ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

میرٹھ: نئے زرعی قوانین سے پریشان مغربی یو پی کا کسان گنے کی کاشت کی واجب قیمت اور وقت پر رقم کی ادائیگی نہ ہونے سے بھی پریشان

کسان لیڈران کا کہنا ہے کہ جو سرکار اب تک گنا کاشتکاروں کے مطالبات کو پورا کرنے میں ناکام رہی ہے وہ کسانوں کو زرعی قوانین کے فوائد بتا کر اس کالے قانون کو کسانوں پر تھوپنا چاہتی ہے۔ وہیں چینی ملوں پر گنا کاشتکاروں کی بقیہ رقم کی ادائیگی کے سوال پر افسران کا کہنا ہے کہ کسانوں کی بقیہ رقم کے بڑے حصے کی ادائیگی اب تک کی جا چکی ہے اور جو رقم باقی ہے وہ بھی جاری کی جا رہی ہے۔

  • Share this:
میرٹھ: نئے زرعی قوانین سے پریشان مغربی یو پی کا کسان گنے کی کاشت کی واجب قیمت اور وقت پر رقم کی ادائیگی نہ ہونے سے بھی پریشان
مغربی یو پی کا کسان گنے کی کاشت کی واجب قیمت اور وقت پر رقم کی ادائیگی نہ ہونے سے پریشان

میرٹھ ۔ ایک طرف زرعی قوانین 2020 کے خلاف کسانوں کا احتجاج جاری ہے تو دوسری جانب مغربی یو پی کا کسان گنے کی پچھلے سال کی کاشت کی بقیہ رقم کی ادائیگی کے لیے پریشان ہے۔ زرعی قوانین کے فوائد گنانے والی حکومت سے کسان اب گزشتہ سال کی بقیہ رقم کی ادائیگی کا مطالبہ کر رہا ہے ۔ گنے کی کاشت کے تعلق سے اترپردیش سب سے بڑا صوبہ ہے۔ مغربی اترپردیش میں چینی ملوں کی تعداد اور گنے کی بڑی پیداوار کے باوجود اس علاقے کے گنا کاشتکاروں کا بڑا طبقہ ہمیشہ بدحال رہا ہے۔ اس کی بڑی وجہ ایم ایس پی کم ہونے کے ساتھ وقت پر کسانوں کو رقم کی ادائیگی نہ ہونا ہے۔


کسان لیڈران کا کہنا ہے کہ جو سرکار اب تک گنا کاشتکاروں کے مطالبات کو پورا کرنے میں ناکام رہی ہے وہ کسانوں کو زرعی قوانین کے فوائد بتا کر اس کالے قانون کو کسانوں پر تھوپنا چاہتی ہے۔ وہیں چینی ملوں پر گنا کاشتکاروں کی بقیہ رقم کی ادائیگی کے سوال پر افسران کا کہنا ہے کہ کسانوں کی بقیہ رقم کے بڑے حصے کی ادائیگی اب تک کی جا چکی ہے اور جو رقم باقی ہے وہ بھی جاری کی جا رہی ہے۔


ضلع گنا افسر دشینت کمار کے مطابق 2019 کے گنا کاشتکاروں کا کسی طرح کا کوئی بقایہ چینی ملوں پر نہیں ہے اور 2020 کا جو بقایہ تھا وہ بھی تقریباً ادا کیا جا چکا۔ نگلا مل چینی مل پر کسانوں کے بقایہ کی بھی رقم جاری کر دی گئی ہے جس کی ادائیگی جلد ہو جائیگی۔ اور جہاں تک اس سال کے لیے پرچی کا سوال ہے تو پرچي حاصل کرنے کے سسٹم کو آن لائن کر دینے سے کسانوں کو اب پرچی کے لیے گنا بھون کے چکر نہیں لگانے پڑ رہے ہیں۔ کسانوں کی بہتری، حکومتوں کی سرپرستی اور پالیسی کی تبدیلی میں ہے لیکن جب تک یہ پالیسی ووٹ بینک کی سیاست اور ذاتی نفع نقصان کی بنیاد پر طے ہوتی رہے گی کسان یوں ہی پریشان حال رہے گا۔

Published by: Nadeem Ahmad
First published: Dec 09, 2020 03:45 PM IST