உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    وزیراعظم مودی کی زندگی پرمبنی فلم کی ریلیز پر الیکشن کمیشن نے روک لگادی

    فائل فوٹو

    فائل فوٹو

    سپریم کورٹ نے9 اپریل کواداکاروویک اوبرائےکےذریعہ بنائی گئی فلم کوریلیزکرنے پرپابندی عائد کرنےسےانکارکردیا تھا۔

    • Share this:
      نئی دہلی: الیکشن کمیشن نے وزیراعظم نریندرمودی کی زندگی پرمبنی فلم ’پی ایم نریندر مودی‘ کی ریلیزپرروک لگا دی ہے۔ چیف الیکشن کمشنرسنیل اروڑہ اورالیکشن کمشنرسشیل چندراوراشوک لواسا کےدستخط سےآج یہاں جاری حکم کےمطابق 17ویں لوک سبھا انتخابات میں 10 مار چ سےنافذ ضابطہ اخلاق کے پیش نظراس فلم کی ریلیزپرروک لگائی گئی ہے۔ 

      واضح رہےکہ اپوزیشن جماعتوں نےنریندرمودی پربنی اس فلم پرروک لگانےکی مانگ کی تھی اوراس فلم پرپورے ملک میں تنازعہ کھڑا ہوگیا تھا۔ اس معاملہ پرالیکشن کمیشن سے شکایت کی گئی تھی۔ اپوزیشن جماعتوں نےاپنی شکایت میں کہا تھا کہ اس فلم میں تخلیقی آزادی کےنام پرایک مخصوص پارٹی اورایک مخصوص امیدوارکی تشہیرکی گئی ہےاور رائےدہندگان کومتاثرکرنےکی کوشش کی گئی ہے، جوضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہے۔الیکشن کمیشن نےہدایت میں کہا کہ انتخابی ضابطہ اخلاق کے تحت الیکٹرانک میڈیا یا کسی سنیما میں اس طرح کے تشہیری سامان کی عوامی نمائش کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔ جس میں مرکزمیں حکمراں کسی جماعت یا سیاسی پارٹی کےامیدوارکی حصولیابیوں کو انتخابی فائدہ کےلئےدکھایا گیا ہو۔
      الیکشن کمیشن نے اپنی ہدایت میں کہا کہ سپریم کورٹ نے بھی غیرجانبدارانہ اورآزادانہ انتخابات کرائے جانے کے بارے میں فیصلہ سنایا ہے اوریہ آئین کے بنیادی ڈھانچے کے مطابق ہے۔ سپریم کورٹ نے 9 اپریل کواس فلم کے سلسلہ میں یہ فیصلہ سنایا تھا کہ اس فلم سےکسی سیاسی جماعت کوانتخابی فائدہ ہوسکتا ہے یا نہیں، اس کےفیصلےکا حق الیکشن کمیشن کوہے۔


      اس سے پہلے الیکشن کمیشن نے سنٹرل فلم سرٹی فکیشن بورڈ سےبھی کہا تھا کہ فلم کے بارے میں غورکرتے وقت وہ انتخابی ضابطہ اخلاق کا خیال رکھے۔ کمیشن نے 6 اپریل کو اپنی ہدایت میں کہا تھا کہ کسی بھی پرنٹ میڈیا میں سیاسی اشتہارکی اجازت پہلے کمیشن سے لی جائے۔ کمیشن نے اپنی ہدایت میں کہا ہےکہ کسی سنیما سے انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہوتی ہےتواس کی شکایت کی جانچ کمیشن کی طرف سے قائم کمیٹی کرے گی جس کی صدارت سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج یا ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ چیف جسٹس کریں گے۔
      First published: