உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مسلمانوں کے تنزل کا بڑا سبب مسلم بچیوں میں تعلیم و معیاری تعلیم کا ہے فقدان: ڈاکٹر کشور جہاں زیدی

    مسلم معاشرے کی ترقی اور خوشحالی کے لئے ضروری ہےکہ لڑکیوں کی تعلیم کے راستے ہموار کئے جائیں، صرف تعلیم کی فراہمی ضروری نہیں بلکہ معیاری تعلیم کی فراہمی کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔

    مسلم معاشرے کی ترقی اور خوشحالی کے لئے ضروری ہےکہ لڑکیوں کی تعلیم کے راستے ہموار کئے جائیں، صرف تعلیم کی فراہمی ضروری نہیں بلکہ معیاری تعلیم کی فراہمی کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔

    مسلم معاشرے کی ترقی اور خوشحالی کے لئے ضروری ہےکہ لڑکیوں کی تعلیم کے راستے ہموار کئے جائیں، صرف تعلیم کی فراہمی ضروری نہیں بلکہ معیاری تعلیم کی فراہمی کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔

    • Share this:
    لکھنئو: کوئی بھی معاشرہ اسی وقت ترقی کرسکتا ہے جب اس خصوصی معاشرے کی خواتین تعلیمی اعتبار سے مستحکم ہوں اور ترقی کے منصوبوں میں برابر کی شریک ہوں، آج اس ضرورت کو شدت سے محسوس کیا جارہا ہے کہ لڑکیوں کو تعلیمی زیور سے آراستہ کرنے  انہیں خود کفیل بنانے اور ایک بہتر نظامِ زندگی عطا کرنے کے لئے ملت اسلامیہ کو حکومتوں پر انحصار کئے بغیرمشترکہ طور پر تحریکات چلانی ہوں گی۔ ذاتی و انفرادی کوششوں سے ماحول کو سازگار بناناہوگا۔ ان خیالات کا اظہار پیپر مل کالونی واقع کیفی اعظمی اکادمی میں منعقدہ ایک ادبی تقریب میں کئی زبانوں کی ماہر اور کئی کتابوں کی مصنفہ ڈاکٹر صابرہ حبیب نے کیا اجرائی تقریب میں تعلیم اور مسلم خواتین کے موضوع پر بولتے ہوئے ڈاکٹر کشور جہاں زیدی نے کہا کہ مسلمانوں کے تنزل کا بڑا سبب مسلم بچیوں میں تعلیم اور معیاری تعلیم کا فقدان ہے ، معروف سماجی و ادبی تنظیم پرورش کی جانب سے منعقدہ کانفرس میں پرگتی شیل سماج وادی پارٹی کے ترجمان سمیت کئ سماجی فلاحی اور تعلیمی تنظیموں سے وابستہ لوگوں نے شرکت کی۔

    اس موقع پر پرورش کی جانب سے ان لڑکیوں کی حوصلہ افزائی بھی کی گئی جنہوں نے اپنے اپنے درجات میں نمایاں کارکردگی پیش کی۔ اس موقع پر معروف سماجی کارکن پروین شکیل نے کہا کہ گزشتہ دو دہائیوں سے غریب بچیوں کی تعلیمی کفالت کے لئے ٹرسٹ شب و روز خدمات انجام دے رہاہے لیکن افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ کسی بھی سیاسی جماعت اور حکومت کی جانب سے اس باب میں کبھی کوئی تعاون نہیں ملا ہے مولانا نعیم الدین صدیقی کے مطابق الیکشن کے وقت لوگوں کو اس طبقے کی زبوں حالی اور تعلیمی بد حالی کا خیال آتا ہے ، بڑے بڑے دعوے کئے جاتے ہیں۔

    AUS vs SL T20: سری لنکائی کے خلاف تیسرےT20میچ میں بابراعظم کو پیچھےچھوڑ سکتےہیں ڈیوڈوارنر


    وعدے کئے جاتے ہیں اور پھر ووٹ لےنے کے بعد سب کچھ فراموش کردیا جاتا ہے لہٰذا بیس سال سے کئے جارہے مسلسل وعدوں کی حقیقت یہی ہے کہ اقلیتوں کے کسی بھی ادارے اور اسکول کی فلاح کے لیے نہ سیاسی لوگ سنجیدہ ہیں اور نہ سیاسی جماعتیں ابھی تک غریب بچیوں کی تعلیم کا سلسلہ کسی طرح عوامی چندے سے چل رہا ہے لیکن کورونا کے سبب پیدا ہوئے معاشی بحران نے اب یہ راستے بھی دشوار کردئے ہیں لہٰذا اس پروگرام میں یہ آواز بھی بلند کی گئی کہ اب تعلیم کو یقینی بنانے کے لئے ملت اسلامیہ کے مرد و خواتین کو خود کوششیں کرنی ہوں گی۔

    کرکٹر Andre Russell کا خود کو ہی مہنگا تحفہ، قیمت جان کر آپ کے بھی اڑ جائیں گے ہوش۔۔۔

    اس موقع پر نازیہ لاری نے کہا کہ اس مسابقتی دور میں حصول تعلیم ہی مسئلہ نہیں ہے بلکہ معیاری تعلیم کی ضرورت ہے اور لڑکیوں کو معیاری تعلیم فراہم کرنے کے لئے ایسے ذرائع اور اسباب ناگزیر ہیں جن سے مالی معاونت کو یقینی بنایا جاسکے۔۔بدلتے حالات کے پیش نظر جس اندا کی کار فرمائیاں ارباب سیاست اور ارباب اقتدار کی جانب سے کی جارہی ہیں اس سے رہی سہی امیدیں بھی ماند پڑتی جارہی ہیں لہٰذا لوگوں کو خود ہی میدان عمل میں اتر کر حالات کو تبدیل کرنے کی جد و جہد کرنی پڑے گی۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: