உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Fact Check: جودھ پور کے جلوری گیٹ سے ہندوستانی جھنڈا نہیں ہٹایا گیا، آخر کیا ہے معاملہ؟

    ’تاہم ان میں سے کسی نے بھی وہاں ہندوستانی جھنڈا نہیں دکھایا‘۔

    ’تاہم ان میں سے کسی نے بھی وہاں ہندوستانی جھنڈا نہیں دکھایا‘۔

    پریس ٹرسٹ آف انڈیا، ٹائمز آف انڈیا، اور دیگر نے اطلاع دی ہے کہ ابتدائی جھگڑا مجاہد آزادی بالمکند بسا کے مجسمے کے ارد گرد اسلامی پرچم لہرانے سے شروع ہوا تھا، جو پرشورام جینتی سے پہلے لگایا گیا۔ وہاں کا زعفرانی جھنڈا غائب ہو گیا تھا۔

    • Share this:
      راجستھان کے جودھپور (Rajasthan's Jodhpur) میں منگل 3 مئی کو عید سے چند گھنٹے قبل ہندوؤں اور مسلمانوں میں جھڑپ ہوئی۔ اس کے درمیان جلوری گیٹ پر اسلامی جھنڈوں کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر اس دعوے کے ساتھ وائرل ہوئی کہ مسلمانوں کی طرف سے ہندوستانی قومی پرچم کی جگہ اسلامی پرچم لگانے کے بعد جھڑپیں شروع ہوئیں۔
      بہت سے لوگوں نے اس ویڈیو کو اس دعوے کے ساتھ شیئر کیا کہ ’اسلامی غنڈے جودھپور میں ہندوستانی قومی پرچم نکال کر اسلامی جھنڈے لگادئیے ہیں‘‘۔ جب کہ انڈیا ٹوڈے اینٹی فیک نیوز وار روم (AFWA) نے پایا کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے۔ جبکہ مقامی مسلم گروپوں نے مجاہد آزادی بالمکند بسا کے مجسمے کے ساتھ گول چکر پر اسلامی پرچم لہرائے۔ یہ جھڑپیں مبینہ طور پر زعفرانی پرچم کو ہٹائے جانے کے بعد ہوئی تھیں۔

      حقیقت کیا ہے؟

      جب ہم نے جانچ پڑتال کی تو ہمیں کوئی ایسی مصدقہ رپورٹ نہیں ملی جس میں کہا گیا ہو کہ لوگوں نے جودھ پور کے جلوری گیٹ پر ہندوستانی پرچم کو اسلامی پرچم سے بدل دیا ہے۔

      پریس ٹرسٹ آف انڈیا، ٹائمز آف انڈیا، اور دیگر نے اطلاع دی ہے کہ ابتدائی جھگڑا مجاہد آزادی بالمکند بسا کے مجسمے کے ارد گرد اسلامی پرچم لہرانے سے شروع ہوا تھا، جو پرشورام جینتی سے پہلے لگایا گیا۔ وہاں کا زعفرانی جھنڈا غائب ہو گیا تھا۔

      انڈیا ٹوڈے سے بات کرتے ہوئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل (امن و امان) ہوا سنگھ گھمریا نے کہا کہ اس علاقے کے قریب بھگوان پرشورام کے جھنڈے تھے جہاں نماز ادا کی جاتی ہے۔ جھنڈوں کو ہٹانے کو لے کر جھگڑا ہوا کیونکہ مقامی مسلم کمیونٹی عید کے موقع پر جھنڈا لگاتی ہے۔ جب پولیس نے بھیڑ کو منتشر کرنے کی کوشش کی تو کشیدگی بڑھ گئی اور پتھراؤ بھی ہوا۔

      ایک ٹویٹ میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے راجستھان ریاستی صدر ستیش پونیا نے بھی کہا کہ زعفرانی پرچم کی جگہ اسلامی جھنڈا بلند کیا گیا ہے۔ پونیا نے کہا کہ جودھ پور میں مجاہد آزادی بلمکند بسا جی کے مجسمہ پر بھگوا جھنڈا اتار کر اسلامی جھنڈا بلند کیا گیا اور کس طرح تشدد کیا گیا اس سے کانگریس پارٹی کی حکومت کا خوشامد رویہ صاف ظاہر ہوتا ہے۔ یہ رویہ ان کے ڈوبنے کی سب سے بڑی وجہ ہوگا۔

      Jodhpur Violence: جودھوپر میں بگڑے حالات، کشیدگی کے بعد لگایا گیا کرفیو، چپے۔چپے پر پولیس

      اس کے بعد ہم نے بالمکند بسا کے مجسمے کی پرانی تصاویر کی تلاش کی تاکہ اس بات کی تصدیق کی جا سکے کہ آیا پرشورام جینتی سے پہلے اس کے ساتھ کوئی مستقل ہندوستانی قومی پرچم لہرایا گیا تھا۔ مجسمے کی متعدد تصاویر گوگل میپس پر دستیاب ہیں۔ تاہم ان میں سے کسی نے بھی وہاں ہندوستانی جھنڈا نہیں دکھایا۔

      علاقے کی دو تصاویر ایک 2019 میں کلک کی گئی اور دوسری اپریل 2022 میں نیچے دیکھی جا سکتی ہے۔ وہ ظاہر کرتے ہیں کہ جلوری گیٹ پر ہندوستانی جھنڈا مستقل نہیں تھا۔ ہم اپنے جودھ پور بیورو تک پہنچے جس نے اس کی تصدیق کی۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: