உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کسی بھی معاشرے کی ترقی کو یقینی بنانے کلئے خواتین کے حقوق کی بازیابی کو یقینی بنایا بیحد ضرور

     کسی بھی معاشرے کی ترقی کو یقینی بنانے کے لئے ضروری ہے کہ اس معاشرے میں خواتین کے حقوق کی بازیابی کو یقینی بنایا جائے انہیں ترقی اور روزگار کے موقعے فراہم کرکے انمیں خود اعتمادی پیدا کی جائے انہیں زندگی کے ہر میدان میں مناسب نمائندگی دی جائے تب ہمارا معاشرہ ایک مکمل اور ترقی یافتہ معاشرہ کہلا سکے گا۔

    کسی بھی معاشرے کی ترقی کو یقینی بنانے کے لئے ضروری ہے کہ اس معاشرے میں خواتین کے حقوق کی بازیابی کو یقینی بنایا جائے انہیں ترقی اور روزگار کے موقعے فراہم کرکے انمیں خود اعتمادی پیدا کی جائے انہیں زندگی کے ہر میدان میں مناسب نمائندگی دی جائے تب ہمارا معاشرہ ایک مکمل اور ترقی یافتہ معاشرہ کہلا سکے گا۔

    کسی بھی معاشرے کی ترقی کو یقینی بنانے کے لئے ضروری ہے کہ اس معاشرے میں خواتین کے حقوق کی بازیابی کو یقینی بنایا جائے انہیں ترقی اور روزگار کے موقعے فراہم کرکے انمیں خود اعتمادی پیدا کی جائے انہیں زندگی کے ہر میدان میں مناسب نمائندگی دی جائے تب ہمارا معاشرہ ایک مکمل اور ترقی یافتہ معاشرہ کہلا سکے گا۔

    • Share this:
    لکھنئو۔ سماجی اور سیاسی محاذوں پر کام کرنے والی خواتین کے سامنے جو مسائل ہیں ان میں وسائل کی کمی اور عوامی تعاون کافقدان ایسے مسئلے ہیں جن کو حل کرنے کے کئے مشترکہ اور مستحکم کوششو ں کی ضرورت ہے ۔ کسی بھی معاشرے کی ترقی کو یقینی بنانے کے لئے ضروری ہے کہ اس معاشرے میں خواتین کے حقوق کی بازیابی کو یقینی بنایا جائے انہیں ترقی اور روزگار کے موقعے فراہم کرکے انمیں خود اعتمادی پیدا کی جائے انہیں زندگی کے ہر میدان میں مناسب نمائندگی دی جائے تب ہمارا معاشرہ ایک مکمل اور ترقی یافتہ معاشرہ کہلا سکے گا۔ معروف سماجی کارکن طاہرہ حسن کہتی ہیں کہ بیٹی بچاو بیٹی پڑھاو سے لےکر ناری ابھیمان و سمّان تک نعرے تو بہت دیے گئے لیکن عمل بالکل نہیں کیا گیا نتیجہ سامنے ہے کہ جس انداز کے مظالم لڑکیوں اور عورتوں پر برپا ہورہے ہیں۔

    انہوں نے یہ بتا دیا ہے کہ مردوں کی فوقیت والے سماج میں آج بھی عورت کو وہ مقام حاصل نہیں جس کے خواب اسے برسوں سے دکھائے جارہے ہیں۔ ہندوستانی معاشرے کی اصلاح،غریب اور پسماندہ لوگوں کے مسائل کا حل اور ان کی بہبود نیز ان کی ترقی کے لئے نئے اور مستحکم منصوبوں سے لے کر عملی اقدامات تک خواتین ہر شعبے میں خود اہم کردار ادا کرسکتی ہیں لیکن اس سطح پر بھی کام نہیں ہوا ۔ معروف سماجی کارکن اور آل انڈیا مسلم خواتین پرسنل لا بورڈ کی صدر شائستہ عنبر کہتی ہیں کہ اگر ہمارے سماج کی عورتوں نے اپنی خانگی سماجی مذہبی سیاسی اور تعلیمی ذمہداریوں کو ایمانداری و دیانت داری سے پورا کیا ہوتا تو مسلم دلت اور دیگر پسماندہ طبقوں کی خواتین اور ان سے منسلک لوگوں کی حالت قدر غنیمت ہوتی۔

    معروف سماجی کارکن اور بلاک پرمُکھ ترنم صدیقی کے مطابق اس تنزلی کے اسباب بہت سے ہیں کچھ تو خواتین کے حقوق مسلسل مصلوب کئے جاتے رہے اور کچھ خود خواتین کی خاموشی تساہلی نا ہلی اور خوف و توہم پرستی کے سبب بھی منظر نامہ خراب سے خراب تر ہوگیا ۔ ترنم صدیقی نے پیام انسانیت، تحریک نسواں اور بزمِ اردو کے پلیٹ فارم سے کام کرنے والی خواتین سےایک بار پھر یہ گزارش کی ہے کہ وہ بغیر تفریق مذہب و ملت سماج کے سبھی طبقوں کے لئے کام کریں ۔موجودہ عہد منفی سیاست کا عہد ہے لوگ فرقہ پرستی کو فروغ دے رہے ہیں ایسے حالات میں ہماری ذمہداریاں آئین و دستور کے تحفظ کے ساتھ ساتھ اپنی جمہوری اور انسانی قدروں کو بچانے کے لئے بھی خاصی بڑھ جاتی ہیں ۔

    یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ کورونا کی ابتدا سے تاحال جس انداز کی خدمات ترنم صدیقی نے بی کے ٹی اور لکھنئو کے دیگر علاقوں ،قرب وجوار کے دیہات و مضافات میں پیش کی ہیں وہ واقعی ہمارے سماج کی سماجی سطح پر کام کرنے والی خواتین کے لئے مشعلِ راہ ہیں ۔لوگوں کےروز مرہ مسائل کا حل، غریبوں اور بے سہارا مریضوں کا علاج، غریب لوگوں میں کھانے کی فراہمی بنیادی سہولیات کی فراہمی کے باب میں اہم کوششیں اور خاص طور پر دستکاری میں ماہر خواتین کو کام دلوانا لیکن ان تمام اقدامات کے باوجود بھی پرانے لکھنئو اور قرب وجوار کے علاقوں میں سیکڑوں گھرانے تباہی اور بھکمری کی کگار پر ہیں اس کا ایک سبب یہ ہے کہ وہ خواتین جو چکن جاری زردوزی اور کامدانی کے کام کرکے اپنے بچوں کی پرورش کرتی تھیں وہ مجبور و بے بس ہوکر رہ گئی ہیں سرکار کی جانب سے تقسیم ہونے والا نام نہاد اناج بھی ان تک اس لئے نہیں پہنچ پاتا کہ ان کے پاس وہ راشن کارڈ اور دستاویز نہیں جن کو دیکھ کر لوگوں کو مُٹّھی بھر اناج دیا جاتا ہے ۔۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: