உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ہندستان کی نئی حکمت عملی سے جنوبی ایشیا میں ختم ہو جائے گی چین کی بادشاہت!

    وزیر خارجہ ایس جئے شنکر کی فائل فوٹو

    وزیر خارجہ ایس جئے شنکر کی فائل فوٹو

    جنوبی ایشیا میں چین کے بڑھتے اثر کے پیش نظر ہندستان اور جاپان نے پڑوسی ملکوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کے منصوبے پر غور کرنا شروع کر دیا ہے۔ ہندستان اپنے پڑوسی ملک سری لنگا، بنگلہ دیش اور میانمار جیسے ملکوں کے ساتھ مل کر چین کی بادشاہت کو ختم کرنا چاہتا ہے۔ ہندستان کے اس قدم کو چین کی توسیع پسند پالیسی کے خلاف اٹھایا گیا قدم مانا جا رہا ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
      نئی دہلی۔ جنوبی ایشیا میں چین (China) کے بڑھتے اثر کے پیش نظر ہندستان (India) اور جاپان (Japan) نے پڑوسی ملکوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کے منصوبے پر غور کرنا شروع کر دیا ہے۔ ہندستان اپنے پڑوسی ملک سری لنگا، بنگلہ دیش اور میانمار جیسے ملکوں کے ساتھ مل کر چین کی بادشاہت کو ختم کرنا چاہتا ہے۔ ہندستان کے اس قدم کو چین کی توسیع پسند پالیسی کے خلاف اٹھایا گیا قدم مانا جا رہا ہے۔ اسی کے ساتھ چین کے خلاف تیار اس حکمت عملی کو ہندستان اور جاپان کی مضبوط ہوتی گٹھ جوڑ کی علامت مانا جا رہا ہے۔ اس پورے معاملے میں وزیر خارجہ ایس جئے شنکر نے کہا کہ دونوں ملکوں نے تیسرے ملکوں میں کام کرنے کے رویہ جاتی پہلووں پر کام کرنا شروع کر دیا ہے۔

      وزیر خارجہ ایس جئے شنکر نے چین کے ساتھ جاری کشیدگی کے درمیان بتایا کہ ہندستان اور جاپان نے حال ہی میں فوجی تعاون کو لے کر ایک سمجھوتے پر دستخط کئے ہیں۔ بحرہند اور بحرالکاہل میں ابھی جس طرح کے حالات ہیں وہ دونوں ملکوں کی سوچ کا پتہ دیتے ہیں۔ دونوں ملکوں نے مل کر جس طرح کے سمجھوتے پر بات کی ہے، اس سے بلاشبہ ایشیا میں سیکورٹی اور استحکام کو اور مضبوطی ملے گی۔ صنعتی چیمبر فکی کی طرف سے منعقدہ ایک کانفرنس میں بولتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ایشیا کے بڑے اور اہم ملکوں کو متحد ہو جانا چاہئے۔

      انہوں نے کہا کہ ایک دوسرے کے تئیں مشتبہ رہ کر کسی بھی ملک کو کوئی فائدہ نہیں ہونے والا ہے۔ وزیر خارجہ کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب ہندستان اور چین کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے۔ ایسے میں ہندستان کی پڑوسی ملکوں کے ساتھ کی جا رہی قلعہ بندی کو چین کی طاقت ختم کرنے کی سمت اٹھایا گیا قدم بتایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عالمی سیاست میں ایشیا کو اور اونچا مقام دلانا ہے تو ایشیا کے سبھی بڑے ملکوں کو ایک ساتھ آگے آنا ہو گا۔
      Published by:Nadeem Ahmad
      First published: