ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

سفارت کاروں کے گروپ کے دورے کا آج دوسرا دن، کشمیری مہاجرین سے ملاقات کرے گا بیرونی وفد

بتادیں کہ پندرہ ممالک کے سفارت کاروں کا ایک وفد جموں کشمیر کے دو روزہ دورے پر ہے ۔ آج دورےکادوسرادن ہے۔ وفد خصوصی پوزیشن کی منسوخی کے بعد یوٹی کی صورتحال کا جائزہ لینے کی غرض سے یہاں پہنچا ہے۔کل سرینگرکاوفد نےدورہ کیاتھا۔

  • Share this:

غیر ملکی سفارت کاروں کاگروپ آج جموں کےدورے پرہے۔ آج جموں کےعوامی نمائندوں سےوفد کی ملاقات ہوگی۔ آپ کوبتادیں کہ پندرہ ممالک  کے سفارت کاروں  کا ایک  وفد جموں کشمیر کے دو روزہ دورے پر ہے ۔ آج دورےکادوسرادن ہے۔ وفد  خصوصی پوزیشن کی منسوخی کے بعد  یوٹی  کی صورتحال کا جائزہ لینے کی غرض سے  یہاں پہنچا ہے۔کل سرینگرکاوفد نےدورہ کیاتھا۔

پندرہ ممالک  کے سفارت کاروں  کا ایک  وفد جموں کشمیر کے دو روزہ دورے پر ہے  ۔ وفد  خصوصی پوزیشن کی منسوخی کے بعد  یوٹی  کی صورتحال کا جائزہ لینے کی غرض سے  یہاں پہنچا ہے ۔۔ ان میں  امریکہ ،جنوبی کوریا ، ویتنام ، فجی ،بنگلہ دیش ، مالدیپ ، ناروے ، ٹوگو، پیرو، موراکو، ارجنٹینا ،نیجر،  نجیریا ،گیانا اور  فلپائن  کے سفیر شامل ہیں ۔  انہوں نے  کئی سیاسی  اور سماجی لیڈران  سے ملاقات کی ۔مقامی سول سوسائٹی ارکان اور  میڈیا نمائندوں سے  بھی  وفد نے ملاقات کی ۔ اس بیچ   جی او سی  ، کے جے  ایس ڈھلن نے غیر ملکی   وفد  کو سیکورٹی صورتحال کی جانکاری فراہم کی ۔

مقامی لوگوں کا ایک گروپ  بھی وفد  سے ملا ۔انہوں نے  تبادلہ خیال کے دوران  غیر ملکی وفد  کو کئی پیغامات  دئے ۔ انہوں  نے پاکستان کی جانب سے جموں کشمیر میں  ہو ر ہے خرابے  کی غلط بیانی کو مسترد کر دیا ۔ گروپ نے  پانچ اگست کے بعدصورتحال کو  قابو میں  رکھنے کے لئے  یو ٹی انتظامیہ کی  ستائش کی ۔مقامی لوگوں کے گروپ  نے  وفد کو بتایا کہ  اگرچہ انہیں  اس دوران کئی مشکلات پیش آئیں تاہم نظم و ضبط کو  برقرا رکھنالازمی تھا ۔ انہوں  نے  جموں کشمیر میں دہشت   پھیلانے  کے لئے پاکستان  کی   ڈسپریشن  اور لگاتار کوششوں کو  بھی  بے نقاب کر دیا۔ گروپ نے جموں  کشمیر میں ہلاکتوں  کے لئے پاکستان کو ذمہ دار ٹھہرایا  اور   ساتھ  ہی وفد سے ان کے معاملات میں  دخل اندازی نہ دینے کے لئے پاکستان  پر  دباؤ ڈالنے کو کہا ۔ لوگوں  کے گروپ نے  یہ بھی کہا کہ وہ پاکستان کو ایک انچ بھی نہیں دیں گے ۔   وفد نے    پایا کہ جموں کشمیر  میں حالات بالکل  ٹھیک ہیں ۔ دکانیں کھلی ہیں  اور سرینگر کی گلیوں میں لوگوں کی آواجاہی جاری ہے ۔ اس بیچ  وزارت خارجہ  نے  ایک پریس کانفرنس منعقد  کی ۔


وزارت کے ترجمان رویش کمار  نے  وفد کے کشمیر دورے کی تفصیلی  جانکاری فراہم کی ۔انہوں نے کہا کہ  یہ دورہ  حکومت  ہند کی  جانب سےکیا گیا۔ وہ دکھانا چاہتی ہے کہ جموں کشمیر میں حالات پُرامن ہیں ۔  رویش کمار نے کہا  کہ سفارت کارکل جموں کادورہ کریں گے۔اس بیچ  پندرہ رکنی وفد کے دورے  کے حوالہ سے جموں  کشمیر میں  اچھا ردعمل  سامنے آیا ہے۔ تقریبا زندگی کے ہر شعبہ سے وابستہ  لوگوں  نے وفد سے ملاقات کی ۔مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ  وہ   دفعہ تین سو ستر کی منسوخی کے  حوالہ سے  انہیں کو ئی  مایوسی نہیں ہے  بلکہ وہ  پاکستان  کی دخل اندازی کے بغیر  آگے  بڑھنا چاہتے ہیں ۔ محمد الطاف  بخاری اور غلام حسن میر کے نئے سیاسی فرنٹ  کے ایک وفد نے بھی سفیروں سے ملاقات کی۔۔۔۔

First published: Jan 10, 2020 02:12 PM IST