உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    آنے والے مہینوں میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھیں گی پھر! عوام کی بڑھ سکتی ہیں مشکلات: رپورٹ

    پٹرول اور ڈیژل کی قیمتوں میں دوسرے دن بھی اضافہ

    پٹرول اور ڈیژل کی قیمتوں میں دوسرے دن بھی اضافہ

    تنیجا نے کہا ہے کہ ’’یہ سمجھنے کی بات ہے کہ ہم تیل درآمد کرتے ہیں۔ یہ ایک درآمدی شے ہے۔ ہمیں اپنے کل تیل کے استعمال کا 86 فیصد درآمد کرنا پڑتا ہے۔ تیل کی قیمتیں کسی بھی حکومت کے ہاتھ میں نہیں ہیں‘‘۔

    • Share this:
      توانائی کے ماہر نریندر تنیجا Narendra Taneja نے کہا کہ آنے والے مہینوں میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں دوبارہ بڑھیں گی۔ اے این آئی سے بات کرتے ہوئے تنیجا نے کہا ہے کہ ’’یہ سمجھنے کی بات ہے کہ ہم تیل درآمد کرتے ہیں۔ یہ ایک درآمدی شے ہے۔ ہمیں اپنے کل تیل کے استعمال کا 86 فیصد درآمد کرنا پڑتا ہے۔ تیل کی قیمتیں کسی بھی حکومت کے ہاتھ میں نہیں ہیں۔ پیٹرول اور ڈیزل دونوں ڈی کنٹرول کموڈٹی ہیں۔ جولائی 2010 میں منموہن سنگھ کی حکومت نے پیٹرول پر ڈی ریگولیشن نافذ کیا۔ سنہ 2014 میں مودی حکومت نے ڈیزل کو ڈی کنٹرول کیا‘‘۔

      انہوں نے کہا کہ ’’عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کی سب سے بڑی وجہ کووڈ وبا ہے۔ جب بھی طلب اور رسد میں عدم توازن ہوتا ہے، قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ دوسری وجہ تیل کے شعبے میں سرمایہ کاری کی کمی ہے کیونکہ حکومتیں شمسی توانائی جیسے قابل تجدید/سبز توانائی renewable/green energy کے شعبوں کو فروغ دے رہی ہیں۔ آنے والے مہینوں میں 2023 میں خام تیل کی قیمت 100 روپے تک بڑھ سکتی ہے‘‘۔

      عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کی سب سے بڑی وجہ کووڈ وبا ہے۔
      عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کی سب سے بڑی وجہ کووڈ وبا ہے۔


      پٹرول اور ڈیزل پر اکسائز ڈیوٹی کم کرنے کے مرکز کے اقدام کی وجہ کے بارے میں پوچھے جانے پر تنیجا نے کہا کہ ’’جب تیل کی قیمتیں کم ہوتی ہیں تو حکومت ایکسائز ڈیوٹی بڑھا دیتی ہے، جب تیل بہت مہنگا ہوتا ہے، تو حکومت ایکسائز ڈیوٹی کو کم کرتی ہے۔ استعمال اور فروخت کووڈ کے زمانے میں تیل کی قیمت 40 فیصد پر آگئی تھی، بعد میں 35 فیصد تک آگئی تھی، جب فروخت کم ہوگی تو حکومت کی آمدنی خود بخود کم ہوجائے گی، لیکن اب یہ فروخت پہلے کی طرح واپس آگئی ہے‘‘۔

      انہوں نے زور دیا کہ ’’جی ایس ٹی کی وصولی معاشی بحالی کے لیے مثبت اشارے دے رہی ہے۔ حکومت پہلے کی نسبت نسبتاً آرام دہ پوزیشن میں ہے۔ اس کے علاوہ ہماری معیشت ڈیزل پر مبنی ہے۔ اگر ڈیزل کی قیمت بڑھ جاتی ہے تو ہر چیز کی قیمت بڑھ جاتی ہے۔ ان چیزوں کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے یہ قدم اٹھایا ہے‘‘۔

      تنیجا کا ماننا ہے کہ پیٹرول اور ڈیزل کو جی ایس ٹی میں شامل کیا جانا چاہیے تاکہ زیادہ ریلیف مل سکے اور زیادہ شفافیت آئے۔ واضح رہے کہ صارفین کو راحت دیتے ہوئے وزارت خزانہ نے بدھ کے روز پٹرول پر ایکسائز ڈیوٹی میں 5 روپے فی لیٹر اور ڈیزل پر ایکسائز ڈیوٹی میں 10 روپے فی لیٹر کٹوتی کا اعلان کیا۔ ایندھن کی ریکارڈ بلند قیمتوں کے درمیان تین سال میں سنٹرل ایکسائز ڈیوٹی میں یہ پہلی کٹوتی ہے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: