உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    فصلوں کی ایم ایس پی سے بڑھ سکتی ہیں مہنگائی ، لیکن کر لیں گے کنٹرول : وزیر خزانہ ارون جیٹلی

    مرکزی وزیر خزانہ ارون جیٹلی۔ فائل فوٹو

    مرکزی وزیر خزانہ ارون جیٹلی۔ فائل فوٹو

    مرکزی وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے نیٹ ورک 18 کے ساتھ ایک ایکسکلوزیو انٹرویو میں اعتراف کیا ہے کہ کسانوں کی خریف ایم ایس پی ( کم سے کم امدادی قیمت ) میں اضافہ کا اثر مہنگائی پر پڑ سکتا ہے ۔

    • Share this:
      نئی دہلی : مرکزی وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے نیٹ ورک 18 کے ساتھ ایک ایکسکلوزیو انٹرویو میں اعتراف کیا ہے کہ کسانوں کی خریف ایم ایس پی ( کم سے کم امدادی قیمت ) میں اضافہ کا اثر مہنگائی پر پڑ سکتا ہے ۔ بجٹ میں ایم ایس پی کو فصلوں کی قیمت کا ڈیڑھ گنا کرنے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہماری نظر اس پر ہے اور مہنگائی پر پڑنے والے اس کے اثر کو کنٹرول کیا جاسکتا ہے ۔ حالانکہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مہنگائی سے وابستہ فکرمندی کی اس سے بڑی وجہ خام تیل کی بڑھتی قیمتیں ہیں۔
      اگر خام تیل کی قیمت مینج کرنے کے لائق صورتحال میں رہی اور مانسون اس سال بھی معمول کے مطابق رہتا ہے تو ہم 8 فیصدی سے زیادہ شرح ترقی حاصل کرسکتے ہیں ۔
      جیٹلی نے کہا کہ زراعت کیلئے مانسون ایک بڑا عنصر ہے ۔ اسی طرح میں چاہتا ہوں کہ خام تیل کی قیمت بھی موجودہ سطح سے اوپر نہ جائے ۔ اگر ہم 8 فیصدی شرح ترقی حاصل کرلیتے ہیں تو یہ ایک اچھی حصولیابی ہوگی ، کیونکہ دنیا میں کوئی بھی ملک 7 فیصدی شرح تری حاصل کرنے کی حالت میں بھی نہیں ہے ۔ ان کے مطابق ہندوستان کی جی ڈی پی ترقی کو موجودہ عالمی تناظر میں دیکھا جانا چاہئے۔
      وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ عالمی معیشت میں ریکوری کے وافر اشارات ہیں اور 2018 میں 3.9 فیصد ترقی کی امید ہے۔ اگر عالمی معیشت کی ترقی 3.9 فیصد رہتی ہے تو ہندوستان سب سے زیادہ ترقی کرنےو الا ملک ہوگا۔
      جیٹلی نے کہا کہ چونکہ اس سال ہم نے نوٹ بندی اور جی ایس ٹی جیسےاصلاحاتی اقدامات کئے ہیں ، ایسے میں ہماری شرح ترقی 6.7 سے لے کر 6.8 فیصدی تک رہ سکتی ہے۔
      تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ خام تیل کی قیمتوں میں لگاتار اضافہ حکومت کیلئے تشویش کا سبب ہے ۔ محض تین مہینوں میں50 ڈالر سے 70 ڈالر تک فی بیرل پہنچ چکی قیمتیں ہماری آرام دہ سطح سے تقریبا باہر ہوچکی ہیں ، اس کی وجہ سے کرنٹ اکاونٹ خسارہ میں اضافہ اور معاشی ترقی کم ہونے کے ساتھ ہی مہنگائی بھی بڑھ سکتی ہے۔
      جیٹلی نے کہا کہ اگر خام تیل کی قیمتیں 60 ڈالر فی بیرل سے کم رہتی ہیں اور اس سال بھی مانسون معمول کے مطابق رہتا ہے ، تو ملک کی شرح ترقی دو عدد میں رہ سکتی ہے۔
      وزیر خزانہ نے کہا کہ چونکہ ہم بڑی مقدار میں خام تیل درآمد کرتے ہیں ، ایسے میں اس کی قیمتوں میں لگاتار اضافہ کا اثر مہنگائی پر بھی پڑ سکتا ہے ۔ خام تیل کی قیمتیں بڑھنے سے چیزوں کی نقل و حرکت مہنگی ہوجاتی ہے ، جس کا اثر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر بھی پڑتا ہے ۔ حالانکہ جیٹلی نے یہ بھی کہا کہ ہمیں دیکھنا ہوگا کہ خام تیل کی قیمتوں میں کس حد تک اضافہ ہوتا ہے ، ہمارے اوپر اثرات بھی اسی کے مطابق ہوں گے۔
      بجٹ سے چند دنوں قبل پارلیمنٹ میں پیش اقتصادی سروے 2017-18 میں بھی خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے بارے میں آگاہ کیا تھا ۔ اس میں بھی کہا گیا تھا کہ اس کا اثر آنے والے سال میں جی ڈی پی کی شرح ترقی پر پڑ سکتا ہے۔ مالی سال 2018-18 کی پہلی سہ ماہی میں گزشتہ سال کے مقابلہ میں ڈالر میں تیل کی قیمتوں میں 16 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔
      First published: