ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

سپریم کورٹ کی دو ٹوک ، اصلاحات سے خود کو الگ نہیں رکھ سکتا الیکشن کمیشن

سپریم کورٹ نےپیر کو وی وی پی اے ٹی مشینوں کی ممکنہ تعداد بڑھائے جانے کے سلسلے میں الیکشن کمیشن کو 28 مارچ تک حلف نامہ داخل کرنے کی ہدایت دی ہے۔

  • Share this:
سپریم کورٹ کی دو ٹوک ، اصلاحات سے خود کو الگ نہیں رکھ سکتا الیکشن کمیشن
علامتی تصویر

سپریم کورٹ نےپیر کو ووٹر ویریفائڈ پیپر آڈٹ ٹریل(وی وی پی اے ٹی) مشینوں کی ممکنہ تعداد بڑھائے جانے کے سلسلے میں الیکشن کمیشن کو 28 مارچ تک حلف نامہ داخل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ عدالت عظمی نے کہا کہ یہ ووٹروں کے اطمینان کا سوال ہے اور اس کو انتخابی عمل پر سوال کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہئے ۔ چیف جسٹس رنجن گوگوئی اور جسٹس دیپک گپتا کی بینچ نے کہا کہ کوئی بھی ادارہ خواہ وہ عدالت ہی کیوں نہ ہو ، خود کو اصلاحات سے الگ نہیں رکھ سکتا ہے۔

چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی صدارت والی بنچ نے 21 سیاسی پارٹیوں کی عرضی پر سماعت کے دوران الیکشن کمیشن کو ہدایت دی کہ وہ آئندہ جمعرات کو ایک حلف نامہ دائر کرے جس میں یہ بتایا گیا ہو کہ ووٹنگ مراکز پر وی وی پی اے ٹی مشینوں کی تعداد میں اضافہ کہاں تک ممکن ہے ۔ اس سے اسے کیا کیا مشکلات درپیش ہوں گی۔ واضح رہے کہ اس معاملے کی اگلی سماعت یکم اپریل کو ہوگی۔

غور طلب ہے کہ آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ چندربابونائیڈو سمیت 21 اپوزیشن جماعتوں نے عدالت میں اپیل دائر کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ لوک سبھا الیکشن میں ہر سیٹ کے کم از کم 50 فیصد ووٹوں کی ٹیلی وی وی پی اے ٹی سے نکلنے والی پرچیوں کرائی جانی چاہیے۔


یو این آئی کے ان پٹ کے ساتھ 


 
First published: Mar 25, 2019 09:06 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading