ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

عدالت کے احاطہ میں مارپیٹ غنڈہ گردی اور آئینی تقاضوں کے منافی : فاروق عبداللہ

جموں: نیشنل کانفرنس کے صدر اور سابق مرکزی وزیر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے نئی دہلی کی جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں محمد افضل گورو اور کشمیر کی آزادی کے حق میں نعرے لگانے والے طلبہ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ فاروق عبداللہ نے یہاں منعقدہ ایک تقریب کے حاشئے پر نامہ نگاروں کو بتایا کہ جے این یو جیسے واقعات قابل قبول نہیں ہیں اور ہم اس کی مذمت کرتے ہیں ۔

  • UNI
  • Last Updated: Feb 27, 2016 05:00 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
عدالت کے احاطہ میں مارپیٹ غنڈہ گردی اور آئینی تقاضوں کے منافی : فاروق عبداللہ
جموں: نیشنل کانفرنس کے صدر اور سابق مرکزی وزیر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے نئی دہلی کی جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں محمد افضل گورو اور کشمیر کی آزادی کے حق میں نعرے لگانے والے طلبہ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ فاروق عبداللہ نے یہاں منعقدہ ایک تقریب کے حاشئے پر نامہ نگاروں کو بتایا کہ جے این یو جیسے واقعات قابل قبول نہیں ہیں اور ہم اس کی مذمت کرتے ہیں ۔

جموں: نیشنل کانفرنس کے صدر اور سابق مرکزی وزیر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے نئی دہلی کی جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں محمد افضل گورو اور کشمیر کی آزادی کے حق میں نعرے لگانے والے طلبہ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ فاروق عبداللہ نے یہاں منعقدہ ایک تقریب کے حاشئے پر نامہ نگاروں کو بتایا کہ جے این یو جیسے واقعات قابل قبول نہیں ہیں اور ہم اس کی مذمت کرتے ہیں ۔


تاہم انہوں نے کہا کہ اگر جے این یو کے طلبہ کوئی بات سامنے رکھنا اور افضل گورو کا مسئلہ اٹھانا چاہیے تھے، انہیں ایسا ایک منظم طریقے سے کرنا چاہئے تھا۔ انہوں نے کہا کہ جے این یو کیمپس میں تشدد اور شور شرابہ نہیں ہونا چاہئے تھا۔ تاہم وہ منظم طریقہ کیا ہوسکتا تھا، فاروق عبداللہ نے اس کی وضاحت نہیں کی۔


آج کے بیان کے برخلاف ڈاکٹر فاروق نے 18 فروری کو اپنے ایک بیان میں نئی دلی کے پٹیالہ ہاؤس کورٹ کے احاطے میں صحافیوں، طلباء اور طالبات کے علاوہ جے این یو سٹوڈنٹس یونین کے صدر کنہیا کمار پر حملے اور مارپیٹ کو ہندوستان کی جمہوریت پر حملہ قرار دیا تھا۔


انہوں نے کہا تھا کہ ایک جمہوری ملک میں کسی کو بھی اپنی آراء پیش کرنے کا حق ہوتا ہے اور کسی کو مجرم یا بے گناہ قرار دینا عدالت کا کام ہوتا ہے اور کوئی بھی اپنی بے گناہی یا کسی پر الزام ثابت کرنے کیلئے عدالت کا دوازہ کھٹکھٹا سکتا ہے لیکن جس طرح سے عدالت کے احاطے میں غنڈا گردی اور مارپیٹ کی گئی وہ سریحاً جمہوری اور آئینی تقاضوں کے منافی ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا تھا کہ جے این یو میں جو کچھ ہوا وہ یونیورسٹی کا اندرونی معاملہ تھا اور اس بارے میں کوئی بھی کارروائی کرنا یا نہ کرنا یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے حد اختیار میں تھا، لیکن اس معاملے کو بلا وجہ سیاسی ایشو بنایا گیا ہے ۔


نیشنل کانفرنس کے صدر نے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کرکٹ مقابلوں کے انعقاد کی وکالت کی۔ انہوں نے کہا کہ ہم ہندوستان اور پاکستان کے مابین کرکٹ کی حمایت کرتے ہیں لیکن پاکستان کو بھی سمجھنا چاہئے کہ مذاکرات اور دہشت گردی ایک ساتھ جاری نہیں رہ سکتے۔


انہوں نے مزید کہا کہ پانپور جیسے واقعات سے مذاکرات پر منفی اثرات پڑسکتے ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ فاروق عبداللہ نے 24 فروری کو سری نگر میں اپنی جماعت کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آرپار کشمیرپر جوں کی توں صورتحال برقرار رکھنے اور اس پوزیشن کو مستقل قرار دینے کی وکالت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنے والے حصے اپنے پاس رکھے گاجبکہ جموں وکشمیر اور خطہ لداخ ہندوستان کے ساتھ ہی رہے گا۔


تاہم انہوں نے کہا تھا کہ ہندوستان کو جموں وکشمیر کی اندرونی خودمختاری بحال کرنی ہوگی ، جو اس کے پاس مرحوم شیخ محمد عبداللہ کی سنہ 1953 میں بحیثیت کہ وزیر اعظم جموں وکشمیر‘ گرفتاری کے وقت تھی۔ اُن کے الفاظ تھے ہمیں ہندوستان کے ساتھ ہی رہنا ہوگا۔ وہ والا حصہ پاکستان کے ساتھ رہی رہے گا۔ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں اور آج پھر کہہ رہا ہوں کہ آزاد کشمیر، اسکردو اور گلگت بلتستان پاکستان کے ساتھ ہی رہیں گے۔


جموں وکشمیر اور لداخ ہندوستان کے ساتھ رہے گا۔ اس کے بعد بھی ہمارا ہندوستان سے مطالبہ رہے گا کہ ہمیں 1953 سے پہلے جو خودمختاری حاصل تھی، وہ بحال کی جائے۔ وہ ہم سے (خودمختاری) چھین لی گئی ہے اور اُس کی بحالی ہمارا حق ہے‘۔انہوں نے اس سے قبل گذشتہ برس کے نومبر میں کہا کہ تھا کہ جو کشمیر پاکستان کے پاس ہے، وہ اسی کا حصہ بنے رہے گا جبکہ یہ والا کشمیر ہندوستان کا ہی حصہ بنے رہے گا۔ اِن کے اس بیان پر انہیں بڑے پیمانے پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

First published: Feb 27, 2016 04:59 PM IST