உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    یوم آزادی کی مناسبت سے اقرا انٹرنیشنل اسکول میں پرچم کشائی کی شاندار تقریب کا انعقاد

    یوم آزادی کی مناسبت سے اقرا انٹرنیشنل اسکول میں پرچم کشائی کی شاندار تقریب کا انعقاد

    یوم آزادی کی مناسبت سے اقرا انٹرنیشنل اسکول میں پرچم کشائی کی شاندار تقریب کا انعقاد

    اسکول کے بانی مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند نے آزادی کا صحیح معنیٰ و مفہوم پیش کرتے ہوئے کہا کہ آزادی وہی ہے جس میں ملک کے تمام طبقات امن و سکون سے رہیں ۔

    • Share this:
      نئی دہلی : یوم آزادی کی مناسبت سے اقرا انٹرنیشنل اسکول میں پرچم کشائی کی رنگارنگ تقریب منعقد ہوئی ، جس میں ادارے کے ذمہ داران کے علاوہ علاقہ کے سیاسی، سماجی اور علمی شخصیات نے بھاری تعداد میں شرکت کی۔ رسم پرچم کشائی اسکول کے ڈائریکٹر مولانا اظہر مدنی کے ہاتھوں انجام پائی ۔ اس کے بعد جامعہ ازہر ہندیہ کے ایک استاذ مولانا ضیاء الرحمن تیمی نے ترانہ ہندی سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا پیش کیا اور اسکول کے ڈائریکٹر کے بھائی ارشد نے قومی گیت جن گن من ادھی نایک جئے ہے  کو نہایت ہی مترنم آواز میں پیش کیا۔ اس موقع سے ایک مختصر نشست کا بھی انعقاد ہوا ، جس میں شرکائے تقریب نے اپنے اپنے خیالات اظہار کیا۔

      سب سے پہلے مولانا محمد اظہر مدنی نے حاضرین کو خطاب کرتے ہوئے پورے اہل وطن کو یوم آزادی کی مبارک باد پیش کی اور کہا کہ اقرا انٹرنیشنل اسکول میں یوم آزادی اور یوم جمہوریہ جیسی قومی تقاریب کو منانے کی بہت خوبصورت روایت رہی ہے ، لیکن اس وبا کے دور میں طلبہ کو اسکول میں حاضر ہونے کی اجازت نہیں ہے، اس وجہ سے اس قدر سادہ انداز میں ہم اس پروگرام کو منعقد کررہے ہیں اور اس میں بھی کورونا سے بچاؤ کی سبھی تدابیر کو ملحوظ رکھ رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ آزادی ہمارے لئے ایک نعمت ہے۔ اس نعمت کو قدر کرنی چاہئے اور اس موقع سے ہمیں اپنے اسلاف کی قربانیوں کو یاد کرنا چاہئے ۔ نیز باہم شیرو شکر ہوکر ملک کی ترقی کے لئے کوششیں کرنی چاہئے تاکہ ہمارا ملک ہر میدان میں ترقی کرے اور اس میں امن و امان قائم ہو۔

      اس پروگرام سے اسکول کے مینیجر محمد رئیس فیضی نے کہا کہ اقرا انٹرنیشنل اسکول کے ڈائریکٹر اور بانی اس شاندار تقریب کے انعقاد کے لئے مبارکباد کے مستحق  ہیں۔  انہوں نے شرکاء کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج جبکہ کورونا وائرس کی وجہ سے اسکول اور تعلیمی مراکز بند ہیں، ایسے میں ہم تمام لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ اپنے بچوں پر پہلے سے زیادہ نظر رکھیں ۔ تاکہ ان کا تعلیم سے تعلق بنارہے اور غلط صحبت میں پڑ کر وہ اپنے مستقبل کو تاریک نہ کریں۔ رئیس فیضی نے مزید کہا کہ کورونا کے زمانہ میں بھی اس اسکول میں آن لائن تعلیم کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور یہ اس اسکول کی بڑی کامیابی ہے۔

      ایک مختصر نشست کا بھی انعقاد ہوا ، جس میں شرکائے تقریب نے اپنے اپنے خیالات اظہار کیا۔
      ایک مختصر نشست کا بھی انعقاد ہوا ، جس میں شرکائے تقریب نے اپنے اپنے خیالات اظہار کیا۔


      اس پروگرام سے خطاب کرنے والوں میں انجنیئر تسلیم عارف، انجینئر قمرالزماں، محمد فہیم سنابلی، محمد مصطفی سنابلی ہریانہ، علاء الدین، کانگیریس لیڈر بلال احمد ندوی، رتیکا جی  کانگریس صدر حلقہ کالکا جی ، شاہد خان صاحب، محمد خورشید مدنی اور فاروق صاحب اہم اور قابل ذکر ہیں۔ تمام مقررین نے جیت پور جیسے پچھڑے علاقہ میں اقرا انٹرنیشنل اسکول کے قیام اور اس کے کامیاب انتظام کے لئے ذمہ داران اسکول خصوصا بانی اسکول مولانا اصغر علی مدنی اور اسکول کے ڈائریکٹر مولانا محمد اظہر مدنی کی کاوشوں کو سراہا اور اسکول کی کامیابی کے لئے دعائیں دی۔

      نیز تمام حاضرین نے اپنے خطاب میں جوباتیں کہیں اس کا لب لباب یہ ہے کہ ملک کے موجودہ حالات میں مسلمان گنگا جمنی تہذیب کو ہی اپنی شان سمجھیں، اپنے بچوں کو تعلیم سے آراستہ کریں تاکہ وہ ملک و وطن کی تعمیر و ترقی میں سرگرم کردار ادا کرسکیں، امن و امان کے داعی اور مناد بنیں، انتشار چاہے جس صورت میں بھی ہو، اس سے بالکلیہ احتراز کریں اور وطن عزیز کی تعمیر و ترقی میں سرگرم رول ادا کریں۔

      آخر میں اسکول کے بانی حضرت مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند نے آزادی کا صحیح معنیٰ و مفہوم پیش کرتے ہوئے کہا کہ آزادی وہی ہے جس میں ملک کے تمام طبقات امن و سکون سے رہیں، اتحاد کا دامن تھامے رہیں کیونکہ اس میں بسنے والے افراد دلہن کی دو خوبصورت آنکھوں کی طرح ہیں کہ جن میں سے کسی ایک کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا اور نہ ان میں سے کسی ایک کو تکلیف دینے کے بعد اس دلہن کا حسن و جمال ہی باقی نہیں رہ سکتا ہے۔

      انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے متحد ہوکر آزادی کی لڑائی لڑی تھی تب کامیاب ہوئے تھے اور ہم نے ہر طرح کا بھید بھاؤ ختم کیا۔ حصولِ آزادی کے بعد اب ہمیں مل جل کر ملک کی ترقی کے لئے کاوشیں کرنی ہیں۔

      اس پروگرام کی نظامت مولانا محمد فضل الرحمن ندوی نے کی۔ اس علاوہ اس پروگرام میں جن اہم لوگوں نے شرکت کی ان میں عبداللہ سلفی، کلام اختر جے این یو، قاری الطاف سلفی وغیرہ اہم اور قابل ذکر ہیں۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: