உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    آٹھ فیصد سے زیادہ ہوسکتی ہے شرح ترقی ، اچھے ہیں اقتصادی حالات : ارون جیٹلی

    سابق مرکزی وزیر خزانہ ارون جیٹلی۔ فائل فوٹو

    سابق مرکزی وزیر خزانہ ارون جیٹلی۔ فائل فوٹو

    اگر خام تیل کی قیمت مینج کرنے کے لائق صورتحال میں رہی اور مانسون اس سال بھی معمول کے مطابق رہتا ہے تو ہم 8 فیصدی سے زیادہ شرح ترقی حاصل کرسکتے ہیں

    • Share this:

      نئی دہلی : اگر خام تیل کی قیمت مینج کرنے کے لائق صورتحال میں رہی اور مانسون اس سال بھی معمول کے مطابق رہتا ہے تو ہم 8 فیصدی سے زیادہ شرح ترقی حاصل کرسکتے ہیں ۔ وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے نیٹ ورک 18 کے ساتھ ایک ایکسکلوزیو انٹرویو میں یہ باتیں کہیں ۔ انہوں نے کہا کہ بزنس کنفیڈنس ، پی ایم آئی ، کور انفراسٹرکچر سیکٹر گروتھ جیسے فیکٹرس جنہیں بزنس کی زبان میں گرین شوٹس کہا جاتا ہے ، وہ سبھی اچھے ہیں ، ہمیں صرف یہ دیکھنا ہے کہ آئندہ کیا ہوتاہے۔
      جیٹلی نے کہا کہ زراعت کیلئے مانسون ایک بڑا عنصر ہے ۔ اسی طرح میں چاہتا ہوں کہ خام تیل کی قیمت بھی موجودہ سطح سے اوپر نہ جائے ۔ اگر ہم 8 فیصدی شرح ترقی حاصل کرلیتے ہیں تو یہ ایک اچھی حصولیابی ہوگی ، کیونکہ دنیا میں کوئی بھی ملک 7 فیصدی شرح تری حاصل کرنے کی حالت میں بھی نہیں ہے ۔ ان کے مطابق ہندوستان کی جی ڈی پی ترقی کو موجودہ عالمی تناظر میں دیکھا جانا چاہئے۔
      وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ عالمی معیشت میں ریکوری کے وافر اشارات ہیں اور 2018 میں 3.9 فیصد ترقی کی امید ہے۔ اگر عالمی معیشت کی ترقی 3.9 فیصد رہتی ہے تو ہندوستان سب سے زیادہ ترقی کرنےو الا ملک ہوگا۔جیٹلی نے کہا کہ چونکہ اس سال ہم نے نوٹ بندی اور جی ایس ٹی جیسےاصلاحاتی اقدامات کئے ہیں ، ایسے میں ہماری شرح ترقی 6.7 سے لے کر 6.8 فیصدی تک رہ سکتی ہے۔
      تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ خام تیل کی قیمتوں میں لگاتار اضافہ حکومت کیلئے تشویش کا سبب ہے ۔ محض تین مہینوں میں50 ڈالر سے 70 ڈالر تک فی بیرل پہنچ چکی قیمتیں ہماری آرام دہ سطح سے تقریبا باہر ہوچکی ہیں ، اس کی وجہ سے کرنٹ اکاونٹ خسارہ میں اضافہ اور معاشی ترقی کم ہونے کے ساتھ ہی مہنگائی بھی بڑھ سکتی ہے۔ جیٹلی نے کہا کہ اگر خام تیل کی قیمتیں 60 ڈالر فی بیرل سے کم رہتی ہیں اور اس سال بھی مانسون معمول کے مطابق رہتا ہے ، تو ملک کی شرح ترقی دو عدد میں رہ سکتی ہے۔
      وزیر خزانہ نے کہا کہ چونکہ ہم بڑی مقدار میں خام تیل درآمد کرتے ہیں ، ایسے میں اس کی قیمتوں میں لگاتار اضافہ کا اثر مہنگائی پر بھی پڑ سکتا ہے ۔ خام تیل کی قیمتیں بڑھنے سے چیزوں کی نقل و حرکت مہنگی ہوجاتی ہے ، جس کا اثر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر بھی پڑتا ہے ۔ حالانکہ جیٹلی نے یہ بھی کہا کہ ہمیں دیکھنا ہوگا کہ خام تیل کی قیمتوں میں کس حد تک اضافہ ہوتا ہے ، ہمارے اوپر اثرات بھی اسی کے مطابق ہوں گے۔

      First published: