ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

الوداع! نم آنکھوں سے پرنب دا کو دی گئی آخری وداعی، مرکزی حکومت نے سابق صدرجمہوریہ کے اعزاز میں سات روزہ قومی سوگ کا کیا اعلان

پرنب مکھرجی کی آج بروز منگل یہاں قومی دارالحکومت میں واقع لودھی روڈ شمشان میں مکمل فوجی اعزاز کے ساتھ آخری رسوم ادا کر دی گئیں۔ مرکزی حکومت نے ان کے اعزاز میں سات روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا ہے۔

  • Share this:

سابق صدرجمہوریہ پرنب مکھرجی کی آخری رسومات منگل کے روز یہاں لودھی روڈ کے شمشان گھاٹ میں مکمل فوجی اعزاز کے ساتھ ادا کی گئیں۔ پرنب مکھرجی کے جسد خاکی کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے آج صبح 10 بجے راجاجی مارگ پر واقع ان کی سرکاری رہائش گاہ پر لایا گیا۔ صدرجمہوریہ رام ناتھ کووند، نائب صدر وینکیا نائیڈو اور وزیر اعظم نریندر مودی نے یہاں سابق صدر جمہوریہ کو خراج عقیدت پیش کیا۔ پرنب مکھرجی کا پیر کے روز 84 سال کی عمر میں انتقال ہوگیا تھا۔ وہ کئی دنوں تک فوج کے آر اینڈ آر اسپتال میں بھرتی تھے۔ مرکزی حکومت نے ان کے اعزاز میں سات روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا ہے۔


سابق صدر جمہوریہ پرنب مکھرجی کی فوجی اعزاز کے ساتھ آخری رسومات ادا کی گئیں۔ سابق صدر جمہوریہ پرنب مکھرجی کی آج بروز منگل یہاں قومی دارالحکومت میں واقع لودھی روڈ شمشان میں مکمل فوجی اعزاز کے ساتھ آخری رسومات ادا کر دی گئیں۔ آخری رسوم پرنب مکھرجی کے بیٹے ابھیجیت مکھرجی کے ہاتھوں ادا کی گئی۔ سماجی دوری کے ضابطوں اور دیگرکووڈ- 19 پروٹوکول کا لحاظ رکھتے ہوئے آنجہانی پرنب مکھرجی کی آخری رسوم ادا کی گئیں۔


پرنب مکھرجی کے انتقال کے ساتھ ہی ہندوستانی سیاست کی ایک اہم باب ہمیشہ کیلئے بند ہوگیا ۔ اپنے طویل سیاسی زندگی میں وہ آل انڈیا کانگریس پارٹی کے سینئر رہنما تھے اور مختلف وقتوں میں حکومت ہند میں کٸی اہم وزارتوں کے فرائض انجام دے چکے ہیں ۔ 25 جولاٸی 2012 کو پرنب مکھرجی نے ہندوستان کے تیرہویں صدر کا عہدہ سنبھالا ۔ 2012 کے صدارتی انتخابات سے قبل پرنب مکھرجی حکومت ہند کے وزیر خزانہ تھے ۔ جب بھی کانگریس میں کوٸی اختلاف اور تنازع ہوتا تھا تو تو پرنب مکھرجی ہی سامنے آکر اس کو حل کرتے تھے ۔ انہیں سنکٹ موچک کے طور پر جانا جاتا تھا ۔


سابق صدر جمہوریہ پرنب مکھرجی کے انتقال کے ساتھ ہی ہندوستانی سیاست کی ایک اہم باب ہمیشہ کیلئے بند ہوگیا ۔

1969 میں سابق وزیر اعظم اندراگاندھی کا اعتماد حاصل کرتے ہوئے وہ پہلی مرتبہ راجیہ سبھا کیلئے منتخب ہوئے تھے اور پھر ان کے آگے بڑھنے کا سفر جاری رہا ۔ انہیں کانگریس نے کٸی اہم ذمہ داریاں دیں اور وہ پوری ایمانداری کے ساتھ اپنے فرائض کو نبھاتے رہے ۔ انہیں سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کے ایک وفادار ساتھی کے طور پر بھی پہچان ملی ۔ 1973 میں انہیں اندرا گاندھی کی کابینہ میں نشست ملی ۔ 1985، 1981، 1993 اور 1999 میں راجیہ سبھا کے لئے بھی منتخب ہوئے تھے۔ 1982–84 کے درمیان وہ وزیر خزانہ تھے ۔ انہوں نے بین الاقوامی سطح پر بھی کٸی اہم معاہدوں میں اہم رول ادا کیا ہے ۔

ہند ۔ امریکی سول جوہری معاہدہ پر دستخط میں بھی پرنب مکھرجی کا رول اہم تھا ۔ پارٹی سے وفاداری اور دانشمندی سے بنگالی سیاستدان کی کانگریس پارٹی اور پارٹی کے باہر بھی انہیں خاص عزت و مقام حاصل تھا ۔ ہندوستانی سیاست میں اہم کردار ادا کرنے کی وجہ سے انہیں ہندوستان کا سب سے اعلی شہری ایوارڈ بھارت رتن ، پدم بھوشن اور بہترین ممبر آف پارلیمنٹ کا ایوارڈ مل چکا ہے ۔

پرنب مکھرجی کو دیگر ممالک کے بھی کئی سارے اعزازات اور ایوارڈز مل چکے ہیں ۔ 1984 میں پرنب مکھرجی کو یوروانی نے دنیا کا بہترین وزیر خزانہ نامزد کیا تھا ۔ 2010 میں انہیں ورلڈ بینک اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے روزنامہ ایمرجنگ مارکیٹس نے ایشیا کا سب سے بہترین وزیر خزانہ کے ایوارڈ سے نوازا تھا ۔ پرنب مکھرجی کو 2006 میں ملک کے لئے نمایاں کامیابیوں پر ہندوستان کا دوسرا اعلی شہری اعزاز پدم وبھوشن سے نوازا گیا تھا ۔ 2011 میں یونیورسٹی آف ولور ہیمپٹن نے انہیں ڈاکٹر آف لیٹرز کی اعزازی ڈگری سے نوازا ۔ 2012 میں آسام یونیورسٹی اور ویسویشوریا یونیورسٹی آف ٹکنالوجی کی جانب نب سے ڈی لیٹ کی ڈگری سے نوازا گیا تھا ۔

سال 2013 میں پرنب مکھرجی کو بنگلہ دیش کا دوسرا اعلی سول ایوارڈ ”بنگلہ دیش لبریشن جنگ ایوارڈ“ سے نوازا گیا تھا ۔ 2013 میں انہیں ماریشیس یونیورسٹی نے ڈاکٹر آف لاء کے ایوارڈ سے نوازا تھا ۔ 2019 میں پرنب مکھرجی کو ہندوستان کے سب سے اعلی اعزاز بھارت رتن سے نوازا گیا تھا ۔ 2008 میں وزیر خارجہ کی حیثیت سے پرنب مکھرجی نے امریکی صدر جارج ڈبلیو بش اور امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس کے ساتھ سیکشن 123 کے معاہدے کٸے تھے۔
Published by: sana Naeem
First published: Sep 01, 2020 03:00 PM IST