உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ہندوستان کا سیکولر کردار دم توڑ رہا ہے ، آر ایس ایس کا غلبہ بڑھ رہا ہے: ڈاکٹر فاروق عبداللہ

    سری نگر:نیشنل کانفرنس کے صدر اور سابق مرکزی وزیر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے منگل کے روز الزام عائد کیا کہ ہندوستان میں اقلیتوں کی مذہبی آزادی سلب کی جارہی ہے

    سری نگر:نیشنل کانفرنس کے صدر اور سابق مرکزی وزیر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے منگل کے روز الزام عائد کیا کہ ہندوستان میں اقلیتوں کی مذہبی آزادی سلب کی جارہی ہے

    سری نگر:نیشنل کانفرنس کے صدر اور سابق مرکزی وزیر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے منگل کے روز الزام عائد کیا کہ ہندوستان میں اقلیتوں کی مذہبی آزادی سلب کی جارہی ہے

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      سری نگر:نیشنل کانفرنس کے صدر اور سابق مرکزی وزیر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے منگل کے روز الزام عائد کیا کہ ہندوستان میں اقلیتوں کی مذہبی آزادی سلب کی جارہی ہے جس سے اس ملک کا سیکولر کردار دم توڑ رہا ہے جو کسی بھی زاوئے سے ملک کی وحدت اور آزادی کیلئے سود مند نہیں ہوسکتا ہے۔


      انہوں نے کہا ہے کہ ملک میں بھاجپا حکومت کے معرض وجود آنے کے ساتھ ہی آر ایس ایس کا غلبہ بڑھ رہا ہے، جو ہندوستان کیلئے ایک بڑا خطرہ ہے۔ مسٹر عبداللہ نے کہا کہ مودی کی حکومت میں اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کی مذہبی آزادی سلب کی جارہی ہے، الیکشنوں کو مذہبی رنگت دینے کیلئے دھنگے فساد برپا کئے جارہے ہیں، بڑے گوشت کھانے کی افوہ پر ایک مسلمان کو زیر چوب موت کے گھاٹ اتارا جاتا ہے۔


      انہوں نے کہا کہ یہ بات صرف ڈاکٹر فاروق عبداللہ ہی نہیں بلکہ اعظم خان اور غلام نبی آزاد جیسے قوم پرست ہندوستانی بھی دہرائے رہے ہیں۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے اِن باتوں کا اظہار پرتاپ پارک سری نگر میں بھوک ہڑتال پر بیٹھے این وائی سی رضاکاروں اور کیجول و ڈیلی ویجروں سے ملنے کے بعد کیا۔


      انہوں نے کہا کہ این وائی سی رضاکار ایک ماہ سے زائد عرصہ سے یہاں بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہوئے ہیں لیکن حکومت کی کانوں تک جون تک نہیں رینگی ہے۔ بھوک ہڑتال پر بیٹھے افراد نے ڈاکٹر فاروق عبداللہ سے کہا کہ اُن کے بچوں کو سکولوں سے فیس کی عدم ادائیگی کی وجہ سے نکالا جارہا ہے، اُن کے کنبے فاقہ کشی کے شکار ہیں، سابق حکومت کے کابینہ آرڈر کے باوجود بھی موجودہ حکومت عمل آوری نہیں کررہی ہے۔


      ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے مفتی سرکار کے رویہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پی ڈی پی حکومت بس بلند بانگ دعوے کررہی ہے لیکن عام لوگ بری طرح پس رہے ہیں۔ مفتی صاحب لوگوں کوبڑے بڑے خواب دکھا رہے ہیں لیکن ان غیر مستقل ملازمین کے کنبے فاقہ کشی پر مجبور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کیا وجہ مفتی صاحب کو سابق حکومت کے کابینہ احکامات پرعمل آوری کرنے سے روک رہے ہیں؟ مفتی صاحب بڑے بڑے سیاحتی مراکز بنانے کے دم بھر رہے ہیں تو ان غیر مستقل ملازمین کو وہیں ایڈجسٹ کیوں نہیں کرتے۔


      انہوں نے بھوک ہڑتال پر بیٹھے افراد کو یقین دہانی کرائی کہ اُن کا مسئلہ اسمبلی میں اُٹھایا جائے گا اور وہ اُن کا مسئلہ مرکزی سرکار کے ساتھ بھی اُٹھائیں گے۔ ڈکٹر فاروق عبداللہ نے کہاکہ مفتی سرکار کی نبض ناگپور اور آر ایس ایس کے پاس ہے ، اس لئے وہ اب خود کرنے کے اہل نہیں رہے ہیں۔

      First published: