உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    نیوز18کےساتھ وزیراعظم مودی کا ایکسکلوزیوانٹرویو: اس بار2014 سے بھی زیادہ سیٹیں جیتےگی بی جے پی: مودی

     نریندرمودی نے  بی جے پی کے ’سنکلپ پتر‘ کے بارے میں کہا کہ اس میں کالا دھن اوربدعنوانی جیسے مدعوں سے لڑنے کا مادہ ہے وہیں کانگریس کے انتخابی منشورکو وزیر اعظم نےدہشت گردوں کے تئیں نرمی برتنے والا قراردیا۔

     نریندرمودی نے  بی جے پی کے ’سنکلپ پتر‘ کے بارے میں کہا کہ اس میں کالا دھن اوربدعنوانی جیسے مدعوں سے لڑنے کا مادہ ہے وہیں کانگریس کے انتخابی منشورکو وزیر اعظم نےدہشت گردوں کے تئیں نرمی برتنے والا قراردیا۔

     نریندرمودی نے  بی جے پی کے ’سنکلپ پتر‘ کے بارے میں کہا کہ اس میں کالا دھن اوربدعنوانی جیسے مدعوں سے لڑنے کا مادہ ہے وہیں کانگریس کے انتخابی منشورکو وزیر اعظم نےدہشت گردوں کے تئیں نرمی برتنے والا قراردیا۔

    • Share this:
      بی جے پی کا انتخابی منشورجاری ہونےکے بعد وزیراعظم نریندرمودی نے نیوز18 کو انٹرویودیا۔ ایڈیٹران چیف راہل جوشی کودیئے ایکسکلوزیوانٹرویو میں وزیراعظم مودی نے ملک کی سیکورٹی، اپوزیشن پرحملہ، رافیل، نہرو- گاندھی فیملی سمیت تمام موضوعات پر اپنی بات رکھی۔ وزیراعظم مودی نےلوک سبھا الیکشن 2019 کی مہم میں پرینکا گاندھی واڈرا کی موجودگی پربھی تبصرہ کیا۔

      وزیراعظم مودی نے بی جے پی کےانتخابی منشورکومیچیوربتاتے ہوئے بی جے پی کے ’سنکلپ پتر‘ کے بارے میں کہا کہ اس میں کالا دھن اوربدعنوانی جیسے مدعوں سے لڑنے کی صلاحیت ہے وہیں کانگریس کے انتخابی منشورکو وزیراعظم نےدہشت گردوں کے تئیں نرمی برتنے والا قراردیا۔ ا نہوں نے آزادی کی 75 ویں سالگرہ یعنی سال 2022 تک کا خاکہ بھی پیش کیا۔

      نریندرمودی نے کہا کہ ایک ذمہ دارسیاسی جماعت ہونے کے ناطے سنجیدگی سے انتخابی منشورجاری کیا ہے۔ جس پارٹی کی حکومت دوبارہ بننا طے ہے، یہ اس کا میچورانتخابی منشورہے۔ اس منشورمیں پہلی بارہم نے سال 2022 اور2024 کوخصوصی طورپرپیش کیا ہے۔ یعنی اس میں سرکارکی جوابدہی پانچ سال بعد نہیں بلکہ اس کے درمیان بھی ہوگی۔ ایسا اب تک کسی نےنہیں کیا۔ دوسری بات ہم نےمنشورمیں یہ بھی کہا کہ آزادی کے 100 سال ہونے پرملک کوکہاں پہنچانے کا ہدف ہونا چاہئے۔

      انہوں نے کہا کہ کالا دھن، بدعنوانی، بے ایمانی جیسے موضوعات کو ہینڈل کرنے کی  بات منشورمیں شامل ہے۔ قومی سیکورٹی کے مدعوں پربھی بات چیت ہے۔ اس مدعے پرپہلےآئے انتخابی منشورمیں زبردست ناانصافی کی گئی۔ غریب، دلت، متاثر، محروم، استحصال شدہ اور آدیواسیوں کی فلاح کے لئےشیڈول پروگراموں پرنوجوانوں اورخواتین کومین اسٹریم میں کیسےلایا جائے۔ گاوں، غریب اورکسان کی زندگی میں تبدیلی کیسےلائی جائے۔ ان سب باتوں پرغورکرتے ہوئے یہ بھی دھیان رکھا ہےکہ ملک کو جدیدیت کی طرف بھی لے جانا ہے۔

      ٹکنا لوجی کے اثرکوملک کی ترقی کےموافق بنانے پربھی تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔ سال 2014 سے2019 کےدرمیان ہم نےمایوسی میں ڈوبےملک کوامید کی کرن دینے، خود اعتمادی کا جذبہ پیدا کرنے اورعام لوگوں کی ضرورتوں جیسےگھر، بجلی، پانی، سڑکیں وغیرہ پوری کرنے کی سمت میں کام کیا۔ گزشتہ پانچ سال کی ضرورت کو پورا کرنے اورآنے والے پانچ سال میں ہم ملک کی امیدوں کوپورا کرنے کی سمت میں آگے بڑھیں گے۔ آنے والے پانچ سال ان امیدوں کوطاقت اورمواقع دینےہوں گے۔
      First published: