ہوم » نیوز » No Category

تعلیمی تحریک کے لئے سرسید احمد خاں کے نظریہ تعلیم کو اپنانے کی ضرورت: پروفیسرعبدالحلیم

نئی دہلی۔ ملک اور خاص طور پر سیمانچل خطے میں تعلیم کو فروغ دینے کے لئے سرسید احمد خاں کے نظریہ کو اپنانے کی اپیل کرتے ہوئے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبے فارسی کے صدر ڈاکٹر پروفیسر عبدالحلیم نے کہا کہ تعلیم کے بغیر کسی بھی قسم کی ترقی ممکن نہیں ہے۔

  • UNI
  • Last Updated: Nov 20, 2016 07:44 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
تعلیمی تحریک کے لئے سرسید احمد خاں کے نظریہ تعلیم کو اپنانے کی ضرورت: پروفیسرعبدالحلیم
نئی دہلی۔ ملک اور خاص طور پر سیمانچل خطے میں تعلیم کو فروغ دینے کے لئے سرسید احمد خاں کے نظریہ کو اپنانے کی اپیل کرتے ہوئے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبے فارسی کے صدر ڈاکٹر پروفیسر عبدالحلیم نے کہا کہ تعلیم کے بغیر کسی بھی قسم کی ترقی ممکن نہیں ہے۔

نئی دہلی۔ ملک اور خاص طور پر سیمانچل خطے میں تعلیم کو فروغ دینے کے لئے سرسید احمد خاں کے نظریہ کو اپنانے کی اپیل کرتے ہوئے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبے فارسی کے صدر ڈاکٹر پروفیسر عبدالحلیم نے کہا کہ تعلیم کے بغیر کسی بھی قسم کی ترقی ممکن نہیں ہے۔ یہ بات انہوں نے ہیومن چین کے زیر اہتمام ایک پروگرام میں کہی۔ انہوں نے علاقے کی تعلیمی، سماجی اور سیاسی صورت حال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات نہیں ہے کہ  اس علاقے میں صلاحیت کی کمی ہے بلکہ یہ خطہ تمام صلاحیتوں سے مالا مال ہے لیکن اس کے استعمال نہ ہونے کی وجہ سے یہ خطہ پسماندگی کا شکار ہے۔ انہوں نے تعلیم کے میدان میں سابق صدر جمہوریہ ڈاکٹر ذاکر حسین کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جو خوبی ان کے اندر تھی وہ وہی خوبی وہ اپنے شاگردوں میں منتقل کرنے کا مادہ رکھتے تھے۔ ہیومن چین کے صدر انجینئر محمد اسلم علیگ نے 11دسمبر کو کشن گنج کے سونتھا ہاٹ میں منعقد ہونے والے بین الاقوامی پروگرام کی افادیت کے بارے میں ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ پہلا موقع ہے جب اتنا بڑا پروگرام اس خطے میں ہونے جارہا ہے۔ یہ صرف ایک پروگرام نہیں ہوگا بلکہ اس سے ہماری تعلیمی تحریک کو مہمیز ملے گی۔


انہوں نے مستقبل میں تعلیمی تحریک میں نئی جان ڈالنے کے حوالے سے کہا کہ جامعہ کے وائس چانسلر سے بات چل رہی ہے کہ اس خطے میں ایک اسکول کھولا جائے۔ اسی کے ساتھ بہار کے وزیر تعلیم پر اس بات کے لئے دباو ڈالا جا رہا ہے کہ پورنیہ میں ایک ریاستی یونیورسٹی قائم کریں۔ انہوں نے کہا کہ پورے بہار کے مسلمانوں کی دو تہائی آبادی سیمانچل خطے میں رہتی ہے لیکن مسلمانوں کی سہولت کے لئے قائم کردہ  کوئی ادارہ اس خطے میں نہیں ہے جس کی وجہ سے وہاں کے مسلمان اس سے فائدہ اٹھانے سے محروم رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مانو کے کیمپس کے ساتھ بہار مدرسہ بورڈ کا آفس بھی اس خطے میں ہونا چاہئے اور این سی پی یو ایل کا ریجنل سنٹر بھی سیمانچل کے خطے میں قائم ہونا چاہئے تاکہ اس سے زیادہ مسلمان اس سے فائدہ اٹھاسکیں۔


 ہیومن چین کے جنرل سکریٹری اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبہ اردو کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر خالد مبشر نے پروگرام کی نظامت کرتے ہوئے کہا کہ اس پروگرام کا مقصد تمام وسائل سے محروم اس خطے کو اس کا حق دلانا ہے۔ این سی پی یو ایل اور اقلیتی امور کی وزارت سے اب تک ہم لوگ فائدہ اٹھانے میں محروم رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے وسائل پر تمام لوگوں کا حق برابر ہے تو پھر سیمانچل کا خطہ اس سے محروم کیوں رہا ہے۔ اس سوال پر ہم لوگوں کو سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے اور اگر اس میں ہماری کوئی کمی ہے تو اس کمی کو دور کرنا چاہئے۔اس کے علاوہ دیگر مقررین جامعہ ہمدرد کے پروفیسر سرور عالم، ممتاز عالم، عبدالمنان، افتخارالزماں اور ہیومن چین کے دیگر ذمہ دار شامل تھے۔ شرکاء میں جامعہ ۔ جے این یو اور جامعہ ہمدرد کے طلبہ  شامل ہیں۔ واضح رہے کہ این سی پی یو ایل کے اشتراک سے ہیومن چین کے زیر اہتمام 11 دسمبر کو کشن گنج کے سونتھا ہاٹ میں ایک بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد ہورہا ہے جس میں قومی اور بین الاقوامی شخصیات کی شرکت متوقع ہے۔

First published: Nov 20, 2016 07:44 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading