ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

پنجاب میں کسان آندولن ہوا پرتشدد ، تقریبا 1500 ٹیلی کام ٹاوروں میں توڑ پھوڑ

پنجاب اور ہریانہ میں کسان آندولن پرتشدد ہوتا جارہا ہے ۔ پنجاب کے کئی علاقوں میں ٹیلی کام ٹاوروں میں توڑ پھوڑ کی جارہی ہے ۔

  • Share this:
پنجاب میں کسان آندولن ہوا پرتشدد ، تقریبا 1500 ٹیلی کام ٹاوروں میں توڑ پھوڑ
پنجاب میں کسان آندولن ہوا پرتشدد ، تقریبا 1500 ٹیلی کام ٹاوروں میں توڑ پھوڑ

پنجاب اور ہریانہ میں کسان آندولن پرتشدد ہوتا جارہا ہے ۔ پنجاب کے کئی علاقوں میں ٹیلی کام ٹاوروں میں توڑ پھوڑ کی جارہی ہے ۔ پاور اور فائبر کیبل کو بھی اکھاڑ کر پھینکا جارہا ہے ۔ جانکاری ملی ہے کہ پنجاب میں 1500 ٹاوروں کو نقصان پہنچایا گیا ہے ۔ اس توڑپھوڑ سے پنجاب کے وزیر اعلی کیپٹن امریندر سنگھ بھی ناراض ہیں ۔ انہوں نے سخت واررننگ دی ہے اور کہا ہے کہ املاک کی توڑپھوڑ برداشت نہیں کی جائے گی ۔ وہیں ٹیلی کام کمپنیوں کی ایسوسی ایشن سیلولر آپریٹر ایسوسی ایشن آف انڈیا اور ٹاور اینڈ انفراسٹرکچر پرووائیڈر ایسوسی ایشن آف انڈیا نے پنجاب سرکار کو ٹاور انفراسٹرکچر پر ہونے والے حملے روکنے کیلئے کہا ہے ۔


ٹیلی کام کمپنیوں کی ایسوسی ایشن سیلولر آپریٹر ایسوسی ایشن آف انڈیا اور ٹاور اینڈ انفراسٹرکچر پرووائیڈر ایسوسی ایشن آف انڈیا نے پنجاب سرکار کو ٹاور انفراسٹرکچر پر ہونے والے حملوں کو روکنے کیلئے کہا ہے ۔ کسان آندولن کے دوران پنجاب میں اب تک 1550 سے زیادہ ٹاوروں کو کسانوں نے نشانہ بنایا ہے ۔ اس میں سے 50 ٹاوروں کو بری طرح سے نقصان پہنچا ہے ۔


بھٹنڈہ ، ہوشیار پور جیسے اضلاع میں سروسیز زیادہ متاثر ہوئی ہیں ۔ کسانوں نے مزید ٹاور بند کرانے کی دھمکی دی ہے ۔ ساتھ ہی ٹاور کمپنیوں کے ملازمین کو بھی پریشان کیا جارہا ہے ۔ پنجاب پولیس سے بھی ٹاوروں کو سیکورٹی فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔ بتادیں کہ ٹیلی کام سروسیز ضروری سروسیز میں آتی ہیں ۔ ٹاور کو نقصان پہنچنے سے لوگ بری طرح متاثر ہوں گے ۔ بچوں کی آن لائن پڑھائی بھی متاثر ہوگی ۔


ادھر کانگریس لیڈر پی ایل پونیا نے کہا کہ کسانوں کا صبر و ضبط سے کام لینا چاہئے ۔ انہوں نے ٹیلی کام ٹاور اور جینریٹر سیٹ میں توڑپھوڑ کو غلط بتایا ۔ وہیں بی جے پی لیڈر شہنواز حسین نے کہا کہ پنجاب کی امریندر حکومت کو ٹیلی کام ٹاوروں کے تحفظ کو یقینی بنانا چاہئے ۔ اس طرح سے پراپرٹی میں توڑپھوڑ بند ہونی چاہئے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Dec 29, 2020 07:22 PM IST