உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ملائم سنگھ کوبڑی راحت، اجودھیا فائرنگ معاملہ میں درج نہیں ہوگی ایف آئی آر

    ملائم سنگھ یادو: فائل فوٹو

    ملائم سنگھ یادو: فائل فوٹو

    عرضی گزاررانا سنگرام سنگھ نے الزام لگایا کہ رام مندرکی تحریک میں پرامن طریقہ سے حصہ لے رہے ’کارسیوک‘ ملائم سنگھ یادو کے وزیراعلی کی حیثیت سے گولی چلانے کا حکم دینے کی وجہ سے مارے گئے۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:
      نئی دہلی: سپریم کورٹ سے اترپردیش کے سابق وزیراعلی ملائم سنگھ یادوکو بدھ کوبڑی راحت ملی، جب ان پر1990میں رام مندرتحریک کے دوران ’کارسیوکوں' پرگولی چلانے کا حکم دینے پر ایف آئی آر درج کرانے کی عرضی خارج کردی گئی۔ جسٹس اشوک بھوشن اور جسٹس کے ایم جوزف کی بنچ نے تاخیرسے عرضی داخل کرنے کوبنیاد بناکراسے خارج کردیا۔
      عرضی گزاررانا سنگرام سنگھ نے الزام لگایا کہ رام مندرکی تحریک میں پرامن طریقہ سے حصہ لے رہے’کارسیوک‘ ملائم سنگھ یادو کے وزیراعلی کی حیثیت سے گولی چلانے کا حکم دینے کی وجہ سے مارے گئے۔ معاملہ نومبر1990کا ہے، اس وقت ملائم سنگھ یادو اترپردیش کے وزیراعلی اوروشوناتھ پرتاپ سنگھ وزیراعظم تھے۔
      دونومبر1990کولاکھوں کارسیوکوں کی بھیڑ اجودھیا میں جمع تھی اورملائم سنگھ یادونے بھیڑکومنتشرکرنے کے لئے گولی چلانے کا حکم دیاتھا۔ ملائم سنگھ یادو نے کہا تھا کہ ملک کی سلامتی کےلئے اجودھیا میں گولی چلانے کا حکم دینا پڑا تھا۔ گولی چلانے کے حکم کے 23سال بعد ملائم سنگھ  یادو نے کہا تھا کہ اس وقت ان کے سامنے متنازعہ ڈھانچہ بچانے اور ملک کی سلامتی کا سوال تھا اس لئے انھیں یہ حکم دیناپڑا۔ اس کے لئے انھیں افسوس ہے، لیکن ان کے سامنے اورکوئی متبادل نہیں تھا۔
      First published: