ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

زرعی قوانین : کیا مشرقی اترپردیش کسان تحریک کا گڑھ بنتا جا رہا ہے ؟

کسان تنظیمیں ایسے گاؤں پراپنی توجہ مرکوز کر رہی ہیں ، جو دلت اور مسلم اکثریتی گاؤں تصور کئے جاتے ہیں ۔ یہ تنظیمیں کسانوں کے ساتھ ساتھ مزدوروں اوربے رو زگار نوجوانوں کو بھی اپنی مہم سے جوڑنے کی کوشش میں مصروف ہیں ۔

  • Share this:
زرعی قوانین : کیا مشرقی اترپردیش کسان تحریک کا گڑھ بنتا جا رہا ہے ؟
زرعی قوانین : کیا مشرقی اترپردیش کسان تحریک کا گڑھ بنتا جا رہا ہے ؟

پنجاب کے کسانوں کی طرز پریوپی کے کسانوں نے بھی مرکزی حکومت کے نئے زرعی قوانین کے خلاف لام بند ہونا شروع کر دیا ہے ۔ خاص طور سے مشرقی یو پی کے دور دراز دیہی علاقوں میں کسان تنظیموں کی غیرمعمولی سرگرمیوں نے  یوگی حکومت کے کان کھڑے کر دئے ہیں ۔ اب ریاستی حکومت کی کوشش یہ ہے کہ کسانوں کی احتجاجی مہم کو پھیلنے سے روکا جائے اوران  کے احتجاج کو مقامی سطح پر ہی ختم کرا دیا جائے ۔ پریاگ راج اور اس کے آس پاس کے اضلاع ایک بار پھر کسان تحریک کا گڑھ بنتے جا رہے ہیں ۔ اس علاقے میں بھارتیہ کسان یونین علاوہ  بائیں بازو سے تعلق رکھنے والی  بھارتیہ کسان مزدور سبھا نے بھی چھوٹے چھوٹے جلسے شروع کر دئے ہیں ۔


کسان تنظیمیں ایسے گاؤں پراپنی  توجہ مرکوز کر رہی ہیں ، جو دلت اور مسلم اکثریتی گاؤں تصور کئے جاتے ہیں ۔ یہ تنظیمیں کسانوں کے ساتھ ساتھ  مزدوروں اوربے رو زگار نوجوانوں کو بھی اپنی مہم سے جوڑنے کی کوشش میں مصروف ہیں ۔ کسان تحریکوں سے وابستہ بائیں بازو کے معروف لیڈر ڈاکٹر آشیش متل کا کہنا ہے کہ مرکزی حکومت کی نئی زرعی پالیسی کے خلاف ملک کی چھوٹی بڑی تقریباً  دوسو تنظیمیں ایک ساتھ  مہم  چلا رہی  ہیں ۔


کسانوں نے کشتی کے ذریعے با لو کانکنی ، کھاد کی فراہمی اور سرکاری قیمت 1886 روپے پر دھان کی خریداری کا مطالبہ کیا ۔
کسانوں نے کشتی کے ذریعے با لو کانکنی ، کھاد کی فراہمی اور سرکاری قیمت 1886 روپے پر دھان کی خریداری کا مطالبہ کیا ۔


ڈاکٹر آشیش متل کا کہنا ہے کہ  نئے زرعی قوانین نافذ کرنے سے پہلے حکومت نے کسانوں کواعتماد میں نہیں لیا ۔ ان کا کہنا ہے کہ نئی زرعی پالیسی بنیادی طور سے کسان مخالف پالیسی ہے ۔ اس پالیسی سے غریب اورمجھولے کسانوں پر دور رس منفی اثرات مرتب ہوں گے ۔ اپنی مہم کے دوران بھارتیہ کسان مزدور سبھا نے الہ آباد کے کنجاسا گاؤں میں کسانوں کے ایک بڑے جلسے کا انعقاد کیا ۔  ماضی میں یہ علاقہ بالو کانکنی  کے مزدوروں کی تحریک کا گڑھ رہا ہے ۔ یہاں کے رہنے والے کسان کاشت کاری کے ساتھ ساتھ دریائے جمنا سے بالو نکالنے کا بھی کام کرتے ہیں ۔

جلسے میں  کسانوں نے کشتی کے ذریعے با لو کانکنی ، کھاد کی فراہمی اور سرکاری قیمت  1886 روپے پر دھان کی خریداری کا مطالبہ کیا ۔ جلسہ شروع ہونے کے کچھ دیر بعد ہی بڑی تعداد میں پولیس فورس پہنچ گئی ۔ اس موقع سرکاری منڈی ادھیکاری کو کسانوں نے اپنے مطالبات پر مشتمل ایک  میمورنڈم پیش کیا ۔ پولیس افسران نے مقامی کسانوں کو فوری طور سے جلسہ ختم کرنے کی ہدایت دی ۔

Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Nov 05, 2020 09:57 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading