ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

کشمیر میں پہلی بارخواتین نے ایم جی نریگا کے تحت تعمیراتی کاموں میں حصہ لیکر اپناروزگارکمانا شروع کیا

خواتین کو بااختیاربنانے کی بہترین پہل، کشمیر میں پہلی بارخواتین نے ایم جی نریگا کے تحت تعمیراتی کاموں میں حصہ لیکراپناروزگارکمانا شروع کیا۔

  • Share this:
کشمیر میں پہلی بارخواتین نے ایم جی نریگا کے تحت تعمیراتی کاموں میں حصہ لیکر اپناروزگارکمانا شروع کیا
خواتین کو بااختیاربنانے کی بہترین پہل

مہاتماگاندھی نیشنل رورل امپلائمنٹ گارنٹی ایکٹ یعنی ایم جی نریگا اور چودہویں فینانس کمیشن کے تحت وادی کشمیرمیں ہورہے ترقیاتی کاموں میں اب یہاں کی خواتین نے پہلی بارحصہ لےکر ازخود اپناروزگارحاصل کرنےکےلئے کام کرناشروع کیا ہے۔ سب ڈویژنگلمرگ کے وائیلو بلاک میں ڈیپارٹمنٹ آف رورل ڈیولپمنٹ اینڈ پنچایتی راج جموں وکشمیر کی جانب سے پہلی بارخواتین کوبا اختیاربنانے کے لئے اس طرح کی پہل شروع کی گئی ہے۔

بلاک ڈیولپمنٹ آفیسر وائیلوعبدالرقیب نے اس کام کی باضابطہ  شروعات کی۔متعلقہ بلاک میں لاک ڈاون کے دوارن اب تک کئی کاموں کوخواتین کے ذریعے سےہی پایہ تکمیل تک پہنچایا گیاہے۔ کشمیرمیں زیادہ ترسرکاری کی طرف سے کرائے جارہے تعمیراتی کاموں میں مردحضرات ہی حصہ لیتے ہیں۔ ان کاموں میں خواتین کی شمولیت صفر کے برابرہوتی تھی جبکہ خواتین اب بڑھ چڑھ کر ایم جی نریگا کے تعمیراتی کاموں میں حصہ لےکر اپنا روزگار خودہ ی کمارہی ہیں۔

شاید اس کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ لاک ڈاون کی وجہ سے لوگوں کی مالی حالت یعنی معشیت انتہائی کمزور ہوئی ہے۔ خواتین نے درپیش مالی حالت کومستحکم بنانے کے لئے اپنے اپنے علاقوں میں ایم جی نریگا کے ذریعے سے ہورہے تعمیراتی کاموں میں حصہ لےکراپنا روزگا کمانے کے لئے یہ قدم اٹھایا۔ ٹنگمرگ کےوائیلومیں ان دنوں دوسوکے قریب خواتین ایم جی نریگا کےتعمیراتی کاموں سے روزگارحاصل کررہی ہیں۔

ایک مقامی خاتون نے نیوز 18اردوکوبتایاکہ وہ متعلقہ محکمہ کے شکرگزار ہیں کہ انہیں اپنے ہی علاقے میں نریگا کے ذریعے سے مزدوری ملی۔ ایک تعلیم یافتہ آفرینہ نامی طالبہ نے بھی نیوز18اردو کو بتایاکہ وہ اپنے اہل خانہ کی مددکی غرض سے یہاں کام کرتی ہیں۔ انہوں نےکہاکہ وہ خوش ہیں کہ انہیں یہاں روزگارفراہم ہوتاہے۔ وہ اپناروزگارکمانے کے ساتھ ساتھ پڑھائی  بھی کرتی ہیں۔


بلاک ڈیولپمنٹ آفیسر وائیلو ٹنگمرگ عبدالرقیب نے نیوز18اردو سے بات کرتے ہوئے کہاکہ سرکارکی یہی کوشش رہتی ہے کہ دیہی علاقوں میں تعمیراتی کاموں کے ذریعےسے لوگوں کو  روزگارفراہم ہوسکے۔انہوں نے کہاکہ اس بار انہوں نےخواتین کو موقع دیاکہ وہ تعمیراتی کاموں کے اس عمل میں حصہ لے کراپنا روزگار کماسکیں۔ جس کاانہیں مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں۔ انہوں نے مزیدبتایاکہ یہ قدم خواتین کو بااختیاربنانے کی ایک بہترین پہل ہے۔
Published by: Sana Naeem
First published: Jul 18, 2020 12:27 PM IST