உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    باپ نے اپنی بیٹی کو پورن فلم دکھاکر بنائے جسمانی تعلقات ، پھر ہوٹل میں لے جاکر کر ڈالا ایسا کام، لڑکی کی آپ بیتی سن کر اڑ جائیں گے ہوش

    لڑکی نے الزام لگایا ہے کہ جب وہ 6 ویں کلاس میں تھی اس کے والد نے پورن فلم دکھا کر جسمانی تعلقات قائم کرنے کی کوشش کی۔

    لڑکی نے الزام لگایا ہے کہ جب وہ 6 ویں کلاس میں تھی اس کے والد نے پورن فلم دکھا کر جسمانی تعلقات قائم کرنے کی کوشش کی۔

    ڑکی نے الزام لگایا ہے کہ جب وہ 6 ویں کلاس میں تھی اس کے والد نے پورن فلم دکھا کر جسمانی تعلقات قائم کرنے کی کوشش کی لیکن اس نے ایسا نہیں ہونے دیا۔ اس کے بعد باپ نے اسے نئے کپڑے پہنائے اور اسے ڈرائیونگ سکھانے کے نام پر اسے کہیں دور لے گیا اور کھیت میں لے جاکر اپنی ہی بیٹی کا ریپ کیا۔

    • Share this:
      للت پور۔ اتر پردیش (UP) کے ضلع للت پور میں ایک 17 سالہ لڑخی نے اپنے والد اور قریبی رشتہ داروں سمیت 28 افراد پر اس کا ریپ کرنے کا الزام لگایا ہے۔ پولیس میں درج شکایت میں سماج وادی پارٹی (ایس پی) اور بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کے لیڈران کے نام بھی شامل ہیں۔ لڑکی کا کہنا ہے کہ یہ لوگ اسے برسوں سے ہوس کا شکار بناتے رہے ہیں۔ پولیس نے معاملے کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔ ٹائمز آف انڈیا کے مطابق ، شکایت میں نوعمر لڑکی نے الزام لگایا ہے کہ جب وہ 6 ویں کلاس میں تھی اس کے والد نے پورن فلم دکھا کر جسمانی تعلقات قائم کرنے کی کوشش کی لیکن اس نے ایسا نہیں ہونے دیا۔ اس کے بعد باپ نے اسے نئے کپڑے پہنائے اور اسے ڈرائیونگ سکھانے کے نام پر اسے کہیں دور لے گیا اور کھیت میں لے جاکر اپنی ہی بیٹی کا ریپ کیا۔ ساتھ ہی اس نے دھمکی بھی دی کیا کہ اگر لڑکی خاموش نہ رہی کسی کو بھی اس نے یہ بات بتائی تو وہ اس کی ماں کو قتل کر دے گا۔
      کچھ دن بعد لڑکی کے والد نے اسے اسکول سے لوٹنے کے راستے میں کچھ کھلاکر ایک ہوٹل میں لے گیا۔ شاید اس میں نشیلی اشیا ملی ہوئی تھی جو اس نے لڑکی کو لھلایا تھا۔ ہوٹل لے جاکر وہاں لے جاکر باپ نے بیٹی کو ایک عورت کے حوالے کردیا جو اسے کمرے میں اکیلا چھوڑ کر چلی گئی۔ کچھ دیر بعد جب وہ بیہوش ہو گئی ایک آدمی کمرے میں داخل ہوا۔ جب متاثرہ کو ہوش آیا تو اس کے جوتے اور کپڑے صحیح جگہ پر نہیں تھے اور اسے پیٹ میں شدید درد ہو رہا تھا۔

      جب متاثرہ کو ہوش آیا تو اس کے جوتے اور کپڑے صحیح جگہ پر نہیں تھے اور اسے پیٹ میں شدید درد ہو رہا تھا۔


      رپورٹ کے مطابق عصمت دری کا یہ عمل بعد میں بھی جاری رہا اور ہر بار ایک نیا آدمی اس کے ساتھ غیر انسانی طریقے سے زیادتی کرتا تھا۔ اس دوران اسے خاموش رہنے کے لیے کہا گیا اور ڈرایا جاتا رہا۔ نوعمر نے اپنی شکایت میں کہا ہے کہ کچھ دنوں کے بعد تلک یادو آیا اور اس نے اس کے ساتھ ایسے غیر انسانی طریقے سے زیادتی کی ، جیسے کوئی بدلہ لے رہا ہو۔ جب نوعمر نے انکار کیا تو یادو نے کہا کہ اس کے والد اسے یہاں لائے ہیں اور کچھ دنوں کے بعد اس کی ماں بھی یہاں آئے گی۔ تلک کو اس کے رشتہ داروں نے بھی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ تاہم تلک نے سوشل میڈیا پر ایک بیان جاری کرتے ہوئے ان الزامات کی تردید کی اور دعویٰ کیا کہ انہیں اور ان کے بھائیوں کو اس کیس میں جھوٹا پھنسایا جا رہا ہے۔


      صرف بس اتنا ہی نہیں یہاں بھی باپ نہیں رکا اور بیٹی کو پیسوں کے لیے ہوٹلوں میں بھیج کر جسم فروشی کا دھندہ کروانے لگا۔


      متاثرہ لڑکی نے الزام لگایا ہے کہ جب وہ اپنے ماموں کے گھر گئی تو وہاں کئی رشتہ داروں نے بھی اس کے ساتھ زیادتی کی اور اس کی دادی نے اس کام میں ان کی مدد کی۔ الزام ہے کہ دادی نے معاملے کو دبانے کی بھی کوشش کی۔ یہی نہیں ، لڑکی نے یہ الزام بھی لگایا ہے کہ رشتہ داروں نے اسے بیچنے کی کوشش کی تھی لیکن کامیاب نہیں ہوسکے۔
      منگل کو اخبار سے بات کرتے ہوئے للت پور کے ایس پی نکھل پاٹھک نے کہا ، 'یہ ایک انتہائی حساس معاملہ ہے اور ہم اسے بہت سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔ متاثرہ کا طبی معائنہ کیا گیا ہے اور اس کا بیان بھی دفعہ 161 کے تحت درج کرلیا گیا ہے۔ بدھ کو ان کا بیان دفعہ 164 کے تحت مجسٹریٹ کے سامنے ریکارڈ بھی ریکارڈ گیا۔ اس کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ متاثرہ کے والد ٹرک ڈرائیور ہے۔

      کچھ دن پہلے متاثرہ کو آکاش نے موٹر سائیکل پر مادھو نگری لے گیا جہا ں اجئے سرنکر، سندیپ پانڈھرے جمال نامی نوجوسن پہلے سے موجود تھے۔ اکاش نے تینوں سے پیسے وصول کئے اور لڑکی کو حیوانوں کے حوالےکردیا ایسا دو بارکیا۔


      شکایت کی بنیاد پر للت پور پولیس نے لڑکی کے والد ، ایس پی ضلع صدر تلک یادو ، ایس پی سٹی صدر راجیش جین جوجیا ، بی ایس پی ضلع صدر دیپک اہیرور اور کئی دیگر کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے۔ ان کے خلاف آئی پی سی کی دفعات 354 ، 376-D ، 323 ، 506 اور پوکسو ایکٹ کے سیکشن 5/6 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ ایف آئی آر میں مہندر یادو ، اروند یادو ، پربودھ تیواری ، سونو سمائیہ ، مہندر دوبے ، نیرج تیواری ، مہندر سنگھائی ، کوملکانت سنگھائی ، شیاما ، پپو ، مننا ، آکاش ، مہک ، بنٹی ، نیتو ، شرد ، منجو اور کچھ کے نام شامل ہیں۔ نامعلوم افراد کے نام بھی شامل ہیں۔

      شکایت کی بنیاد پر للت پور پولیس نے لڑکی کے والد ، ایس پی ضلع صدر تلک یادو ، ایس پی سٹی صدر راجیش جین جوجیا ، بی ایس پی ضلع صدر دیپک اہیرور اور کئی دیگر کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے۔ ان کے خلاف آئی پی سی کی دفعات 354 ، 376-D ، 323 ، 506 اور پوکسو ایکٹ کے سیکشن 5/6 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ ایف آئی آر میں مہندر یادو ، اروند یادو ، پربودھ تیواری ، سونو سمائیہ ، مہندر دوبے ، نیرج تیواری ، مہندر سنگھائی ، کوملکانت سنگھائی ، شیاما ، پپو ، مننا ، آکاش ، مہک ، بنٹی ، نیتو ، شرد ، منجو اور کچھ کے نام شامل ہیں۔ نامعلوم افراد  کے نام بھی  شامل ہیں۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: