உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Exclusive: ادے پور قتل کے ملزمان کا اعتراف جرم! کیا بی جے پی لیڈر نے ہمیں اکسایا؟

    ذرائع نے بتایا کہ ملزم جوڑی نے بی جے پی کے اداروں کا بھی جائزہ لیا

    ذرائع نے بتایا کہ ملزم جوڑی نے بی جے پی کے اداروں کا بھی جائزہ لیا

    ایک ذریعے نے بتایا کہ گیم پلان کے ایک حصے کے طور پر انہوں نے بی جے پی کے پروگراموں میں شامل ہونا شروع کیا وہ دوبارہ پاکستان کا دورہ کرنا چاہتے تھے لیکن کسی نہ کسی طرح یہ کبھی پورا نہیں ہوا‘۔

    • Share this:
      راجستھان کے ادے پور (Udaipur) میں ایک درزی کے بہیمانہ قتل کے الزام میں گرفتار دو افراد نے پوچھ گچھ کے دوران مبینہ طور پر انکشاف کیا کہ ان کے پس پشت بی جے پی کے رہنما بھی تھے اور انہوں نے پاکستان میں اپنے 'ہینڈلرز' کے پاس واپس جانے کے لیے پارٹی اداروں اور کارکنوں کی تلاشی لی تھی۔

      ریاض اختری (Riaz Akhtari) اور غوث محمد (Ghouse Mohammad) نے مبینہ طور پر درزی کنہیا لال (Kanhaiya Lal) کو 28 جون کو ان کی دکان پر ایک کلیور سے قتل کر ڈالا کیونکہ انھوں نے بی جے پی کی معطل ترجمان نوپور شرما (Nupur Sharma) کی حمایت کی تھی۔ انھوں نے یہ کہتے ہوئے آن لائن ویڈیوز پوسٹ کی گئی تھیں کہ وہ اسلام کی توہین کا بدلہ لے رہے ہیں۔ اس کیس کی جانچ نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) انسداد دہشت گردی اسکواڈ (اے ٹی ایس) اور راجستھان پولیس کے اسپیشل آپریشن گروپ (ایس او جی) کے تعاون سے کر رہی ہے۔

      نیوز 18 ڈاٹ کام کے مطابق اختری کے روابط پاکستان میں قائم دعوتِ اسلامی سے پائے گئے ہیں جس کی ہندوستان میں بھی شاخیں ہیں۔ دعوت اسلامی کے کچھ کارکن دہشت گردی کے متعدد واقعات میں ملوث تھے۔

      دہشت گرد گروہوں بالخصوص داعش اور القاعدہ کی طرف سے سر قلم کرنا عام بات ہے۔ یہ بھیانک عمل 2014 میں اس وقت شروع ہوا جب آئی ایس آئی ایس کے ہاتھوں متعدد غیر ملکیوں کو اسی انداز میں قتل کیا گیا، ان ویڈیوز کو سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کیا گیا۔

      ذرائع نے نیوز 18 کو بتایا کہ پوچھ گچھ کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ اختری بی جے پی لیڈروں اور کارکنوں کے روابط میں تھا، خاص طور پر آر ایس ایس کے مسلم راشٹریہ منچ اور بی جے پی اقلیتی مورچہ سے وابستہ افراد کے ساتھ اس کے تعلقات تھے۔ جس میں ارشاد چین والا اور طاہر رضا خان شامل ہیں۔

      ذرائع نے بتایا کہ ملزم جوڑی نے بی جے پی کے اداروں کا بھی جائزہ لیا اور پوچھ گچھ کے دوران انکشاف کیا کہ وہ پاکستان میں ہینڈلرز سے رابطے میں تھے جنہوں نے انہیں مقامی بی جے پی لیڈروں کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنے کو کہا۔

      ایک ذریعے نے بتایا کہ گیم پلان کے ایک حصے کے طور پر انہوں نے بی جے پی کے پروگراموں میں شامل ہونا شروع کیا وہ دوبارہ پاکستان کا دورہ کرنا چاہتے تھے لیکن کسی نہ کسی طرح یہ کبھی پورا نہیں ہوا‘۔

      مزید پڑھیں: Cryptoqueen:وہ حسین ڈاکٹر جس نے کرپٹو کے نام پر لگایا32 ہزار کروڑ کا چونا، تلاش کرنے والوں کو ملے گا ایک لاکھ ڈالر
       انہوں نے مبینہ طور پر اپنے ہینڈلرز کا تعلق دعوت اسلامی سے ظاہر کیا، لیکن تفتیش کاروں کا خیال ہے کہ پاکستانی ایجنسیاں رسد میں مدد کر سکتی تھیں۔


      یہ بھی پڑھیں: America: روس کے خلاف امریکہ کی بڑی کاروائی! 1 بلین ڈالر سے زائد کمپنی پر پابندی

      ذرائع نے اس سے قبل نیوز 18 کو بتایا تھا کہ محمد نے ادے پور کے ریاضت حسین اور عبدالرزاق کے ذریعے پاکستان میں قائم انتہا پسند مذہبی گروپ دعوت اسلامی میں شمولیت اختیار کی تھی اور 2013 کے آخر تک ہندوستان کے 30 دیگر افراد کے ساتھ پاکستان میں کراچی آیا تھا۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: