உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    وزارت داخلہ نے کیا خبردار ، کہا : ان لاک کے دوران خطرناک ثابت ہو سکتی ہے لاپرواہی  

    وزارت داخلہ نے کیا خبردار ، کہا : ان لاک کے دوران خطرناک ثابت ہو سکتی ہے لاپرواہی  

    وزارت داخلہ نے کیا خبردار ، کہا : ان لاک کے دوران خطرناک ثابت ہو سکتی ہے لاپرواہی  

    مرکزی ہوم سکریٹری اجے بھلّا نے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو ہفتے کے روز خط لکھ کر کہا ہے کہ کورونا وائرس کے کیسز میں کمی کے پیش نظر مختلف شعبوں کو کھولا جانا جتنا ضروری ہے اتنا ہی ضروری یہ بھی ہے کہ اس دوران مکمل احتیاط برتی جائے اور زمینی صورتحال کے اندازے کی بنیاد پر ہی فیصلے کیے جائیں۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:
      نئی دہلی : مرکزی وزارت داخلہ نے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام ریاستوں کو آگاہ کیا ہے کہ پورے ملک میں کورونا وائرس کے کیسز میں کمی کے پیش نظر کیے جانے والے اَن لاک کے دوران کسی بھی طرح کی لاپرواہی یا نرمی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے لہٰذا مناسب کووڈ برتاؤ کے ساتھ ساتھ ٹیسٹ، ٹریک، ٹریٹمنٹ اور ٹیکہ کاری کی پانچ نکاتی پالیسی کو مکمل طور پر اختیار کیے جانے کی سخت ضرورت ہے۔

      مرکزی ہوم سکریٹری اجے بھلّا نے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو ہفتے کے روز خط لکھ کر کہا ہے کہ کورونا وائرس کے کیسز میں کمی کے پیش نظر مختلف شعبوں کو کھولا جانا جتنا ضروری ہے اتنا ہی ضروری یہ بھی ہے کہ اس دوران مکمل احتیاط برتی جائے اور زمینی صورتحال کے اندازے کی بنیاد پر ہی فیصلے کیے جائیں۔

      انہوں نے زور دے کر کہا کہ اَن لاک کے دوران پانچ نکاتی پالیسی کو سختی سے اختیار کیے جانے کی ضرورت ہے۔ اس میں مناسب کووڈ برتاؤ کے ساتھ ساتھ کورونا ٹیسٹ، متاثرہ شخص کے رابطوں کا پتہ لگانا، متاثرین کا علاج اور ٹیکہ کاری ضروری ہے۔

      طبی عملہ پر حملہ کرنے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے

      ادھر ملک کے مختلف حصوں میں ڈاکٹروں اور دیگر طبی کارکنوں پر حملے کے واقعات کا سنجیدگی سے نوٹس لیتے ہوئے مرکزی وزارت داخلہ نے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو ایسے واقعات سے سختی سے نمٹنے کی ہدایت جاری کی ہے۔ مرکزی داخلہ سکریٹری اجے بھلا نے ہفتہ کے روز ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے چیف سکریٹریوں کو خط لکھ کر کہا ہے کہ 27 اپریل اور 9 جون کو بھی اس سلسلے میں وزارت داخلہ کی جانب سے ایڈوائزری جاری کی گئی تھی، لیکن ڈاکٹروں اور طبی کارکنوں کے ساتھ مارپیٹ کرنے اور بدسلوکی سے پیش آنے کے واقعات رکنے کا نام نہیں لے رہے ہيں۔

      انہوں نے کہا کہ اس طرح کے واقعات سے ڈاکٹروں اور پورے نظام کے طبی کارکنوں کے حوصلے پست ہوتے ہیں، جس کے اثرات پورے نظام صحت پر مرتب ہوتے ہیں۔ داخلہ سکریٹری نے کہا کہ پہلے کی مشاورت میں ان واقعات کو روکنے کے لئے متعدد اقدامات تجویز کیے گئے جن میں صحت کےمراکز اور اسپتالوں خصوصا، کووڈ اسپتالوں میں حفاظتی انتظامات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، تمام مراکز میں استقبالیہ مراکز قائم کرنے اور عوام کو ویب سائٹ اور ہیلپ لائن کے ذریعے صحیح معلومات پہنچانے کو کہا گیا۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: