உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    راکیش ٹکیٹ کی حمایت میں کسانوں نے جیند - چنڈی گڑھ این ایچ کیا جام، غازی پور بارڈر پر زبردست فورس تعینات

    راکیش ٹکیٹ کی حمایت میں کسانوں نے جیند - چنڈی گڑھ این ایچ کو جام کردیا

    راکیش ٹکیٹ کی حمایت میں کسانوں نے جیند - چنڈی گڑھ این ایچ کو جام کردیا

    Delhi News: جیند میں کسان لیڈر راکیش ٹکیٹ (Rakesh Tikait) کی حمایت میں کسانوں نے جیند - چنڈی گڑھ ہائی وے جام کردیا ہے۔ دہلی بارڈر پر پولیس کی کارروائی سے کسانوں میں کافی ناراضگی ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی: یوم جمہوریہ پریڈ کے دوران ہوئے تشدد کے بعد دہلی (Delhi) اور اس سے متصل سرحدوں پر پولیس نے اپنی ہلچل تیز کردی ہے۔ دہلی کے کئی علاقوں میں مظاہرین کسانوں کے خلاف کارروائی کی تیاری کر رہی ہے۔ احتیاطاً غازی پور بارڈر پر بڑی تعداد میں پولیس اہلکار تعینات کردیئے گئے ہیں۔ دوسری طرف جیند میں کسان لیڈر راکیش ٹکیٹ (Rakesh Tikait) کے حامیوں میں کسانوں نے جیند - چنڈی گڑھ ہائی وے جام کر دیا ہے۔ دہلی بارڈر پر پولیس کی کارروائی سے کسانوں میں کافی ناراضگی ہے۔

      راکیش ٹکیٹ نے غازی پور بارڈر پر جمعرات کی شام صحافیوں سے بات چیت کے دوران وہاں موجود ایک شخص کو تھپڑ مار دیا۔ اس دوران راکیش ٹکیٹ نے اسے پکڑ لیا اور بار بار پوچھتے نظر آئے کہ تو کون ہے؟ راکیش ٹکیٹ نے اسے گریبان سے پکڑ کر کھینچا۔ بعد میں وہاں موجود دیگر لوگوں نے اسے چھڑایا۔ وہیں وہاں موجود لوگوں نے نوجوان کو بی جے پی کا کارکن بتایا اور اسے پکڑ لیا۔ حالانکہ نوجوان کو پولیس کو سونپا گیا ہے یا پھر اسے وہیں پر رکھا گیا ہے، اس کی فی الحال جانکاری نہیں مل رہی ہے۔



      راکیش ٹکیت نے کہا۔ میڈیا سے کر رہا تھا بدتمیزی

      اس واقعہ کے بعد راکیش ٹکیت نے کہا کہ یہ شخص ہماری تنظیم سے نہیں ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے نوجوان پر الزام لگایا کہ اس کے ہاتھ میں ڈنڈا تھا اور وہ کچھ بھی کر سکتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ میڈیا کے ساتھ بدتمیزی کر رہا تھا۔ راکیش ٹکیت نے وارننگ دی کہ ایسا کوئی بھی دیگر شخص یہاں پر موجود ہو تو وہ یہاں سے چلا جائے۔

      اس سے پہلے راکیش ٹکیت نے غازی پور بارڈر پر شام کو ایک اجلاس سے خطاب کیا اور اشتعال انگیز تقریرکی۔ انہوں نے کہا کہ یہاں سے کوئی گرفتاری نہیں ہوگی۔ اگر کوئی گرفتاری ہو گی تو پتہ نہیں کہ ہمارے ساتھ کیا ہو گا۔ ساتھ ہی انہوں نے ایک بار پھر اشتعال انگیز بیان دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایسا ہوا تو گولی چل جائے گی اور انتظامیہ ہی اس کی ذمہ دار ہو گی۔


      Published by:Nisar Ahmad
      First published: