ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

کارگر نہیں ، کورونا کے علاج کی گائیڈلائن سے ہٹائی گئی پلازما تھیراپی

اب کئی اسٹڈیز کے بعد ایکسپرٹ پینل نے کہا ہے کہ پلازما تھیریپی کورونا کے علاج میں کارگر نہیں ہے ۔ یہ بیماری کو کم کرنے یا پھر موت کا اثر کم کرنے میں غیر موثر ہے ۔ اسی وجہ سے اس کو کورونا کے علاج کی گائیڈ لائنس سے ہٹا دیا گیا ہے ۔ یہ بات ذرائع کے حوالے سے پتہ چلی ہے ۔

  • Share this:
کارگر نہیں ، کورونا کے علاج کی گائیڈلائن سے ہٹائی گئی پلازما تھیراپی
کارگر نہیں ، کورونا کے علاج کی گائیڈلائن سے ہٹائی گئی پلازما تھیراپی

نئی دہلی : گزشتہ ایک سال سے کورونا کے علاج کے دوران پلازما تھیراپی کا استعمال کیا جاتا رہا ہے ۔ کورونا کی دوسری لہر کے دوران پلازما کی کالابازاری کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں ۔ حالانکہ ملک کے بڑے ایکسپرٹس کہتے ہیں کہ یہ تھیراپی ہر مریض میں میں کارگر نہیں ہے ۔ اب کئی اسٹڈیز کے بعد ایکسپرٹ پینل نے کہا ہے کہ پلازما تھیریپی کورونا کے علاج میں کارگر نہیں ہے ۔ یہ بیماری کو کم کرنے یا پھر موت کا اثر کم کرنے میں غیر موثر ہے ۔ اسی وجہ سے اس کو کورونا کے علاج کی گائیڈ لائنس سے ہٹا دیا گیا ہے ۔ یہ بات ذرائع کے حوالے سے پتہ چلی ہے ۔


یہ فیصلہ ایمس اور آئی سی ایم آر کے ایکسپرٹس کی سفارشات کی بنیاد پر کیا گیا ہے ۔ اس سے پہلے کووڈ نیشنل ٹاس فورس کی میٹنگ میں پلازما تھیریپی کو کارگر نہیں بتایا گیا تھا ۔ اس کے بعد ہی امید کی جارہی تھی کہ تھیریپی کو علاج کے پروٹوکول سے ہٹایا جاسکتا ہے ۔ ایمس کے ڈائریکٹر رندیپ گلیریا بھی پلازما تھیریپی پر اپنی رائے دے چکے ہیں ۔ انہوں نے کہا تھا کہ اسٹڈیز بتاتے ہیں کہ کورونا کے علاج میں پلازما تھیرپی کا کردار ایک حد تک ہی ہے ۔


دراصل تھیریپی کو علاج کے پروٹوکول سے ہٹائے جانے کا فیصلہ کچھ ڈاکٹروں اور سائنسدانوں کے خط کے بعد کیا گیا ہے ۔ ان لوگوں نے پرنسپل سائنٹفک ایڈوائزر کے وجئے راگھون کو لکھے خط میں تھیریپی کے غیر سائنسی استعمال کو لے کر خبردار کیا تھا ۔ یہ خط آئی سی ایم آر چیف بلرام بھارگو اور رندیپ گلیریا کو بھی بھیجا گیا تھا ۔


اس سے پہلے لینسیٹ جنرل کی ایک اسٹڈی میں بھی کہا جاچکا ہے کہ کورونا کے سنگین مریضوں میں پلازما تھیریپی کے استعمال سے کوئی خاص اثر نہیں دکھائی دیا ۔ اپنے خط میں یہ دلیل دینے کیلئے کہ پلازما تھیریپی پر ملک کی موجود گائیڈ لائنس ثبوتوں پر مبنی تھی تھے ، ایکسپرٹس نے تین اسٹڈی کا حوالہ دیا ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: May 18, 2021 12:35 AM IST