உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    دہلی۔دہرادون شتابدی ایکسپریس میں لگی بھیانک آگ، بوگی سے اٹھ رہی اونچی لپٹیں دیکھ کر اڑے ہوش

    دہلی سے دہرادون جارہی 02017 اپ شتابدی ایکسپریس ( Shatabdi Express) ٹرین کو ہری دوار کے قریب کنسرو اسٹیشن کے قریب آگ لگ گئی۔

    دہلی سے دہرادون جارہی 02017 اپ شتابدی ایکسپریس ( Shatabdi Express) ٹرین کو ہری دوار کے قریب کنسرو اسٹیشن کے قریب آگ لگ گئی۔

    دہرادون۔ دہلی سے دہرادون جارہی شتابدی ایکسپریس (Fire in Delhi-Dehradun Shatabdi Express) میں آج اچانک آگ بھڑک اٹھی۔ شارٹ سرکٹ شتابی ہونے کی وجہ سے ایکسپریس ٹرین کی ایک سی 5 بوگی میں آگ لگی۔

    • Share this:
      دہرادون۔ دہلی سے دہرادون جارہی شتابدی ایکسپریس (Fire in Delhi-Dehradun Shatabdi Express) میں آج اچانک آگ بھڑک اٹھی۔ شارٹ سرکٹ شتابی ہونے کی وجہ سے  ایکسپریس ٹرین کی ایک سی 5 بوگی میں آگ لگی۔ تاہم اس حادثے میں کسی مسافر کو کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے۔ اتراکھنڈ کے ڈی جی پی اشوک کمار نے میڈیا سے بات چیت میں کہا کہ مسافروں کو شتابدی ایکسپریس کی بوگی سے بحفاظت نکال لیا گیا ہے۔ کسی مسافر کے زخمی ہونے کی کوئی خبر نہیں ہے۔
      دہلی سے دہرادون جارہی 02017 اپ شتابدی ایکسپریس ( Shatabdi Express) ٹرین کو ہری دوار کے قریب کنسرو اسٹیشن کے قریب آگ لگ گئی۔ آگ نے کچھ ہی دیر میں خوفناک شکل اختیار کرلی۔ ٹرین کی سی 5 بوگی کی کھڑکیوں سے آگ کے بھیانک شعلوں اٹھنے لگے۔ ریلوے حکام کے مطابق یہ حادثہ رائے والا اور کینسرو ریلوے بلاکس پر دوپہر 12 بجے کے بعد پیش آیا۔ حادثے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔
      ٹرین میں آگ لگنے کی اطلاع ملتے ہی ریلوے کے عہدیداروں کو آنا۔فانا ہی الرٹ کردیا گیا۔ فائر بریگیڈ کو اطلاع دی گئی۔ فائر بریگیڈ کے ملازمین نے بڑی مشقت کے بعد ٹرین میں لگی آگ پر قابو پالیا۔ ریلوے کے مطابق حادثے کے بعد  آگ لگنے والی بوگی کو ٹرین سے کاٹ کر الگ کر دیا گیا اور ٹرین کو آگے بھیج کر دیا گیا۔

      ادھر ٹرین کے گارڈ نے اطلاع دی کہ سی 5 کوچ کے تمام مسافر محفوظ ہیں۔ آگ لگنے کے فورا بعد انہیں دوسری بوگیوں میں منتقل کردیا گیا۔ اس کوچ میں مجموعی طور پر 35 مسافر سوار تھے کسی کو نقصان پہنچانے کی کوئی خبر ابھی تک نہیں ہے۔ تمام مسافروں کو دوسری بوگیوں میں بیٹھنے کے بعد ، ٹرین کو آگے  کیلئے روانہ کر دیا گیا ہے۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: