ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

یو پی کے پانچ سو سے زائد امداد یافتہ دینی مدارس شدید بحران کے شکار

اس سال مدارس میں بچوں کی تعداد بہت کم رہنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ان حالات میں امداد یافتہ دینی مدارس کو اپنی تعلیمی میقات شروع کرنے میں سخت دشوارہوں کا سامنا ہے۔

  • Share this:
یو پی کے پانچ سو سے زائد امداد یافتہ دینی مدارس شدید بحران کے شکار
یو پی کے پانچ سو سے زائد امداد یافتہ دینی مدارس شدید بحران کے شکار

الہ آباد۔ یو پی میں پانچ سو سے زائد سرکاری امداد یافتہ دینی مدارس سخت بحرانی حالت کا شکار ہو گئے ہیں۔ ان دینی مدارس میں بہار اور بنگال سے تعلق رکھنے والے ہزاروں طلبا تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ بلکہ یوں کہیں کہ یو پی کے بیشتر دینی مدارس بہار اور بنگال سے تعلق رکھنے والے طلبا کی بدولت ہی اپنا وجود قائم رکھے ہوئے ہیں۔ لاک ڈاؤن سے پہلے ہی  بیشتر دینی مدارس نے اپنی سالانہ تعطیلات کا اعلان کر دیا تھا۔ مدارس سے تعلق رکھنے بیشتر طلبا چھٹیوں کے بعد اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہو گئے تھے۔ جو طلبا لاک ڈاؤن کے بعد بھی مدارس میں رہ گئے تھے وہ بھی رفتہ رفتہ کسی طرح اپنے گھروں تک پہنچ گئے۔ دینی مدارس میں شوال کا مہینہ نیا تعلیمی سیشن کا مہینہ ہوتا ہے۔ لیکن لاک ڈاؤن اور اس سے پیدا شدہ صورت حال کو دیکھتے ہوئے بچوں کے اپنے دینی اداروں میں واپس  لوٹنے کی امید بہت کم دکھائی دے رہی ہے۔ جو بچے لاک ڈاؤن سے پہلے یا اس کے بعد اپنے گھروں کو جا چکے ہیں فی الحال وہ اپنی تعلیم گاہوں میں واپس آنے کی حالت میں نہیں ہیں۔ ریاست کے امداد یافتہ دینی مدارس اس بحرانی صورت حال سے کافی پریشان ہیں ۔


واضح رہے کہ ریاستی حکومت کی طرف سے دینی مدارس کو مالی امداد اسی شرط پر ملتی ہے کہ وہ مدرسہ بورڈ کے طے شدہ تعلیمی نصاب کے مطابق بچوں کو تعلیم دیں گے۔ اس سال مدارس میں بچوں کی تعداد بہت کم رہنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ان حالات میں  امداد یافتہ دینی مدارس کو اپنی تعلیمی میقات شروع کرنے میں سخت دشوارہوں کا سامنا ہے۔ تعلیمی میقات شروع نہ ہونے کی صورت میں ریاستی حکومت سے تنخواہ کی شکل میں مدارس کو ملنے والی مالی امداد بند ہو سکتی ہے۔ اس وقت ریاست کے پانچ سو سے زیادہ دینی مدارس پر مالی امداد بند ہونے کی تلوار لٹک رہی ہے۔


واضح رہے کہ ریاستی حکومت کی طرف سے دینی مدارس کو مالی امداد اسی شرط پر ملتی ہے کہ وہ مدرسہ بورڈ کے طے شدہ تعلیمی نصاب کے مطابق بچوں کو تعلیم دیں گے۔


امداد یافتہ دینی مدارس کی نمائندہ تنظیم ٹیچرس ایسو سی ایشن مدارس عربیہ کے جنرل سکریٹری اعظم حامد اس صورت حال کو کافی تشویش ناک قرار دے رہے ہیں۔ اعظم حامد کا کہنا ہے کہ جب مدارس میں طلبا ہی نہیں رہیں گے تو مدارس اپنی تعلیمی سرگرمیاں کس طرح سے چلا پائیں  گے ؟ اعظم حامد کا کہنا ہے کہ اس سال بیرونی طلبا کو اپنے تعلیمی اداروں کی طرف لوٹنا بہت مشکل نظر آ رہا ہے۔ کیوں کہ زیادہ تر طلبا کا تعلق بہار اور بنگال کے دور دراز علاقوں سے ہے ۔اعظم حامد اس تشویش کا بھی اظہار کرتے ہیں کہ کورونا وائرس اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے مدارس میں تعلیم حاصل کرنے والے غریب بچوں پر بہت برا اثر پڑے گا۔  ان کا کہنا ہے کہ اب ان طلبا کو مدرسے میں لانے کی ذمہ داری مدارس عربیہ کی ہے۔ اس  کے لئے مدارس کے ذمہ داران کو کافی جدو جہد کرنی پڑے گی۔ دوسری جانب مدارس کے ذمے داران کا کہنا ہے کہ ریاستی حکومت کی مالی امداد بند ہونے کی صورت میں مدارس میں پڑھانے والے ہزاروں ٹیچروں کے سامنے ان کی تنخواہ کا مسئلہ پیدا ہو گیا ہے۔
First published: May 27, 2020 06:39 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading