உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کتنا ضروری تھا ووٹنگ سے 15 دن پہلے وزیر اعظم مودی کا خطاب ؟ جانچ کیلئے الیکشن کمیشن نے بنائی کمیٹی

    وزیر اعظم مودی ۔ فائل فوٹو ۔

    وزیر اعظم مودی ۔ فائل فوٹو ۔

    الیکشن کمیشن نے وزیر اعظم مودی کے ’مشن شکتی‘ خطاب پر اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے کیے گئے اعتراضات پر نوٹس لیتے ہوئے اس معاملے کی تحقیقات کے لئے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:
      الیکشن کمیشن نے وزیر اعظم مودی کے ’مشن شکتی‘ خطاب پر اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے کیے گئے اعتراضات پر نوٹس لیتے ہوئے اس معاملے کی تحقیقات کے لئے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے۔اپوزیشن جماعتوں کا الزام ہے کہ مسٹر مودی نے اپنے اس خطاب کے ذریعے انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی ہے۔
      الیکشن کمیشن نے بدھ کو ایک بیان جاری کیا ، جس میں کہا گیا ہے کہ ’’وزیر اعظم نریندر مودی کی الیکٹرانک میڈیا پر آج دوپہر بعد قوم کو خطاب کرنے کے معاملے کا الیکشن کمیشن نے نوٹس لیا ہے۔ کمیشن نے افسران کی ایک کمیٹی کو انتخابی ضابطہ اخلاق کے پیش نظر جلد سے جلد اس کی جانچ کا حکم دیا ہے۔
      اس سے قبل آج مارکسی کمیونسٹ پارٹی (سی پی ایم) کے لیڈر سیتا رام یچوری نے الیکشن کمیشن میں شکایت کی تھی کہ مسٹر مودی کی طرف قوم کو خطاب کرنے سے انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔مسٹر یچوری نے کمیشن کو ایک خط لکھ کر کہا کہ ’’مجھے پورا یقین ہے کہ پورا ملک ان خاص وجوہات کو جاننا چاہے گا کہ الیکشن کمیشن نے عام انتخابات کے دوران ہندوستانی سائنسدانوں کی کامیابیوں کو سیاسی رنگ دینے کی اجازت کیوں دی‘‘۔
      مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی نے بھی وزیر اعظم کے خطاب پر اعتراض ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس سے انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہوئی ہے اور اس سلسلے میں وہ الیکشن کمیشن جائیں گی۔وزیر اعظم مودی نے بدھ کو قوم کے نام خطاب میں بتایا کہ ہندوسان نے دشمن کے سیٹلائٹ کو خلا میں ہی مار گرانے کی صلاحیت حاصل کرکے دنیا کی چوتھی خلائی سپر پاور کے طور پر اپنا نام درج کرا لیا ہے۔
      مسٹر مودی نے بتایا کہ خلا میں 300 کلومیٹر دور ’لو ارتھ آربٹ‘ (زمین کے نچلے مدار) میں ایک لائیو سیٹلائٹ دیسی اینٹی سیٹلائٹ میزائل یعنی فائر میزائل (اے سیٹ) سے کامیابی کے ساتھ مار گرایا گیا۔ یہ مصنوعی سیٹلائٹ پہلے سے طے شدہ ہدف تھا۔امریکہ، روس اور چین کے بعد یہ کارنامہ کرنے والا ہندوستان دنیا کا چوتھا ملک بن گیا ہے۔
      First published: