فوٹو: نیوز 18، اردو۔

    ملک بھر میں عیدالفطر بھرپور مذہبی جوش و جذبے کے ساتھ منائی جارہی ہے۔اس سلسلے میں ملک بھر کی مساجد، عید گاہوں اور کھلے میدانوں میں نماز عید کے اجتماعات منعقد کیے گئے۔

    • Share this:
      ملک بھر میں عیدالفطر کا تہوار بھرپور مذہبی جوش و جذبے اور عقیدت کے ساتھ منایا جارہا ہے۔ اس سلسلے میں ملک بھر کی مساجد، عید گاہوں اور کھلے میدانوں میں نماز عید کے اجتماعات منعقد کئے گئے۔ وفاقی دارالحکومت دہلی کی شاہی جامع مسجد میں عید کا سب سے بڑا اجتماع ہوا۔ یہاں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی اور عید الفطر کی نماز ادا کی۔ ساتھ ہی ملک کے دیگر شہروں میں بھی نماز عید کا اہتمام کیا گیا۔

      وہیں، نئی دہلی کے اوکھلا واقع معروف دینی درسگاہ جامعہ اسلامیہ سنابل کے وسیع میدان میں عیدالفطر کی نماز صبح 7:10 بجے شروع ہوئی۔  یہاں ہزاروں کی تعداد میں مرد وخواتین نے عید الفطر کی نماز باجماعت ادا کی اور پھر انہوں نے پورے انہماک اور دلچسپی سے عید کا خطبہ سماعت فرمایا۔ نماز کے بعد ہزاروں کے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے معروف نوجوان عالم دین اور ابوالکلام آزاد اسلامک اویکننگ سینٹر، نئی دہلی کے صدر مولانا محمد رحمانی نے سب سے پہلے اللہ کا شکریہ ادا کیا کہ اس نے آج کا یہ مبارک دن مسلمانان عالم کو نصیب فرمایا۔ اپنے خطاب میں استقامت پر زور دیتے ہوئے مولانا نے کہا کہ جس طرح سے ہم نے رمضان کے پورے مہینہ میں عبادت  اور ذکر واذکار میں خود کو مصروف رکھا، ٹھیک اسی طرح ہم آنے والے دنوں میں بھی اس پر قائم رہیں اور مضبوطی سے جمے رہیں۔

      مولانا نے ساتھ ہی مسلمانوں کو یہ تلقین کی کہ وہ ملک کی تعمیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور حکومت سے اپنی بات منوانے کے لئے احتجاج ومظاہرہ کرنے اور سڑکوں پر نکل آنے کی بجائے اپنی تعلیم پر توجہ دیں۔ مولانا نے کہا کہ مسلمان اپنی تعلیم کے معیار کو بلند کریں۔ اسکولوں، دینی مدارس اور کالجوں میں تعلیم کا معیار بلند کریں اور تعلیم ہی کے ذریعہ وہ خود کو مضبوط بنائیں۔ مولانا نے ساتھ ہی اسلامی تریبت پر خصوصی طور پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بچے کے دودھ پینے کی عمر سے لے کر ہی اس کی تربیت ایسے انداز میں شروع کی جائے کہ وہ آگے چل کر اپنے آپ کو اسلامی ماحول میں اچھی طرح سے ڈھال لے۔ مولانا نے کہا کہ والدین کی یہ ذمہ داری ہے کہ جہاں وہ اپنے بچوں کے بہتر نشو ونما کے لئے سوچتے ہیں وہیں ان کو چاہئے کہ وہ اپنے بچوں کی درست خطوط پر اچھی تعلیم وتربیت کے سلسلہ میں بھی اپنا بھر پور رول ادا کریں۔ اس موقع پر مولانا رحمانی نے ہندوستان سمیت دنیا بھر میں امن وسلامتی، خوشحالی، بھائی چارے، قومی یکجہتی اور مسلمانوں کی فلاح وبہبود کے لئے خصوصی دعا مانگی۔ نماز کے بعد سب نے ایک دوسرے کے گلے مل کر عید کی مبارکباد دی۔

      اس سے پہلے نائب صدر جمہوریہ ہند ایم وینکیانائیڈو نے عیدالفطر کےموقع پر عوام کو مبارک باد دی ۔ اپنے ایک پیغام میں انہوں نے کہا کہ عیدالفطر ماہ رمضان المبارک کے اختتام پر منائی جاتی ہے اور یہ سچی جانثاری ، سخاوت ، اخوت اور قادرمطلق کے تئیں اظہار تشکر کا جشن ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس تہوار کی روح ایک دوسرے کے ساتھ محبت اور خوشی کومشترک کرنا ہے۔

      انہوں نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ یہ تہوار فیاضی و فراخدلی کے جذبے کو مضبوط کرے گا اور لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لائے گا ، انہیں دوستی ، اخوت ، باہمی احترام ، رحم دلی اور محبت کے بندھن میں باندھےگا۔ میری دعا ہے کہ عیدالفطر کے ساتھ جو مقدس اور اعلی اقدار وابستہ ہیں ، وہ ہماری زندگیوں کو امن اور ہم آہنگی سے مالا مال کریں گی ۔

      خیال رہے کہ گزشتہ منگل کی شام میں ملک کی سبھی رویت ہلال کمیٹیوں نے چاند نظر آنے کا اعلان کیا تھا جس کے مدنظر آج عید الفطر کا تہوار ہندوستان بھر میں منایا جارہا ہے۔
      First published: