உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Manipur: منی پور میں BJP کی جانب سے سماج کے سبھی طبقات کو امیدوار بنانے کا دعویٰ، کیا یہ پارٹی کی کامیابی کابنےگاسبب؟

    چدانند سنگھ نے نیوز 18 کو بتایا کہ احتجاج معمول کی بات ہے۔

    چدانند سنگھ نے نیوز 18 کو بتایا کہ احتجاج معمول کی بات ہے۔

    بی جے پی نے 2017 کے منی پور اسمبلی انتخابات میں کل 21 ایم ایل ایز میں سے 19 کو برقرار رکھا ہے۔ باقی تین کو ڈراپ کر دیا گیا ہے۔ اس بار تین خواتین امیدوار ہیں۔ کانگریس کے کم از کم 10 ممبران جو اب بی جے پی میں شامل ہوئے ہیں انہیں ٹکٹ دیا گیا ہے۔

    • Share this:
      منی پور میں 27 فروری 2022 کو ریاستی اسمبلی کے انتخابات طئے ہیں۔ اس سے قبل ہی امیدواروں کے اعلان سے قبل منی پور بی جے پی کے دفتر میں کشیدگی ہورہی تھی لیکن 30 جنوری کو دوپہر 12.30 بجے جب بی جے پی نے اعلان کیا کہ وہ منی پور اسمبلی کی تمام 60 سیٹوں پر مقابلہ کرے گی اور جیتنے کے لیے پراعتماد ہے، تو اس کشیدگی میں کمی آئی۔ دو تہائی اکثریت سے یہ بات بالکل واضح تھی کہ جہاز کے کپتان دوبارہ این بیرن سنگھ (N Biren Singh) ہوں گے۔ موجودہ وزیر اعلیٰ این بیرن سنگھ ایک سابق فٹبالر ہیں۔ اب وہ ہینگانگ حلقہ سے انتخاب لڑیں گے۔

      دلچسپ بات یہ ہے کہ پارٹی نے سماج کے تمام طبقوں کے امیدواروں کو ٹکٹ دیا ہے جن میں کھلاڑی، آئی اے ایس افسران اور ڈاکٹر شامل ہیں۔ لیکن کیا ان کا سیاسی پس منظر اور عوامی خدمات بھی رہی ہے یا نہیں، یہ بڑا سوال ہے۔ بی جے پی کے ذرائع کے مطابق جیتنے کی اہلیت اور تنظیمی مہارت اہم عوامل ہیں جن کی بنیاد پر امیدواروں کو پارٹی ٹکٹ دیا گیا ہے۔

      سابق فٹبالر سوماتائی سائزا بائیچنگ بھوٹیا کے ساتھی ہیں۔ وہ اکھرول سیٹ سے الیکشن لڑیں گے۔ بی جے پی نے نونگبا سے ریٹائرڈ آئی اے ایس افسر ڈنگنگ لونگ گامی، کاکچنگ سے وائی سورچندرا سنگھ اور اریپوک سے رگھومنی سنگھ کو میدان میں اتارا ہے۔ ایک اہم اقدام میں بی جے پی نے سینئر ایم ایل اے ارابوت سنگھ کو ہٹا دیا اور اس کے بجائے کانگریس کے سابق وزیر اعلیٰ اوکرام ایبوبی سنگھ کے بھتیجے ہنری کو ونگلہی سیٹ سے میدان میں اتارا۔

      بی جے پی نے 2017 کے منی پور اسمبلی انتخابات میں کل 21 ایم ایل ایز میں سے 19 کو برقرار رکھا ہے۔ باقی تین کو ڈراپ کر دیا گیا ہے۔ اس بار تین خواتین امیدوار ہیں۔ کانگریس کے کم از کم 10 ممبران جو اب بی جے پی میں شامل ہوئے ہیں انہیں ٹکٹ دیا گیا ہے۔ منی پور کانگریس کے سابق سربراہ گوونداس کونتھوجم سنگھ، جو حال ہی میں بی جے پی میں شامل ہوئے ہیں، ان میں سے ایک ہیں۔

      دریں اثنا ریاست میں اہم مقامات پر سیکورٹی بڑھا دی گئی تھی کیونکہ امیدواروں کے اعلان کے پیش نظر مظاہروں کی توقع تھی۔ اطلاعات کے مطابق بی جے پی لیڈروں کے پتلے جلائے گئے اور نعرے بازی بھی ہوئی۔

      ریاستی بی جے پی کے نائب صدر اور میڈیا انچارج چدانند سنگھ نے نیوز 18 کو بتایا کہ احتجاج معمول کی بات ہے، ایک یا دو جگہوں پر ہم نے اس طرح سنا ہے۔ لیکن کوئی بھی ریاستی ہیڈکوارٹر نہیں آیا۔ یہ احتجاج بڑا نہیں ہے۔ اس بار 40 پار! منی پور میں اس بار یہی نعرہ ہے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: