உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اتراکھنڈ میں 10 مئی کو طاقت آزمائی، باغی ممبران اسمبلی نہیں دے سکیں گے ووٹ

    نئی دہلی۔ مرکزی حکومت نے اتراکھنڈ اسمبلی میں طاقت آزمائی سے متعلق سپریم کورٹ کی تجویز پر رضامندی ظاہر کردی ہے۔

    نئی دہلی۔ مرکزی حکومت نے اتراکھنڈ اسمبلی میں طاقت آزمائی سے متعلق سپریم کورٹ کی تجویز پر رضامندی ظاہر کردی ہے۔

    نئی دہلی۔ مرکزی حکومت نے اتراکھنڈ اسمبلی میں طاقت آزمائی سے متعلق سپریم کورٹ کی تجویز پر رضامندی ظاہر کردی ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی۔ مرکزی حکومت نے اتراکھنڈ اسمبلی میں طاقت آزمائی سے متعلق سپریم کورٹ کی تجویز پر رضامندی ظاہر کردی ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ سابق وزیر اعلی ہریش راوت کو ایوان میں اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کی اجازت دی جانی چاہئے۔ سپریم کورٹ نے اتراکھنڈ میں ایوان میں طاقت آزمائی کے طور طریقوں پر بھی تبادلہ خیال کیا ہے۔ تاہم، کانگریس کے 9 نا اہل ارکان اسمبلی ووٹ نہیں کر سکیں گے۔ سپریم کورٹ نے باغی ممبران اسمبلی کی پٹیشن مسترد کر دی ہے۔

      اس کے لئے سپریم کورٹ نے 10 مئی کی تاریخ مقرر کی ہے۔ صبح 11 بجے اکثریت ثابت کرنے کا وقت مقرر کیا گیا ہے۔ اس دوران 2 گھنٹے کے لئے ریاست سے صدر راج کو ہٹا دیا جائے گا۔اٹارنی جنرل مکل روہتگی نے ووٹنگ کے عمل کی نگرانی کے لئے سابق سی ای سی یا سابق جج کو مشاہد بنائے جانے کی بات کہی۔ انہوں نے کہا کہ اس طاقت آزمائی کا واحد ایجنڈا دو سیاسی جماعتوں کی طرف سے اکثریت ثابت کرنے کا ہی ہونا چاہئے۔

      اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ سے کہا کہ طاقت آزمائی کے دوران بھی ریاست میں صدر راج برقرار رکھنا چاہئے۔ سپریم کورٹ نے منگل کو اٹارنی جنرل کو کہا تھا کہ وہ مرکز سے طاقت آزمائی پر مشاورت لے۔ اس کے بعد مرکزی حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے۔

      دراصل، نینی تال ہائی کورٹ نے اتراکھنڈ میں صدر راج ہٹانے کا فیصلہ دیا تھا جس کے خلاف مرکزی حکومت سپریم کورٹ گئی۔ منگل کو عدالت نے مرکز سے پوچھا تھا کہ کیوں نہ پہلے کورٹ کی نگرانی میں فلور ٹیسٹ کرایا جائے۔ اس معاملے میں سپریم کورٹ نے رامیشور فیصلہ کا حوالہ بھی دیا تھا۔ بتا دیں کہ فی الحال ریاست میں صدر راج نافذ ہے۔

      اس سے پہلے اتراکھنڈ ہائی کورٹ نے مرکزی حکومت کو سخت پھٹکار لگاتے ہوئے صدر راج ہٹانے کا حکم دیا تھا۔ کورٹ نے کہا تھا کہ ریاست میں 18 مارچ سے پہلے کی صورتحال بنی رہے گی۔ ایسے میں ہریش راوت ایک بار پھر ریاست کے وزیر اعلی بن گئے تھے اور انہیں 29 اپریل کو اسمبلی میں اکثریت ثابت کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ ہائی کورٹ کے اس حکم پر سپریم کورٹ نے روک لگا دی تھی اور ریاست میں صدر راج پھر نافذ ہو گیا ہے۔

       
      First published: