உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Exclusive: شاہین باغ میں 100 کروڑ روپے کی ڈرگس کا پردہ فاش، ملک مخالف مظاہروں سے جڑے ہو سکتے ہیں تار، NCB کی جانچ جاری

    Youtube Video

    Shaheen Bagh Drug Bust: ذرائع نے بتایا کہ کھیپ بندرگاہوں پر آتی ہے اور پھر ہندستان کے مختلف حصوں میں لے جائی جاتی ہے۔ تھوک فروش سپلائرز کو منشیات بیچتے اور تقسیم کرتے ہیں۔ شاہین باغ میں 100 کروڑ روپے کی منشیات کا پردہ فاش، بھارت مخالف مظاہروں سے بھی منسلک ہو سکتا ہے۔

    • Share this:
      Shaheen Bagh Drug Bust:  شاہین باغ میں 100 کروڑ روپے کی منشیات کا پردہ فاش، بھارت مخالف مظاہروں سے منسلک ہو سکتا ہے، این سی بی NCB کی تحقیقات جاری ایک بڑی کارروائی میں جنوب مشرقی دہلی (southeast Delhi) کے شاہین باغ (Shaheen Bagh) علاقے سے 50 کلو گرام ہیروئن ضبط (Heroin Seize) کی گئی ہے۔ سی این این نیوز 18 CNN-News18 نے نارکوٹکس کنٹرول بیورو (این سی بی) کے اعلیٰ ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ضبطی کی تخمینہ مالیت تقریباً 100 کروڑ روپے ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ برآمدگی بیحد اہم ہے، کیوں کہ اس سے پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی ISI کے بلیو پرنٹ کو اجاگر کرتی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ کھیپ بندرگاہوں پر آتی ہے اور پھر ہندستان کے مختلف حصوں میں لے جائی جاتی ہے۔ تھوک فروش سپلائرز کو منشیات بیچتے اور تقسیم کرتے ہیں۔

      ان کے مطابق 50 کلو گرام کی یہ بڑی کھیپ پنجاب اور دیگر شمالی ریاستوں تک پہنچنی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ایک خصوصی ایجنسی کیس سے متعلق رقم کے معاملات کو سنبھالے گی۔ ذرائع نے کہا کہ ہم اس بات سے انکار نہیں کر سکتے کہ اس رقم کا استعمال حالیہ مظاہروں اور بھارت مخالف جذبات کو بھڑکانے کے لیے کیا گیا ہے۔

      یہ بھی پڑھیں: شاہین باغ کے جامعہ نگر سے NCB نے 50کلو ہیروئن، 47 کلو مشتبہ منشیات و 30لاکھ روپے سمیت دیگر اشیا برآمد کی

      یہ بھی پڑھیں: اٹاری بارڈر پر 102 کلو ہیروئن برآمد، international market میں قیمت 700 کروڑ، یہ کھیپ پاکستان کے راستے لائی گئی ہندستان

      انہوں نے مزید کہا، "ہم سی اے اے CAA مخالف مظاہروں کے تعلق کی بھی چھان بین کر رہے ہیں، کیوں کہ شاہین باغ مختلف وجوہات سے خبروں میں رہا ہے۔ یقیناً بدامنی پھیلانا اور اس طرح کے پیسے کے کوئی بین الاقوامی تعلقات ہیں۔ یہ تمام منشیات کے سنڈیکیٹس ہیں، جو سلیپر سیلز کی طرح کام کرتے ہیں۔" تفتیش کاروں کا خیال ہے کہ تحقیقات کے دائرے کو بڑھایا جا سکتا ہے۔ کیوں کہ نہ صرف شاہین باغ احتجاج بلکہ مظفر نگر، کیرانہ وغیرہ میں ہونے والی حالیہ گڑبڑ بھی اس پیسے کا استعمال کئے جانے کا اندیشہ ہے۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: