உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Darul Uloom Deoband: کنور یاترا پر فرمانی ناز کی بنائی گئی موسیقی پر دارلعلوم دیوبند نے کہی یہ بات، جانیے تفصیل

    دارالعلوم دیوبند نے ایک فتویٰ جاری کیا

    دارالعلوم دیوبند نے ایک فتویٰ جاری کیا

    ہندوستان کے سب سے بڑے اسلامی مدارس میں سے ایک دارالعلوم دیوبند نے فتویٰ جاری کیا جس میں مسلمان مردوں اور عورتوں کو اپنی اور اپنے خاندان کی تصاویر سوشل میڈیا سائٹس پر پوسٹ کرنے سے منع کیا گیا ہے۔

    • Share this:
      کنور یاترا (Kanwar Yatra) کے تھیم پر سابق 'انڈین آئیڈل' کے مدمقابل فرمانی ناز (Farmani Naaz) کا گانا تنازعہ میں پڑ گیا ہے۔ نیوز 18 ڈاٹ کام کے مطابق دارلعلوم دیوبند (Darul Uloom Deoband) کے ایک عالم نے اسے غیر اسلامی اور حرام قرار دیا ہے۔ مذکورہ گلوکارہ نے 1 اگست کو اپنا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ فنکاروں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا اور اس نے کوئی غلطی نہیں کی۔

      مظفر نگر کی رہنے والی ناز نے کچھ دن پہلے جاری کنور یاترا کے تھیم پر مبنی ’ہر ہر شمبھو شیوا مہادیو‘ (Har Har Shambhu Shiva Mahadev) کو اپنی آواز دی تھی اور اس گانے کو عوام کی جانب سے پذیرائی ملی تھی۔ واضح رہے کہ دارالعلوم دیوبند ہندوستان کا سب سے بڑا اسلامی مدرسہ ہے۔ یہ اتر پردیش کے سہارنپور ضلع کے ایک قصبے دیوبند میں واقع ہے۔

      یہ پہلا موقع نہیں ہے جب اتر پردیش کے دیوبندی عالم اور دیگر مسلم بورڈز کے علماء نے متنازع فتویٰ جاری کیا ہو۔

      'نکاح میں موسیقی نہیں'

      جموں و کشمیر کے پونچھ میں اسلامی اسکالرز نے جنوری میں شادی کی تقریبات میں میوزک، ڈی جے بجانے اور ڈھول پیٹنے کے خلاف فتویٰ جاری کیا۔ یہ اعلان منکوٹ میں کیا گیا، علما نے خبردار کیا کہ اگر کوئی خاندان شادیوں کے دوران موسیقی بجاتا ہے تو نکاح یا نماز جنازہ ادا نہیں کیا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ اگر دولہے نے دلہن کے خاندان سے جہیز کی درخواست کی تو شادی کی تقریبات پر بھی پابندی ہوگی۔ شادی کی تقریب کے دوران موسیقی بجانا یا آتش بازی کا استعمال کرنا بھی ناجائز بتایا گیا ہے۔

      فیس بک، واٹس ایپ پر تصاویر کی ممانعت کا فتویٰ:

      یہ بھی پڑھیں: WhatsAppنے22لاکھ سے زیادہ اکاؤنٹس پر لگائی پابندی، جانیے کیا ہے وجہ

      دارالعلوم دیوبند نے ایک فتویٰ جاری کیا جس میں مسلمان مردوں اور عورتوں کو اپنی اور اپنے خاندان کی تصاویر سوشل میڈیا سائٹس پر پوسٹ کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ 18 اکتوبر کو جاری کردہ فتویٰ میں ہندوستان کے سب سے بڑے اسلامی مدارس میں سے ایک دارالعلوم دیوبند نے کہا ہے کہ فیس بک، واٹس ایپ جیسی سوشل میڈیا سائٹس پر اپنی یا خاندان کی تصاویر پوسٹ کرنے کی اسلام میں اجازت نہیں ہے۔
      یہ بھی پڑھیں:
      امیت شاہ نے کہا’احتیاطی خوراک‘کا کام پورا ہونے کے بعد بنیں گے شہریت قوانین کے Rules





      یہاں کے ایک مدرسے سے وابستہ اسلامی اسکالر مفتی طارق قاسمی نے کہا کہ جب اسلام میں غیر ضروری طور پر تصویریں کلک کرنے کی اجازت نہیں ہے تو سوشل میڈیا پر تصاویر پوسٹ کرنے کی اجازت کیسے دی جا سکتی ہے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: