ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

لکھنؤ: سی اے اے مخالف احتجاج، ملک کونفرت کےاندھیروں کی نہیں، محبت اور روشنی کی ضرورت

لوہیا چوک سے اسمبلی تک نکالےجانے والےاس مارچ کو پولس نے راستےمیں ہی روک دیا اور اسے اپنی منزل تک نہیں پہنچنےدیاگیا۔ اس موقع پر عزیز قریشی نے مارچ کی قیادت کی۔

  • Share this:
لکھنؤ: سی اے اے مخالف احتجاج، ملک کونفرت کےاندھیروں کی نہیں، محبت اور روشنی کی ضرورت
سابق گورنر عزیزقریشی نے لکھنؤ میں سی اے اے مخالف مارچ کی قیادت کی۔

اس ملک کو نفرت کے اندھیروں کی نہیں روشنی کے اجالوں کی ضرورت ہے۔ اگر لوگوں کو اپنی بات بھی نہیں کہنے دی جائےگی تو ملک بکھر جائے گا۔ یہ احساس اور جذبات منسوب ہیں لکھنئو کے ان لوگوں سے جو سی اے اے اور این آر سی کو اندھیرے سے تعبیر کرتے ہوئے مخالفت میں احتجاج ومظاہرہ کر رہے ہیں۔ لکھنئو میں اتر پردیش واترا کھنڈ کے سابق گورنر معروف دانشور عزیز قریشی کی قیادت میں بنام امن کینڈل مارچ نکالاگیا۔ لوہیا چوک سے اسمبلی تک نکالےجانے والے اس مارچ کو پولس نے راستے میں ہی روک دیا اور اسے اپنی منزل تک نہیں پہنچنےدیاگیا۔ اس موقع پر عزیز قریشی کی قیادت میں سینئر آئی اے ایس پروین طلحہ، معروف سماجی کارکن معراج حیدر، سماجی کارکن ڈاکٹر وجاہت فاروقی اور پرینکا سمیت سینکڑوں لوگ شریک ہوئے۔

اپنی بزرگی اور معذوری کے باوجود سابق گورنر عزیزقریشی نےاس مارچ کی قیادت کرتے ہوئے واضح کیاکہ خواتین نے انقلاب کی تاریخ میں ایک روشن باب کا اضافہ کردیاہے۔ مرکزی اور ریاستی حکومت جس انداز سے ملک کےآئین ودستورکی روشن قدروں کو پامال کررہی ہے، اس تناظر میں تعصب اور جہالت کے اندھیرے کو مٹانےکےلئے روشنی کے سفرکو منظم کیاگیاہے۔ آج ملک کےلوگوں کومذہب کےنام پرجنگ وجدل اور اندھیرے نہیں بلکہ وہ روشنی چاہئے، جس میں ملک سے نفرت اور محبت کرنے والوں کے چہرے صاف دکھائی دے سکیں۔ روشنی پھیلانے والے لوگ چاہتے ہیں کہ اس ملک میں سبھی طبقوں اور مذاہب کے لوگوں کو برابرکےحقوق حاصل ہوں۔ ہندوستان کی روشن روایتیں اور گنگاجمنی ایکتا ہمیشہ زندہ وتابندہ رہے ۔۔۔۔۔۔عزیز قریشی نے یہ بھی کہاکہ جو پالیسی موجودہ حکمران اپنا رہے ہیں وہ ملک کو مذہب کے نام پر تقسیم کرنے  کے لئے راہیں ہموار کررہی ہے لہٰذا انہی پالیسیوں کی مخالفت میں اس کینڈل مارچ کا اہتمام کیاگیا ہے


لوہیا چوک سے اسمبلی تک نکالےجانے والے اس مارچ کو پولس نے راستے میں ہی روک دیا اور اسے اپنی منزل تک نہیں پہنچنےدیاگیا۔
لوہیا چوک سے اسمبلی تک نکالےجانے والے اس مارچ کو پولس نے راستے میں ہی روک دیا اور اسے اپنی منزل تک نہیں پہنچنےدیاگیا۔


پروین طلحہ نے بھی مارچ کے دوران اظہار کرتے ہوئے صاف طور پر کہاکہ ملک کو جس سمت میں لے جایا جارہاہے وہ تشویشناک ہے۔ وہ ملک جس کے مذہبی اتحادکی مثالیں پوری دنیا میں دی جاتی تھیں آج دنیا کےسامنے ارباب سیاست کی غلط پالیسیوں کے سبب شرمسار ہے۔ اس منظرنامےکو بدلنےکےلئے ہی سیکولرزم میں یقین رکھنے والے لوگ روشنی کے سفیر بن کر گھروں سے باہر نکل پڑے ہیں۔ یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ جیسے ہی مارچ کرتے ہوئے لوگآگے بڑھتے ہوئےاسمبلی کا رخ کررہے تھے انہیں پولس اہل کاروں نے راستے میں ہی روک دیا۔۔۔پولس اہلکاروں سے جرح کے درمیان مظاہرین گرفتاری درج کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے آگے بڑھتے رہے اور پھر سابق گورنر عزیز قریشی سے گفت وشنید کے بعد مظاہرے کو اسمبلی پہنچنے سے پہلے ہی راستے میں ختم  کردیاگیا۔۔پولس کے اس عمل پر مظاہرین نے غم وغصے کا اظہار تو کیا تاہم عزیز قریشی کی قیادت میں سب خاموش رہے۔۔۔خواتین نے یہ پولس اہلکاروں سے یہ بھی کہاکہ ایک طرف تو کھلے عام گولیاں چلائی جارہی ہیں اور پولس خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے دوسری جانب امن پسند لوگوں کو خاموش احتجاج کرنے ، اپنی بات کہنے کا بھی حق نہیں دیاجارہاہے۔

 
First published: Feb 03, 2020 11:21 PM IST