உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اس وجہ سے عام انتخابات کے ساتھ نہیں ہوں گے جموں وکشمیر میں اسمبلی انتخابات

    علامتی تصویر

    علامتی تصویر

    جموں وکشمیر میں گزشتہ سال 20 دسمبر سے صدرراج نافذ کیا گیا تھا۔ جموں وکشمیر میں بی جے پی - پی ڈی پی اتحاد ٹوٹنے کے بعد محبوبہ مفتی نے  وزیراعلیٰ عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

    • Share this:
      گزشتہ کچھ وقت سے اس بات کی قیاس آرائی کی جارہی تھی کہ جموں وکشمیرمیں لوک سبھا الیکشن کے ساتھ ہی اسمبلی انتخابات بھی ہوں گے۔ تاہم اتوارکوالیکشن کمیشن نے ان تمام قیاس آرائیوں پرروک لگا دی ہے۔ الیکشن کمیشن نےکہا ہے کہ جموں وکشمیرمیں فی الحال صرف لوک سبھا الیکشن ہوں گے۔ کمیشن کے مطابق سیکورٹی وجوہات کے سبب یہ فیصلہ لیا گیا ہے۔ یہاں لوک سبھا الیکشن پانچ مرحلوں میں ہوں گے۔

      گزشتہ کچھ وقت سے الیکشن کمیشن کی نظرجموں وکشمیرپرتھی۔ وہاں کے حالات پرمسلسل نظررکھی جارہی تھی۔ الیکشن کمیشن نے بھی حالیہ دنوں میں وہاں کا دورہ کیا تھا۔ کمیشن نے کہا کہ انہیں وہاں کی حکومت اوروزارت داخلہ سے رپورٹ بھی ملی تھی۔

      الیکشن کمیشن نے یہ بھی دلیل دی تھی کہ ایک ساتھ دوانتخابات میں امیداروں اوررائے دہندگان کو سیکورٹی فراہم کرپانا مشکل کام ہوگا۔ الیکشن کمیشن کے اس فیصلے پرجموں وکشمیرکے سابق وزیراعلیٰ اورنیشنل کانفرنس کے نائب صدرعمرعبداللہ نے الیکشن کمیشن کے فیصلے پرناراضگی ظاہرکی ہے۔ واضح رہےکہ جموں وکشمیرمیں گزشتہ سال 20 دسمبرسے صدرراج نافذ کیا گیا تھا۔ جموں وکشمیرمیں بی جے پی - پی ڈی پی اتحاد ٹوٹنے کے بعد محبوبہ مفتی نے وزیراعلیٰ عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

      دراصل امید کی جارہی تھی کہ جموں وکشمیراسمبلی انتخابات کی تاریخ کا بھی اعلان کیا جائے گا تاہم ایسا نہیں ہوا۔ دراصل جموں و کشمیراسمبلی بھی تحلیل ہوچکی ہے، اس لئے کمیشن مئی میں ختم ہورہی 6 ماہ کی مدت کے اندریہاں بھی الیکشن کرانے کیلئے پابند ہے۔ ایک رائے ہے کہ جموں و کشمیراسمبلی انتخابات بھی لوک سبھا انتخابات کےساتھ ہی ہوں گے۔
      First published: