ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

ڈاکٹر کفیل خان کی رہائی کے بعد بھی سی اے اے مخالف تحریک میں شامل درجنوں نوجوان ہیں جیل میں بند

سی اے اے مخالف تحریک میں شامل ہونے کے معاملے میں ڈاکٹرکفیل خان کو بھلے ہی جیل سے رہائی مل گئی ہے۔ لیکن احتجاجی تحریک میں شامل درجنوں نوجوان ایسے ہیں جو ابھی بھی جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہیں۔

  • Share this:
ڈاکٹر کفیل خان کی رہائی کے بعد بھی سی اے اے مخالف تحریک میں شامل درجنوں نوجوان  ہیں جیل میں بند
سی اے اے مخالف تحریک میں شامل درجنوں نوجوان ہیں جیل میں بند

سی اے اے مخالف تحریک میں شامل ہونے کے معاملے میں ڈاکٹرکفیل خان کو بھلے ہی جیل سے رہائی مل  گئی ہے۔ لیکن احتجاجی تحریک میں شامل درجنوں نوجوان  ایسے ہیں جو ابھی بھی جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہیں۔ سی اے اے مخالف تحریک میں شامل کارکنان کے خلاف یو پی حکومت کی کارروائی میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ لاک ڈاؤن کے دوران پولیس نے ایسے افراد کے خلاف سنگین دفعات کے تحت مقدے درج کئے ہیں جو سی اے اے مخالف  تحریک میڈاکٹر کفیل خان کی رہائی کے بعد بھی سی اے اے مخالف تحریک میں شامل درجنوں نوجوان اب بھی ہیں جیل میں بندں پیش پیش رہے ہیں۔

اب ان نوجوانوں کو پولیس کی کا رروائی کا سامنا ہے ۔ الہ آباد میں شہریت ترمیمی قانون مخالف دھرنے کی شروعات گذشتہ ۱۳؍ جنوری کو مقامی روشن باغ  پارک سے کی گئی تھی ۔ دو مہینے سے زیادہ چلنے والے اس احتجاجی دھرنے کو مقامی پولیس نے ۲۱؍ مارچ کو ختم کرا دیا تھا  ۔ پولیس   کے اعلیٰ افسران نے روشن باغ پہنچ کر کورونا وبا ء کا حوالہ دے کرلوگوں سے احتجاج ختم کرنے کی اپیل کی  تھی ۔ پولیس نے احتجاج میں شامل افراد کو یقین دلایا  تھا کہ دھرنا ختم کرنے کے بعد کسی کے بھی خلاف کوئی کار روائی نہیں کی جائے گی ،اور یہ کہ کورونا وباء کے ختم  ہونے کے بعد احتجاجی دھرنا پھرسے شروع کر سکتے ہیں لیکن احتجاجی دھرنا ختم ہونے کے بعد ہی پولیس نے اپنے  وعدے سے مکر گئی۔


سی اے اے مخالف تحریک میں شامل رہے الہ آباد ہائی کورٹ کے سینئرایڈوکیٹ سید فرمان احمد نقوی کا کہنا ہے کہ یو پی حکومت جمہوری آوازوں کو دبانے کی کوشش کررہی ہے۔ مقامی پولیس اب تک ایک سو پچاس نا معلوم افراد کے خلاف ایف آئی آردرج کر چکی ہے ۔ اس میں تقریباً پچاس افراد کو نام زد کیا گیا ہے ۔ نام زد لوگوں میں سے کئی افراد کو جیل بھیجا جاچکا ہے ۔ پولیس کی اس کارروائی سے روشن باغ احتجاجی دھرنے میں شامل افراد میں خوف و ہراس کا ما حول  ہے۔


دھرنے میں شامل  ہونے والے بعض نوجوانوں کا کہنا ہے کہ مقامی پولیس کی طرف سے ان کو لگاتار پریشان کیا جا رہا ہے اور ان کو طرح طرح  کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں ۔ مسلم سماج کے باشعور افراد کا خیال ہے کہ سی اے اے مخالف تحریک کے دوران اور اس کے بعد ریاستی حکومت کا امتیازی رویہ کھل کر سامنے آ گیا ہے ۔ان افراد کا کہنا ہے کہ یو پی حکومت اس وقت ایک مخصوص فرقے کو نشانہ بنا رہی ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کے کسی فیصلے سے اختلاف کر نا یا اس کے خلاف آواز اٹھانا  جمہوری حقوق میں شامل ہے ۔ لیکن یو پی پولیس سی اے اے مخالف تحریک شامل افراد کو ہدف بنا کر جس طرح کی کا رروائی کر رہی ہے اس  سے عام لوگوں کے بنیادی حقوق کی سخت  پامالی ہو رہی ہے ۔
Published by: sana Naeem
First published: Sep 02, 2020 05:54 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading