உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ’ای ڈبلیو ایس کوٹہ ایس سی، ایس ٹی اور او بی سی ریزرویشن سے مختلف‘ اٹارنی جنرل نے دیا بڑابیان

    سپریم کورٹ (فائل فوٹو)

    سپریم کورٹ (فائل فوٹو)

    EWS quota: ای ڈبلیو ایس کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ جنرل کیٹیگری میں غریبوں کے لیے 10 فیصد ای ڈبلیو ایس کوٹہ ایک مکمل انقلاب ہے جو انہیں پہلی بار پیش کیا گیا ہے۔ یہ ایس سی، ایس ٹی اور او بی سی کے لیے ریزرویشن سے مختلف ہے کیونکہ اس سے ان کے لیے دستیاب فوائد میں کمی نہیں ہوگی

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Delhi | Mumbai | Hyderabad | Jammu | Lucknow
    • Share this:
      اٹارنی جنرل کے کے وینوگوپال (Attorney general KK Venugopal) نے دلیل دی کہ دیگر پسماندہ طبقات (OBCs)، درج فہرست ذاتوں (SCs) اور درج فہرست قبائل (STs) سے تعلق رکھنے والے لوگ معاشی طور پر کمزور طبقے (EWS) کے لیے 10 فیصد کوٹہ کے تحت ریزرویشن کے فوائد کے حقدار نہیں ہیں۔ منگل کے روز سپریم کورٹ میں بتاتے ہوئے کہا کہ ان پسماندہ طبقوں کو پہلے ہی کئی فوائد دیے جا چکے ہیں، لیکن اس قانون سے پہلی بار غیر محفوظ طبقے کے غریبوں کو فائدہ پہنچے گا، جو کہ ایک ’’انقلاب اقدام‘‘ ہے۔

      معاشی طور پر کمزور طبقے کے لیے 10 فیصد کوٹہ جنوری 2019 میں آئین کی 103ویں ترمیم کے ذریعے متعارف کرایا گیا تھا۔ ترمیم کے خلاف چیلنجوں کی سماعت پانچ ججوں کی آئینی بنچ کر رہی ہے جو یہ دیکھ رہی ہے کہ کیا کسی کی بھی معاشی حیثیت ریزرویشن کی بنیاد ہو سکتا ہے، اور کیا اس طرح کے ریزرویشن سے آبادی کے پسماندہ طبقات کو باہر رکھا جا سکتا ہے، کیونکہ ان میں غریب بھی شامل ہیں۔ عدالت اس بات کا بھی جائزہ لے رہی ہے کہ آیا یہ قانون سپریم کورٹ کی جانب سے 1992 کے ایک بینچ مارک کے حکم میں مقرر کردہ 50 فیصد کی حد سے تجاوز کرتا ہے یا نہیں؟

      انہوں نے کہا کہ تعلیمی ادادوں میں داخلہ اور ملازمتوں میں ریزرویشن کے لیے دفعہ 15(6) اور دفعہ 16(6) متعارف کروانے والا قانون نہ تو شہریوں کے پسماندہ طبقات کے ساتھ امتیازی سلوک کرتا ہے اور نہ ہی ریزرویشن کی 50 فیصد کی حد کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ اس کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ جہاں تک ایس یس اور ایس ٹی کا تعلق ہے، وہ آئین میں دیئے گئے فوائد سے پہلے ہی سے مستفید ہورہے ہیں۔

      یہ بھی پڑھیں:

      مشہور TikToker کا سنسنی خیز انکشاف، ماں اور بہن کے ساتھ شوہر کو سلاتی ہوں، بتائی یہ بڑی وجہ

      ملک کے اعلیٰ قانون افسر نے ایس سی/ایس ٹی کو خصوصی ریزرویشن فراہم کرنے والے آئین میں موجود دفعات پر روشنی ڈالی۔ ان میں سرکاری ملازمتوں میں پروموشن کا کوٹہ دفعہ 16 (4 اے)، پنچایتوں میں ریزرویشن دفعہ 243 ڈی، بلدیات میں ریزرویشن دفعہ 243 ٹی، پارلیمنٹ میں ریزرویشن دفعہ 330 اور قانون ساز اسمبلیوں میں ریزرویشن دفعہ 332 شامل ہیں۔

      یہ بھی پڑھیں: 

      کامیڈین راجو شریواستو کا انتقال، 41 دنوں تک AIIMSمیں لڑی موت سے جنگ

      ای ڈبلیو ایس کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ جنرل کیٹیگری میں غریبوں کے لیے 10 فیصد ای ڈبلیو ایس کوٹہ ایک مکمل انقلاب ہے جو انہیں پہلی بار پیش کیا گیا ہے۔ یہ ایس سی، ایس ٹی اور او بی سی کے لیے ریزرویشن سے مختلف ہے کیونکہ اس سے ان کے لیے دستیاب فوائد میں کمی نہیں ہوگی بلکہ ان فوائد کو بہتر طور پر ان تک پہنچایا جائے گا۔

       
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: