உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    New Labour Laws: ہفتے میں صرف چار کام کے دن لیکن ہر روز 12 گھنٹے ملازمت!

    سال 2020 میں تمام شعبوں میں زیادہ تر ملازمین کی تنخواہ میں اضافے پر غور کیا گیا ہے

    سال 2020 میں تمام شعبوں میں زیادہ تر ملازمین کی تنخواہ میں اضافے پر غور کیا گیا ہے

    چار دن کے ہفتے میں ملازمین کو 48 گھنٹے کام کے اوقات کو پورا کرنے کی ضرورت ہوگی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر روز آٹھ گھنٹے کام کرنے کے بجائے ان سے 12 گھنٹے کام کرنے کی توقع ہے۔

    • Share this:
      نئے لیبر کوڈز (new labour codes) کا نفاذ یکم جولائی سے متوقع ہے۔ یہ اپنے ساتھ ملک میں ورک کلچر میں ایک بڑی تبدیلی لائیں گے۔ کام کے اوقات سے لے کر ہاتھ میں ملنے والی تنخواہ تک یہ سب کچھ تبدیل ہونے کا امکان ہے اگر نئے قوانین نافذ ہوں گے، تو اس سے کس کو زیادہ فائدہ ہوگا؟ یہ سوچنے والی بات ہے۔

      نئی قوانین کونسی ہیں اور کیا تبدیلیاں ہوں گی؟

      مرکز نے 29 ستمبر 2020 کو چار لیبر کوڈز:

      اجرتوں کا ضابطہ (the Code on Wages)

      صنعتی تعلقات کا ضابطہ (Industrial Relations Code)

      سماجی تحفظ کا ضابطہ (Social Security Code)

      اور پیشہ ورانہ حفاظت، صحت اور کام کے حالات کوڈ (Occupational Safety, Health and Working Conditions Code) کو وضح کیا ہے۔

      تاہم ریاستوں کو ان قوانین کو اپنے اپنے دائرہ اختیار میں نافذ کرنے کے لیے چار ضابطوں کے تحت قوانین کو مطلع کرنے کی ضرورت ہے۔ صرف 23 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں نے اجرت کے ضابطہ کے تحت مسودہ قوانین کو شائع کیا ہے۔

      چار روزہ کام کا ہفتہ:

      مجوزہ نئے لیبر کوڈز کمپنیوں کو پانچ یا چھ کے بجائے چار کام کے دن رکھنے کی لچک فراہم کرتے ہیں لیکن چار کام کے دنوں کا مطلب کم کام نہیں ہے۔ کام کے دن کم ہونے کی صورت میں کام کے اوقات زیادہ ہوں گے۔

      چار دن کے ہفتے میں ملازمین کو 48 گھنٹے کام کے اوقات کو پورا کرنے کی ضرورت ہوگی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر روز آٹھ گھنٹے کام کرنے کے بجائے ان سے 12 گھنٹے کام کرنے کی توقع ہے۔

      کام کے دنوں میں کمی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ تعطیلات میں کٹوتی کی جائے۔ چار دن کام کرنے والوں کو ہر ہفتے تین چھٹیاں ملیں گی۔

      گھر لے جانے والی تنخواہ

      مزید پڑھیں: Film Based On History:کے آصف کی کرشمہ تھی’مغل اعظم‘،بدل دی تھی ہندوستانی سینما کی تاریخ

      نئے کوڈز کے تحت گھر لے جانے کی تنخواہ کم ہونے کی توقع ہے، کیونکہ ملازم اور آجر کے پراویڈنٹ فنڈ (PF) میں اضافہ ہوگا۔ PF کا حصہ مجموعی تنخواہ کا 50 فیصد ہونا ضروری ہے۔

      مزید پڑھیں: Swara Bhasker Death Threat:سلمان خان کے بعد سورا بھاسکر کو ملی جان سے مارنے کی دھمکی،لکھا’ویرساورکر کی توہین نہیں کریں گے برداشت‘



      موجودہ قوانین کے مطابق ایک نئے ملازم کو چھٹی لینے کے اہل ہونے کے لیے 240 دن کام کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ تاہم نئے لیبر کوڈز نے چھٹی کے اہل ہونے کے لیے نئے ملازم کے کام کے دنوں کی تعداد کو کم کر کے 180 دن کر دیا ہے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: