உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    عام آدمی پارٹی کے 20 ممبران اسمبلی کی کرسی خطرے میں ، الیکشن کمیشن نے صدر جمہوریہ کو بھیجی اپنی سفارش

     آفس آف پروفٹ کے معاملہ میں عام آدمی پارٹی کے 20 ممبران اسمبلی کی مشکلات بڑھ گئی ہیں ۔

    آفس آف پروفٹ کے معاملہ میں عام آدمی پارٹی کے 20 ممبران اسمبلی کی مشکلات بڑھ گئی ہیں ۔

    آفس آف پروفٹ کے معاملہ میں عام آدمی پارٹی کے 20 ممبران اسمبلی کی مشکلات بڑھ گئی ہیں ۔

    • Share this:

      نئی دہلی : منفعت بخش عہدہ کے معاملہ میں عام آدمی پارٹی کے 20 ممبران اسمبلی کی مشکلات بڑھ گئی ہیں ۔ جمعہ کو الیکشن کمیشن نے اس سلسلہ میں اپنی سفارش صدر جمہوریہ کو بھیج دی ہے ۔ کمیشن نے اپنی سفارش میں ان 20ممبران اسمبلی کو نا اہل قرار دئے جانے کی سفارش کی ہے ۔ الیکشن کمیشن کا ماننا ہے کہ 20 ممبران اسمبلی منفعت بخش عہدہ کے دائرے میں آتے ہیں ۔
      خیال رہے کہ الیکشن کمیشن کا یہ قدم ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کہ چند دنوں بعد ہی اچل کمار جوتی چیف الیکشن کمیشنر کے عہدہ سے ریٹائر ہونے والے ہیں ۔ تاہم اگر الیکشن کمیشن کی اس سفارش کو صدر جمہوریہ منظور کرلیتے ہیں تو دہلی میں 70 رکنی اسمبلی کی 20 سیٹوں پر ایک منی اسمبلی الیکشن دیکھنے کو مل سکتا ہے ۔
      بچی رہے گی کیجریوال سرکار
      عام آدمی پارٹی نے دہلی اسمبلی کی 67 سیٹوں پر جیت درج کی تھی ۔ کپل مشرا ، تیمار پور کے ممبر اسمبلی پنکج پشکر ، برج واسجن کے ممبر اسمبلی دیویندر سیہراوت اور عاصم احمد خان باغی ہوگئے تھے جبکہ سندیپ کمار کو پارٹی نے معطل کردیا تھا ۔ فی الحال کیجریوال سرکار کے پاس 62 ممبران اسمبلی ہیں ۔اگر ان میں 20 چلے بھی جائیں گے تو بھی پارٹی ممبران اسمبلی کی تعداد 42 رہے گی جو کہ اکثریت کیلئے مطلوبہ تعداد سے کافی زیادہ ہے۔ اس لئے ان ممبران اسمبلی کی رکنیت چلے جانے کے بعد بھی کیجریوال سرکار پر کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔
      کیا ہے پورا معاملہ ؟
      دہلی حکومت نے مارچ 2015 میں عام آدمی پارٹی کے 21 ممبرا ن اسمبلی کو پارلیمانی سکریٹری بنا یا تھا ، جس کو لے کر اپوزیشن پارٹیوں بی جے پی اور کانگریس نے سوالات اٹھائے تھے ۔ اس کے خلاف پرشانت پٹیل نام کے ایک شخص نے صدر جمہوریہ کے پاس عرضی داخل کرکے الزام لگایا تھا کہ 21 ممبران اسمبلی منفعت بخش عہدہ پر ہیں ، اس لئے ان کی رکنیت ختم کی جانی چاہئے۔ تاہم اس سلسلہ میں کیجریوال حکومت نے جون 2015 میں ضروری تبدیلیوں کے ساتھ بل پاس کیا ، جس کو بھی مرکزی حکومت سے ابھی تک منظوری نہیں ملی ہے ۔

      First published: