ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

اُس پار والا کشمیر پاکستان کا حصہ اور اِس پار والا کشمیر ہندوستان کا: فاروق عبداللہ کا متنازعہ بیان

سری نگر ۔ نیشنل کانفرنس کے صدر اور سابق مرکزی وزیر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے ایک بارپھر آرپار کشمیرپر جوں کی توں صورتحال برقرار رکھنے اور اس پوزیشن کو مستقل قرار دینے کی وکالت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنے والے حصے اپنے پاس رکھے گاجبکہ جموں وکشمیر اور خطہ لداخ ہندوستان کے ساتھ ہی رہے گا۔

  • UNI
  • Last Updated: Feb 24, 2016 05:19 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
اُس پار والا کشمیر پاکستان کا حصہ اور اِس پار والا کشمیر ہندوستان کا: فاروق عبداللہ کا متنازعہ بیان
سری نگر ۔ نیشنل کانفرنس کے صدر اور سابق مرکزی وزیر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے ایک بارپھر آرپار کشمیرپر جوں کی توں صورتحال برقرار رکھنے اور اس پوزیشن کو مستقل قرار دینے کی وکالت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنے والے حصے اپنے پاس رکھے گاجبکہ جموں وکشمیر اور خطہ لداخ ہندوستان کے ساتھ ہی رہے گا۔

سری نگر ۔  نیشنل کانفرنس کے صدر اور سابق مرکزی وزیر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے ایک بارپھر آرپار کشمیرپر جوں کی توں صورتحال برقرار رکھنے اور اس پوزیشن کو مستقل قرار دینے کی وکالت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنے والے حصے اپنے پاس رکھے گاجبکہ جموں وکشمیر اور خطہ لداخ ہندوستان کے ساتھ ہی رہے گا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ہندوستان کو جموں وکشمیر کی اندرونی خودمختاری بحال کرنی ہوگی ، جو اس کے پاس مرحوم شیخ محمد عبداللہ کی سنہ 1953 میں بحیثیت ’وزیر اعظم جموں وکشمیر‘ گرفتاری کے وقت تھی۔

فاروق عبداللہ نے اس کا اظہار بدھ کے روز نیشنل کانفرنس کے سابق جنرل سکریٹری شیخ نذیر احمد کی پہلی برسی کے موقع پر یہاں پارٹی کے ہیڈکوارٹر سری نگر میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔


فاروق عبداللہ نے کہا کہ کشمیریوں میں پائی جارہی ناراضگیوں کو دور کرنے اور ان کے دلوں کو جیتنے کے لئے ہندوستان کو ریاست کی خودمختاری بحال کرنا ہوگی۔انہوں نے کہا ’آپ( ہندوستان) یہاں کے لوگوں کے دلوں کو پیسوں سے جیت نہیں سکتے ۔ لوگوں کے احساسات کو پورا کرکے ہی آپ دلوں پر راج کرسکتے ہیں۔ اگر یہاں امن لانا ہے تو لوگوں کے دل جیتنے ہوں گے‘۔ فاروق عبداللہ نے اپنی تقریر میں کہا کہ جت تک ہندوستان اور پاکستان کے درمیان آپسی دوستی بہتر نہیں ہوگی تب تک پٹھان کوٹ اور ممبئی جیسے حملے ہوتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا ’آپ کو (ہندوستان کو) پاکستان کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھانا ہوگا۔ جب تک پاکستان اور ہندوستان دوستی نہیں کریں گے تب تک پٹھان کوٹ اور ممبئی جیسے واقعات رونما ہوتے رہیں گے‘۔ این سی صدر نے انکشاف کیا کہ کچھ لوگ نہیں چاہتے ہیں کہ دونوں ممالک کے تعلقات بہتر ہوں۔ انہوں نے کہا ’دونوں طرف ایسے بھی لوگ ہیں جو نہیں چاہتے کہ ہندوستان اور پاکستان کے مابین تعلقات بہتر ہوں۔ وہ چاہتے ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان تمام مسائل ایسے ہی لٹکتے رہیں‘۔


فاروق عبداللہ نے کہا کہ ہند پاک کے درمیان تلخی کی وجہ سے وادی کی معیشت میں ریڈھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والا سیاحتی شعبہ بری طرح سے متاثر ہورہا ہے۔ تاہم انہوں نے اس کے لئے میڈیا کو بھی ذمہ دار ٹھہرایا جو اُن کے بقول کشمیر کی منفی تصویر پیش کررہا ہے۔ انہوں نے کہا ’پاکستان کے ساتھ بات چیت کرنا بہت ہی اہم ہے۔ ہم بیچ میں پس رہے ہیں۔ہمارا قصور کیا ہے۔ دونوں کے درمیان تلخیوں کے منفی اثرات ہم پر پڑتے ہیں ۔ بدقسمتی سے میڈیا کشمیر کی غلط تصویر پیش کرتا ہے جس کی وجہ سے کشمیر کا سیاحتی شعبہ متاثر ہورہا ہے۔ سیاحوں کو کون بتائے گا کہ ملک الموت ہر ایک جگہ موجود ہوتا ہے‘۔ انہوں نے آرپار کشمیر تمام قدیم اور فطری راستوں کو کھولنے کی وکالت کرتے ہوئے کہ اس پار کشمیریوں کے رشتہ دار اُس پار والے کشمیر میں ہیں اور اسی طرح اُس پار والے کشمیریوں کے رشتہ دار اس پار ہیں۔


تاہم انہوں نے کہا کہ انہیں بھروسہ ہے کہ یہ راستے ایک نہ ایک دن ضرور کھلیں گے۔ ملک میں بڑھتی ہوئی مبینہ عدم برداشت پر تبصرہ کرتے ہوئے فاروق عبداللہ نے کہا کہ یہ خطرے کی گھنٹی ہے جس کو سمجھنے کو کوشش ہے ۔

First published: Feb 24, 2016 05:19 PM IST