ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

سابق گورنر سید سبط رضی کا مسلمانوں میں تعلیم کے گرتے معیار پر تشویش کا اظہار

سرکردہ مجاہد آزادی مولانا محمد علی جوہر کے 138 ویں یوم ولادت پر مولانا محمد علی جوہر اکیڈمی نئی دہلی کے زیر اہتمام 28 واں سالانہ جلسہ اور تقریب تقسیم انعامات کے پروگرام کا انعقاد کیا گیا

  • Pradesh18
  • Last Updated: Dec 11, 2016 04:28 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
سابق گورنر سید سبط رضی کا مسلمانوں میں تعلیم کے گرتے معیار پر تشویش کا اظہار
سرکردہ مجاہد آزادی مولانا محمد علی جوہر کے 138 ویں یوم ولادت پر مولانا محمد علی جوہر اکیڈمی نئی دہلی کے زیر اہتمام 28 واں سالانہ جلسہ اور تقریب تقسیم انعامات کے پروگرام کا انعقاد کیا گیا

نئی دہلی: سرکردہ مجاہد آزادی مولانا محمد علی جوہر کے 138 ویں یوم ولادت پر مولانا محمد علی جوہر اکیڈمی نئی دہلی کے زیر اہتمام 28 واں سالانہ جلسہ اور تقریب تقسیم انعامات کے پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے انصاری آڈیٹوریم میں منعقدہ اس پروگرام کی صدارت سابق وزیر اور جھارکھنڈ کے سابق گورنرسید سبط رضی نے کی۔سید سبط رضی نے اپنے صدارتی خطبہ میں مولانا محمد علی جوہر کی قربانیوں کو یاد کیا اور کہا کہ جس طرح انھیں ہندو مسلم اتحاد بہت عزیز تھا اسی طرح آج بھی اس کی بہت ضرورت ہے۔ خلافت تحریک کے حوالے سے مولانا کو یاد کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ یہ تحریک در اصل ہندوستان کی تحریک تھی۔ گاندھی جی اس کے زبردست حامی اور مداح تھے۔

سید سبط رضی نے مسلمانوں میں تعلیم کے گرتے معیار پر اظہار تشویش کیا اور مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ علم کے میدان میں آگے آئیں۔ مہمان خصوصی پروفیسر ایم اسلم وائس چانسلر اندرا گاندھی نیشنل اوپن یونیورسٹی نے بھی مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی کا ذکر کیا اور کہا کہ آج زیادہ تعلمی ادارے کھولنے کے بجائے تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ بڑی تشویش کی بات ہے کہ آج مسلمان بچے بھی آر ایس ایس کے اسکولوں میں داخلہ لے رہے ہیں۔ جامعہ ہمدرد یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر سید احتشام حسنین نے کہا کہ آج ہم بہت نازک دور سے گزر رہے ہیں۔ صرف سیاسی اعتبار سے نہیں بلکہ ہر اعتبار سے بڑا نازک وقت آپڑا ہے۔ ایسے موقع پر ہم لوگوں کو بہت سوجھ بوجھ سے کام لینے کی ضرورت ہے۔

پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی نے مولانا محمد علی جوہر کو یاد کرتے ہوئے جامعہ ملیہ اسلامیہ کا ذکر کیا اور کہا کہ مولانا جوہر کو سچا خراج عقیدت یہی ہوگا کہ ہم ان کے تعلیمی نظریات کو آگے بڑھائیں۔ مولانا محمد علی جوہر اکیڈمی کے صدر خواجہ ایم شاہد نے اپنے استقبالیہ خطاب میں مولانا محمد علی جوہر اور تحریک آزادی پر بھرپور روشنی ڈالی اور مولانا جوہر کی والدہ بی اماں کی قربانیوں کو بھی خراج عقیدت پیش کیا۔

صحافی سہیل انجم نے کہا کہ مولانا محمد علی جوہر نے اپنے اخبار کامریڈ اور ہمدرد کے ذریعے صحافت کو جس اعلی مقام پر پہنچایا تھا آج بھی اسی معیار کو بحال کرنے کی ضرورت ہے۔ اس موقع پر پروفیسر سید احتشام حسنین، اجے چودھری او ایس ڈی ایل جی دہلی، پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی، ڈاکٹر کملیش ورما، شکیل حسن شمسی ایڈیٹر انقلاب اور کالی کٹ یونیورسٹی کی وائس چانسلر پروفیسر انور جہاں زبیری کو ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اکیڈمی کے نائب صدر اے ایم کے شیروانی نے آخر میں شرکا کا شکریہ ادا کیا۔

First published: Dec 11, 2016 04:28 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading