ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

دہشت گردی کے الزامات سے 4 مسلمان باعزت بری، پولیس اورتفتیشی ایجنسیوں کا گھناؤنا چہرہ بے نقاب ہوگیا: مولانا ارشد مدنی

جمعیۃ علماء مہاراشٹر اور اے پی سی آرتنظیم کے ذریعہ مقدمہ کی پیروی کئے جانے کے بعد یوپی حکومت کوسپریم کورٹ سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ 

  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
دہشت گردی کے الزامات سے 4 مسلمان باعزت بری، پولیس اورتفتیشی ایجنسیوں کا گھناؤنا چہرہ بے نقاب ہوگیا: مولانا ارشد مدنی
مولانا سید ارشد مدنی: فائل فوٹو

نئی دہلی:  سپریم کورٹ آف انڈیا نے آج یہاں چارمسلم نوجوانوں کو بڑی راحت دیتے ہوئے انہیں دہشت گردی جیسے سنگین الزامات سے باعزت بری کردیا۔ یہ اطلاع آج یہاں چار ملزمین سے تین ملزمین واصف حیدر، ممتازمختاراحمد اورشفت رسول کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی ) قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے دی جبکہ ایک ملزم حاجی عتیق احمد کے مقدمہ کی پیروی اے پی سی آر تنظیم نے کی۔


گلزاراعظمی کے مطابق سپریم کورٹ آف انڈیا کی دورکنی بینچ کے جسٹس این وی رمنا اور جسٹس موہن شانتا نوگودرا نے الہ آباد ہائی کورٹ کے ملزمین کو باعزت بری کئے جانے والے فیصلہ کے خلاف حکومت اترپردیش کی جانب سے داخل اپیل پر سماعت کرنے کے بعد اسے خارج کردیا۔  جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے سینئرایڈوکیٹ کامنی جیسوال، ایڈوکیٹ آن ریکارڈ ارشاد حنیف اوران کے معاونین ایڈوکیٹ عارف علی اورایڈوکیٹ مجاہد احمد نے پیروی کی۔ دو رکنی بینچ نے اپنے فیصلہ میں کہا کہ الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلہ میں انہیں ایسی کوئی بھی خامی نظر نہیں آتی، جس پرنظرثانی اورفیصلہ کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔  تفصیلی فیصلہ جلد ہی ملزمین اور وکلاء کو مہیا کردیا جائے گا۔


الہ آباد ہائی کورٹ نے بھی کیا تھا بری


واضح رہے کہ 16 مارچ 2001 کوکانپورمیں فساد برپا کرنے اورپولس اہلکاروں پرحملہ کرنے کے الزامات کے تحت تحقیقاتی ایجنسی نے ملزمین واصف حیدر، ممتاز مختار احمد،حاجی عتیق حاجی رشید احمد اور شفت رسول کو تعزیرات ہند کی دفعات 302,307,395,147,149,427,436,153-A کے تحت

مقدمہ قائم کیا تھا۔  نیزملزمین کے قبضہ سے بندوق اور دیگر ممنوعہ ہتھیار ضبط کرنے کا بھی دعو ی کیاتھا، جس سے انہوں نے پولس افسرایس پی پاٹھک کا قتل کیا تھا۔ قابل ذکر ہے کہ کانپورمیں قرآن شریف کو جلانے کے خلاف احتجاج کے دوران فرقہ وارانہ فساد پھوٹ پڑا تھا جس میں دونوں فرقوں کی جانب سے 18 لوگ ہلاک اورسینکڑوں زخمی ہوئے تھے۔ چارج فریم ہونے کے بعد نچلی عدالت میں ملزمین کے مقدمات کی سماعت چلی جہاں انہیں22 جنوری 2004 کو عمرقید کی سزا ہوئی، لیکن نچلی عدالت کے فیصلہ کوالہ آباد ہائی کورٹ نے 29 مئی 2009 کو تبدیل کرتے ہوئے ملزمین کو باعزت بری کئے جانے کے احکامات جاری کئے تھے۔

جمعیۃ علما ہند نے بتایا سازش
جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے سپریم کورٹ کے فیصلے کا کھلے دل سے استقبال کرتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے نے ایک بار پھرہماری اس بات کی تصدیق کردی کہ کس طرح قانون اور انصاف کی اعلیٰ قدروں کو پامال کرتے ہوئے کہانیاں گڑھ کرمسلم نوجوانوں کو دہشت گرد ثابت کرنے کی سازشیں ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے باربار حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ اس خطرناک سازش کا پردہ چاک کرنے اور بے گناہ لوگوں کو انصاف فراہم کرنے کے لئے اس طرح کے معاملوں کی غیرجانبدارانہ اورشفاف تفتیش کرائی جانی چاہئے اورجو افسران اس سازش میں ملوث پائے جائیں انہیں عبرت ناک سزائیں دی جائیں۔

 معاوضہ اوربازآبادکاری کا مطالبہ

متأثرین کے لئے معاوضے اور بازآبادکاری کا نظم ہومگرافسوس صد افسوس ہمارے اس مطالبے پر کسی نے توجہ نہیں دی۔ مولانا ارشد مدنی نے مزید کہا کہ جو نوجوان اس سازش کا شکار بنائے جاتے ہیں انہیں جب تک انصاف ملتا ہے ان کی زندگیاں تباہ ہو چکی ہوتی ہیں، اور یہ انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی اورظلم ہے کہ کسی بے گناہ پر محض ایک الزام لگا کراس کی پوری زندگی تباہ کردی جائے اورحکومتیں خاموش تماشائی بنی رہیں۔ انہوں نے اس امرپربھی گہری تشویش کا اظہار کیا کہ اس طرح کے معاملوں میں جب کوئی گرفتاری ہوتی ہے توملک کا میڈیا کسی ثبوت کے بغیراسے خطرناک دہشت گرد بناکرعوام کے سامنے پیش کرتا ہے اورگرفتاری کرنے والے افسران کی خوب خوب قصیدہ خوانی کی جاتی ہے مگرجب اس گرفتاری کا جھوٹ عدالتوں میں بے نقاب ہوتا ہے اوربے گناہوں کو باعزت رہائی ملتی ہے تو میڈیا اس کی ایک لائن کی خبر تک نہیں دکھا تا۔انہوں نے کہا کہ کیا یہ امتیاز اور تعصب کی بدترین مثال نہیں ہے؟

ریاستی حکومت نے کیا تھا چیلنج
واضح ہو کہ الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے سے ملزمین کو بڑی راحت مل گئی تھی اوروہ دس برس کی جیل کے صعوبتیں برداشت کرنے کے بعد جیل سے رہا ہوئے تھے، لیکن ان کے مقدمہ سے باعزت بری ہونے کے چند ماہ بعد ہی ریاستی حکومت نے ان کی رہائی کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا جہاں مقدمہ کی سماعت تقریباً 8  سال تک چلتی رہی اورآج بالآخرملک کی سب سے بڑی عدالت سے ان بے گناہوں کو انصاف حاصل ہوا۔

یہ بھی پڑھیں:  فرقہ وارانہ فسادات معاملہ میں جمعیۃ علما ہند کی کوشش سے دونوجوان باعزت بری

یہ بھی پڑھیں:  دہشت گردی کے الزامات سے 17 مسلم نوجوان باعزت بری، ابھی انصاف مکمل نہیں ہوا: مولانا ارشد مدنی

یہ بھی پڑھیں:   دہشت گردی کے الزام سے4 مسلم نوجوانوں کی باعزت بری کا ریکارڈ مدت میں فیصلہ قابل ستائش : ارشد مدنی
First published: Dec 10, 2018 08:38 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading