ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

قبرستان میں دفن کی جارہی تھی بچی کی لاش ، خبر ملتے ہی چار تھانوں میں مچ گئی افراتفری ، جانئے کیوں

پولیس سب انسپکٹر رمیش چندر نے بتایا کہ چونکہ متنازع قبرستان (Disputed Cemetery) پر ایس ڈی ایم عدالت کے ذریعہ روک لگائی گئی ہے ، اس لئے یہاں پر کسی کو دفن کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے ۔

  • Share this:
قبرستان میں دفن کی جارہی تھی بچی کی لاش ، خبر ملتے ہی چار تھانوں میں مچ گئی افراتفری ، جانئے کیوں
قبرستان میں دفن کی جارہی تھی بچی کی لاش ، خبر ملتے ہی چار تھانوں میں مچ گئی افراتفری

اترپردیش کے اٹاوہ ضلع میں جسونت نگر علاقہ کے کٹیکھیڑا گاوں میں ایک متنازع قبرستان میں معصوم بچی کی لاش کو دفن کرنے کی خبر سے افراتفری مچ گئی ، جس کے بعد تدفین کو روکنے کیلئے وید پورہ ، سول لائن ، جسونت نگر اور سیفئی تھانہ کی پولیس موقع پر پہنچ گئی ۔ پولیس نے ایس ڈی ایم کورٹ کے حکم پر عمل کراوتے ہوئے معصوم کی لاش کو دوسرے قبرستان میں دفن کرنے کی اجازت دی ۔


معلومات کے مطابق متنازع قبرستان محسن کنبہ کا ہے ، جہاں گزشتہ 60 سالوں میں کنبہ کے 20 اراکین کو دفن کیا گیا ہے ، لیکن اب گاوں کے ایک دبنگ نے قبرستان کی زمین خرید لی ہے ۔ اس سے پہلے دو دیگر لوگوں نے بھی اس زمین کی خریداری کی ، لیکن کسی نہ کسی وجہ سے وہ لوگ زمین پر قبضہ نہیں کرسکے ۔ لیکن اس مرتبہ دبنگ شخص نے قبرستان کی زمین پر قبضہ کرنے کی ہمت کی ، لیکن گاوں والوں نے اس کی شکایت ایس ڈی ایم سے کردی ۔ ضلع انتظامیہ نے معاملہ کے حل تک قبرستان میں تدفین پر روک لگا دی ہے ۔


گاوں کے پردھان ہری لال نے بتایا کہ دبنگوں نے محسن کنبہ کو پریشان کر رکھا ہے ۔ بیچ میں کچھ لوگوں نے قبرستان کی زمین اپنے نام پر کروا کر قبضہ کرنے کی کوشش کی ، لیکن ان کے کنبہ میں کوئی نہ کوئی حادثہ پیش آگیا ، اس لئے قبرستان کی زمین پر قبضہ کرنے کا خیال چھوڑ دیا ، لیکن اس مرتبہ گاوں کا ایک دبنگ نے اس پر ہر حالت میں قبضہ کرنے کیلئے پوری زور لگا رکھی ہے ۔ حالانکہ زمین مالک کی کورٹ میں شکایت پر ایس ڈی ایم نے اس قبرستان میں کسی بھی طرح کی سرگرمی پر روک لگادی ہے ۔


پولیس سب انسپکٹر رمیش چندر نے بتایا کہ چونکہ متنازع قبرستان پر ایس ڈی ایم عدالت کے ذریعہ روک لگائی گئی ہے ، اس لئے یہاں پر کسی کو دفن کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے ، اس لئے معصوم کی لاش کی تدفین کی خبر پر پولیس اور انتظامیہ حرکت میں آگئی ۔

بتادیں کہ قبرستان کا تنازع گزشتہ تین سالوں سے جاری ہے ۔ رمیش یادو نام کا ایک شخص اس قبرستان کو مبینہ طور پر خرید کر قبضہ کرنے کی کوشش میں ہے ، جس کے بعد گاوں کا ماحول خراب ہوگیا ۔ گاوں میں رہنے والے 50 مسلم کنبوں میں دہشت کا ماحول ہے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Nov 15, 2020 06:22 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading